پیشے اور ذاتیں

پیشے اور ذاتیں

فرحت قاضی، پشاور

اسلام تو برابری سکھاتاہے۔

اسلام تو برابری سکھاتاہے۔

اس نے مجھے جولاہا، کمہار، چمار اور پھر نائی کہااور وہ یہ سب کچھ غصہ سے آگ بگولا ہوکر کہتا چلا گیا میں سنتا اور سوچتا رہا یہ تو پیشے ہیں بالآخران پیشوں کو گالیاں کس نے بنادیا؟
نائی،چمار،لوہار،بھنگی،کمہار،درزی،دھوبی،جولاہا اورسناریہ تمام پیشے ہیںیاد رہے کہ ہمارا صوبائی دارالحکومت اور تاریخی شہرپشاور پیخور خوپیخور دے کنہ پیشہ آور سے بنا ہے اور اس کی وجہ تسمیہ اور شہرت بھی گوناگوںپیشے ہی تھ
جاگیر دارانہ نظام میں سماج طبقات میں بٹا ہوا تھا چنانچہ اگر جاگیردار طبقہ تھا تو درمیانہ طبقہ اور کسب گر افراد پر مشتمل طبقہ بھی تھا جاگیر دار کو اس کی جائیدادنے سب کچھ بخشا ہواتھا لیکن جن خاندانوںکے پاس اپنی گزر اوقات اور دو وقت پیٹ بھرنے کے لئے زمین اورجائیداد نہیں تھی انہوں نے ان میں سے کوئی سا ایک پیشہ اختیار کر لیا رفتہ رفتہ باپ کا پیشہ بیٹے نے اپنا لیا اور یوں وہ پیشہ یا ہنراس کنبے کا ذریعہ روزگاربن گیا جبکہ بعدازاں وہ اسی پیشے سے پہچانا جانے لگا اس طرح پیشہ ذات میں بدل گیا
یہ تمام پیشے پیداواری پیشے ہیں نائی بال بنواتا اور سنوارتا ہے چمار جوتے سازی میں مصروف رہتا ہے لوہار لوہے کو پگھلاکراس سے طرح طرح کی اشیاء بناتا ہے بھنگی صبح سویرے جھاڑو دیکر محلہ اور شہر کو صاف کرتا ہے اور کمہار برتن بناتا ہے ان تمام پیشوں کی اپنی اہمیت اور افادیت ہے اور کوئی بھی سماج ان کو نظرانداز کر کے تہذیب و تمدن اور ترقی کی راہ پر گامزن نہیں ہوسکتا نائی نہ ہوتا تو ہمارے بال ٹخنوں اورپیروں کی نوک تک پہنچ جاتے اسی جولاہا نہ ہوتا کپڑا کو ن بنتا اور درزی نہ ہوتا تو بھلا ہمارے کپڑے کون سیتا کیا

caste_system_india_cpi_maoist
پردہ پوشی کے ساتھ حیا اور شرم کے تصورات اسی طبقہ نے اپنے مفادات کے تحت باندھ لئے تھے غرضیکہ ان تمام پیشوں کی اپنی افادیت ہے
کیاآپ ان کے بغیر ایک معاشرے کا تصور کرسکتے ہو؟
اگر آپ کے محلے کی دو دن صفائی نہ ہو تو اخبارات میں متعلقہ ادارے کی کارکردگی اور صفائی کی صورت حال پر انتظامیہ کے کپڑے اتار دیتے ہو پرانے معاشروں میں صرف ان ہی پیشوں کے لوگ نہ تھے بلکہ بعض اپنی زبان، علم اور معلومات کے ذریعہ بھی پیسہ کماتے تھے چنانچہ کوئی کسی درخت کے سائے میںبیٹھا تعویز بنا رہا ہے تو کوئی فٹ پاتھ پر بیٹھا ہاتھ کی لکیریں بغور دیکھ کر راہ گیروں کو ان کی قسمت کا حال بتا رہا ہے جبکہ مذہبی پیشوا رعیت کو مذہب اوراخلاقیات کی تعلیمات سے نواز کر اپنے اوربچوں کے لئے رزق پیدا کر رہا ہے
یہ ایک روزمرہ صداقت ہے کہ ترازو کا ایک پلڑا بھاری کیا جائے تو دوسرا خود بخود ہلکا ہو جاتا ہے جاگردار طبقہ نے اپنی جائیداد کو خدا کی طرف سے ودیعت کر دہ اور خود کو سماج کا اہم انسان ثابت کرنے کے لئے ان تمام طبقوںکی قدر وقیمت کم کرنا تھی اور اس نے ایسا ہی کیا البتہ اس نے بعض طبقات یا پیشوں کو تو نہایت پست اور ذلیل قراردیا اور بعض کی افادیت کم ظاہر کی گو کہ ایک آدھ کو معاف کر دیا لیکن پوری طرح اسے بھی نہیں بخشا
یہ سب کچھ کیسے ہوا یہ تو آپ جانتے ہیں بیٹا باپ ،بیٹی ماں اور ملازم اپنے مالک کی نقالی کرتے ہوئے خودکو اس کے سانچے میں ڈھال لیتا ہے جاگیردار طبقات نے چونکہ ان پیشوں سے وابستہ افراد کو سماج میں کم تر دکھانا تھا لہٰذا جب وہ کسی لوہارکو بلاتا تو اسے لوہار کا بچہ اور درزی کو درزی کا بچہ کہہ کر اس کی سماج میں وقعت کو کم کرتا گیا حتیٰ کہ اس نے ان کو اتنا نیچا گرا دیا کہ یہ پیشے نہیں رہے بلکہ گالی بن گئے
چونکہ نوکر اپنے آپ کو مالک کے رنگ ڈھنگ میں ڈھال لیتا ہے اور اس کی کرسی پر بیٹھ کر خود کو مالک تصور کرتاہے لہٰذا ان پیشوں سے وابستہ افراد نے بھی ایک دوسرے کو جاگیردار کی نظروں سے دیکھنا شروع کردیا اس طرح اپنے کو کمینہ، ذلیل اور سماج کا کمتر فرد یا خاندان اور اپنے پیشہ اور طبقہ کو بھی نیچ اورکم ترظاہر کرنے میں انجانے طور پر اس کا ساتھ دیا چنانچہ لوہار اپنا تائونائی پر اتارتا تو اسے ماں اور بہن کی گالی کے ساتھ نائی پن کا طعنہ بھی دیتا اور وہ بھی جواباً غصہ میں اسے لوہار یا لوہار کا بچہ یا نچلی ذات کا ایک فرد ثابت کرنے پراپنا زورصرف کر دیتا
جاگیردار طبقہ کا ان پیشوں کو گالی کی حد تک پہنچانے کا ایک اہم سبب یہ بھی تھا کہ لوگ ایسا پیشہ یا پیشے نہ اپنائیںجن سے وہ اس کی غلامی سے نکل کر خود انحصاری کی راہ پر چل پڑیں جبکہ یہ پیشے ان کسب گروںکو جاگیردار طبقہ کی غلامی سے نسبتاً آزاد کردیتے تھے ان کو اختیار کرنے سے ان میں خود انحصاری کے ساتھ ساتھ خود اعتمادی پیدا ہوتی تھی لہٰذا اس نے ان پیشوں کو ہی نہایت پست،گندا اور نیچے گرا دیا البتہ کاشتکار، باڈی گارڈ،چوکیدار،فوجی اور مذہبی پیشوا چونکہ اس کی اور اس کے کنبے کی پیداوار بڑھاتے ،جان اور جائیداد کی حفاظت کرتے تھے اس لئے ان پیشوں کو اولالذکر کی مانند پست تو نہیں کیا مگر کلی طور پر ان کو بھی معاف نہیں کیا
ہماری جاگیردارانہ اخلاقی اقدار،کہانیاں اور ادب ان ہی حقائق کی عکاسی کرتے ہیںجاگیردار کو جن اقدار سے فائدہ پہنچتا تھا اسے پیاری اور عزیز تھیں انہیں تو تقدس کا لبادہ اوڑھا کر آسمان تک پہنچا دیا جن سے نقصان پہنچنے کا احتمال تھا انہیں پاتال میں پھینک دیا
سرمایہ دارانہ نظام جس سماج میں جوں جوں سرایت کرتا جاتا ہے وہ جاگیردار اور محنت کش کا رشتہ پاٹ رہا ہے وہاں نئے پیداواری رشتے جنم لے رہے ہیں تو نئی اخلاقی قدریں بھی پھوٹ رہی ہیں حتیٰ کہ نئے ادبی رحجانات بھی سانس لیتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں
ہم اپنے سماج میں دبے دبے قدموں سے بڑھتے ہوئے نئے رحجانات اور مٹتی ہوئی پرانی سماجی اور اخلاقی قدروں پر بعض طبقوں کے ماتم سے اس حقیقت کا اندازہ لگاسکتے ہیں
کا رل مارکس اور فریڈرک اینگلس نے مغرب اور یورپی ریاستوں میں آنے والی ان تبدیلیوں کو بہت پہلے دیکھ لیا تھا اور اسی سے یہ نتیجہ نکالا کہ جاگیردارانہ کی مانند سرمایہ دارانہ نظام بھی محنت کشوں کے استحصال پر استوار ہے اور پھر ان دونوں نے ملکرداس کیپٹال اور کمیونسٹ پارٹی کا مینی فسٹو لکھ کر مزدور طبقہ کو دنیا کی کایا پلٹنے کی دعوت دیتے ہوئے کہا:
”دنیا بھر کے مزدورو! متحد ہوجائو
تمہیں اس جنگ میں اپنی زنجیروں کے سوا کھونا ہی کیا ہے”
جب کہ ان سے بھی شاید پہلے رو سو نے اپنی تصنیف ”معاہدہ’ عمرانی” کی ابتداء ہی ان الفاظ سے کی:
” انسان تو آزاد پیدا ہوتا ہے لیکن ہر جگہ زنجیروں میں جکڑا نظر آتا ہے”
مختصر یہ کہ نئے دور خصوصاً مار کسی فلسفہ نے یہ نیا تصور دیا کہ دنیا سر کے بل کھڑی ہے اور اس کو صرف مزدور طبقہ ہی پائوں کے بل پر کھڑا کرسکتا ہے اس فلسفہ نے ان ”نیچ” محنت کشوں کو معاشرے میں اپنی اہمیت کا احساس دلایا اور جن ممالک کے مزدور طبقہ نے اس حقیقت کو پالیا اس نے اپنے ملکوں میں انقلاب بپا کرکے وہاں کے بالادست طبقات سے عنانِ حکومت لے لی
ہم قبائلی’ جاگیردارانہ اور نیم سرمایہ دارانہ دور میں سانس لے رہے ہیں لہٰذا ہمارے منہ اور زبان سے بھی اکثر و بیشتر غصہ کے عالم میںایسے الفاظ نکل جاتے ہیں جو یہ بتاتے ہیں کہ ہم نے تاحال ذہنی طور پر بالادست طبقات کی ان فرسودہ قدروں کو گلے سے لگایا ہوا ہے یا پھر ہمارے لاشعور میں ماضی کی باقیات ہیں
بعض معاشروں میںآج بھی کسب گر اپنے ناموںکے ساتھ اپنا پیشہ لکھتے اوربولتے ہیں آپ نے کراچی کے اخبارات میں نام کے ساتھ کپڑا بیچنے والا اوربرتن بنانے والا بھی دیکھا اور پڑھا ہوگا
متحدہ ہندوستان میں مسلمانوں کو ہندوئوں سے دور رکھنے کے لئے ہندوئوں کے ساتھ ہندو بنیا کہنا بھی شروع کیا گیاجس کا انجام یہ ہوا کہ ہندو کے ساتھ ساتھ مسلمان تجارت سے بھی فاصلہ کرتا گیا اور انگریزوں کی ملازمت میں جانے پر فخر کرنے لگا یہ رحجانات پاکستان میں اس کے باسیوں میں آج بھی دیکھے جاسکتے ہیں
بہر کیف،یہ پیشے والی گالیاںصرف ہمارے معاشرے میں ہی نہیں بلکہ ترقی یافتہ ممالک میں بھی رنگ’ نسل’ مذہب اور علاقہ کی تمیز و امتیاز کے ساتھ موجود ہیں سوویت روس وہ پہلی ریاست تھی جس نے اپنے قومی پرچم پر ہتھوڑا اور درانتی بناکر محنت کش طبقہ کو عزت اور قدر کا مقام دیا اور دنیا کو بھی بتادیا کہ اس مقام کا کون حق دار ہے