Chaudhry Tariq Bashir

Chaudhry Tariq Bashir

Average Reviews

Description

چوہدری طارق بشیر ( آئی ٹی پروگرام آفیسر ایجوکیشن بورڈ گورنمنٹ آف آزاد جموں و کشمیر ، فوکل پرسن برائے پی ایم پورٹل پی ایم ڈی یو وزیراعظم پاکستان) منڈی بہاوالدین سے سرگودھا روڈ پہ گوجرہ سے چند کلو میٹر آگے ایک تاریخی گاؤں چک نمبر 26 ہے ۔ اس گاؤں کی معروف سیاسی و سماجی شخصیت چوہدری محمد بشیر گجر تھے ۔جو کہ گوجرہ بازار میں کپڑے کے تاجر تھے۔ چوہدری بشیر احمد گجر کے والد صوبیدار غلام حسین کا تعلق کشمیر سے تھا وہ 1947 میں ہجرت کر کے منڈی بہاوالدین آئے تھے۔ جنہوں نے بعد میں پاکستان آرمی میں جنگ 1948 ، 1965 اور 1971 میں اپنے ملک کا دفاع کیا پاکستان آرمی نے ان کو تمغہ جنگ کشمیر 1948, ستارہ جنگ 1965 سے نوازا۔ چوہدر طارق بشیر نے ابتدائی میٹرک تک تعلیم گورنمنٹ ہائی سکول چک نمبر 26 سے حاصل کی ، 2001 میں میٹرک کے بعد گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج میرپور ایف ایس سی میں داخلہ لیا جہاں سے ڈگری امتیازی نمبروں سے پاس کی۔ طارق بشیر کو شروع سے کمپیوٹر کی تعلیم کا شوق تھا ۔ ان دنوں پاکستان کے مختلف شعبہ جات میں کمپیوٹرکا استعمال تیزی سے بڑھ رہا تھا۔ طارق بشیر نے یونیورسٹی آف آزاد جموں و کشمیر مظفرآباد سے 2008 میں بی ایس سی ایس کی ڈگری اے گریڈ میں پاس کی ۔ گریجوایشن کے بعد طارق بشیر نے عملی زندگی کا آغاز کرنے کے لئے مختلف محکموں میں نوکری کی درخواستٰن جمع کروائیں ۔ کچھ عرصہ بعد آزاد جموں و کشمیر گورنمنٹ نے مختلف محکموں کو کمپیوٹرائزڈ کرنے کے لیے ریکروٹمنٹ شروع کی ۔ طارق بشیر نے اس محکمہ میں بھی نوکری کے لئے درخواست دی ۔ طارق بشیر کی جنوری 2009 میں محکمہ تعلیم میں آزاد کشمیر بورڈ میں بطور کمپیوٹر پروگرامر سیلیکشن ہوئی۔ اسی دوران طارق بشیر کو اسٹنٹ ڈائریکٹر آئی ٹی نیشنل ہائی وے اتھارٹی اور اسٹنٹ ڈائریکٹر ای او بی ائی پر بھی سیلیکشن ہوئی لیکن ان کے والد صاحب ان دو اداروں میں آئے روز کرپشن کی خبروں کی وجہ سے طارق بشیر کے ان محکموں میں نوکری کرنے کے حق میں نہ تھے ۔ انہوں نے اپنے بیٹے کو آزاد جموں و کشمیر میں ہی کام جاری رکھنے کا حکم دیا۔ جس پر طارق بشیر نے دونوں آفرز نظر انداز کر کے آزاد کشمیر میں ہی اپنی ملازمت جاری رکھی۔ اپنی پوسٹ پہ رہتے ہوئے طارق بشیر نے دن رات محنت کر کے اپنا لوہا منوایا اور محکمے کی کمپیوٹرازیشن کو پایا تکمیل تک پہنچایا۔ اسی بنا پر طارق بشیر کو تین سال بعد 2012 میں اگلے سنیئر گریڈ میں ترقی دے دی گئی۔ 2015 میں طارق بشیر نے اپنا تعلیمی سفر دوبارہ شروع کیا اور یونیورسٹی آف لاہور سے ایم فل کمپیوٹر سائنس میں ایڈمشن لیا۔ اسی دوران طارق بشیر کی ریسرچ کو انٹرنیشنل پہچان ملی اور یونیورسٹی آف مشی گن امریکہ کے زیر اہتمام انٹرنیشنل ریسرچ کانفرنس میں بطور ریسرچ سکالر اپنی ریسرچ پیش کرنے کا موقع ملا۔ 2016 ،2017 دو سال لگاتار طارق بشیر کے ریسرچ جنرل ہالینڈ یورپ اور جاپان میں پبلش ہوئے۔ 2017 میں طارق بشری نے اپنی ایم فل کی ڈگری مکمل کی۔ 2018 میں یورپ کے چار ممالک میں مختلف ریسرچ گروپس کے وزٹ کیے۔ طارق بشیر بین الصوبائی وزارت کے زیر اہتمام آئی بی سی سی اور پی بی سی سی میں کئی پروجیکٹس میں کام سرانجام دے چکے ہیں۔ علاوہ ازیں طارق بشیر وزیراعظم شکائت سیل پر وزیراعظم پورٹل کے فوکل پرسن کے طور پر بھی کام کر رہے ہیں۔ چوہدری طارق بشیر کے والد صاحب اپنے علاقے کی معروف شخصیت تھے ۔ انہوں نے ساری زندگی رزق حلال کے حصول کو ہی اولین ترجیح دی اور اپنی اولاد کو بھی اسی کی ترغیب دی۔ اور یہی طارق بشیر کا بھی شیوہ ہے۔ طارق بشیر دولت کی بجائے علم حاصل کرنے کو ہمیشہ ترجیح دیتے ہیں ۔ طارق بشیر کہتے ہیں کہ وہ اپنے والد صاحب بہت متاثر تھے ۔ ان کے والد نے ہی انہیں تعلیم کی طرف راغب کیا کیونکہ پورے خاندان میں والد سب سے زیادہ پڑھے لکھے تھے جن کی تعلیم ایف اے تھی وہ چاہتے تھے کہ ان کا بیٹا ان سے زیادہ تعلیم حاصل کرے۔ طارق بشیر اپنے والد صاحب کو ہی اپنا راہنما سمجھتے ہیں ۔ وہ کہتے ہیں کہ والد صاحب نے محکمہ تعلیم میں کرپشن نہ ہونے کی وجہ سے ہی این ایچ اے اور ای او بی آئی والی آفر چھوڑ کر اس ملازمت کو ترجیح دینے کا حکم دیاتھا طارق بشیر کہتے ہیں کہ انہوں نے بہت سے نیشنل اور انٹرنیشنل سافٹ ویئر مقابلوں کے سرٹیفکیٹ کے علاوہ ریسرچ کانفرنس میں شرکت ، ۔ طارق بشیر کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ انہوں نے نیشنل امتحانی نظام میں اصلاحات پیش کیں جس پر حکومت وقت نے ان کو تعریفی سرٹیفکیٹ جاری کیا ۔ اس کےعلاوہ طارق بشیر چوہدری نے کمپیک کانفرنس نیشنل یونیورسٹی اسلام آباد 2008 میں بیسٹ سوفٹ ویئر پیش کرنے پر بھی اعزاز حاصل کیا ۔ طارق بشیر کہتے ہیں کہ ہم جس معاشرے اور علاقے سے تعلق رکھتے ہیں وہاں تعلیم کو اہمیت نہیں دی جاتی ۔یہاں کے لوگ مستقبل کے حوالے سے بچوں کو گائیڈ لائن نہیں دیتے بلکہ بچہ جس فیلڈ میں جانا چاہے اس کے بارے میں غلط باتیں کرکے اس کا حوصلہ توڑتے ہیں ۔ وہ کہتے ہیں کہ سکول میں اکثر ساتھی یہ کہتے کہ ہم نے پڑھ کر کیا کرنا ہے۔ اگر پڑھ بھی لیا تو پھر نوکری تو ملنی کوئی نہیں۔ اگر نوکری کرنی ہے تو اس کے لیے سفارش اور پیسہ لگتا ہے۔ جو کہ ہمارے پاس نہیں ہے ۔ یعنی مایوسی کی باتیں ہی زیادہ ہوتی تھیں ۔ اب شاید حالات تھوڑے مختلف ہوں ۔ ان ہی حالات میں میٹرک اور ایف ایس سی کی ۔ بیچلرز میں جب بی ایس سی ایس چار سالہ پروگرام میں داخلہ لیا تو اس وقت کمپیوٹر انڈسٹری پاکستان میں نہیں تھی۔ سب دوستوں اور اساتذہ نے مشورہ دیا کہ دو سالہ بی ایس سی کرو ۔ ان کا خیال تھا کہ کمپیوٹر کی فیلڈ میں کچھ نہیں اور نہ ہی ہمارے ملک میں اس کے متعلق کوئی ملازمتیں موجود ہیں۔ لیکن طارق بشیر نے اس طرح کی مایوس کرنے والے باتوں کو نظر انداز کیا اور کمپیوٹر کی فیلڈ میں تعلیم اس لیے جاری رکھی کہ یہی شوق تھا اور انسان کو کام وہ کرنا چاہیے جو اس کو ذہینی سکون دے اور وہ مطمعن ہو۔ طارق بشیر کہتے ہیں کہ میٹرک انٹر کے بعد یونیورسٹی لیول میں فیلڈ کا انتخاب کرنا مشکل ہوتا ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ میرا طالب علموں کے لیے مشورہ ہے کہ کوئی فیلڈ کمتر یا برتر نہیں ہوتی اپ بھیڑ چال میں نہ جائیں کہ آجکل اس تعلیم کی مانگ زیادہ ہے تو یہ چن لوں۔ صرف اپنا سابقہ 10-12 سالہ تعلیمی تجربہ استعمال کریں اور دیکھیں کون سا مضمون آپکو اپنا لگتا ہے اچھا لگتا ہے اس کو پڑھنا۔ چاہیے آرٹس ہی کیوں نہ ہو۔ آپ اس کو چنیں۔ والدین بھی اپنی مرضی تھوپنے سے اجتناب کریں ۔ دیکھیں بچے کا شوق کیا ہے۔ بجائے اس کے کہ آپ بچے کو اپنی مرضی کر کے میڈیکل کی فیلڈ میں ڈالیں اور اس کا شوق ریاضی یا کمپیوٹر یا کامرس میں ہو۔ زیادہ طالب علم اسی طرح کے فیصلوں کی نظر ہوجاتے ہیں اور کامیاب نہیں ہوتے۔

Photos

Statistic

3 Views
0 Rating
0 Favorite
0 Share

Categories

Author

Claim Listing

Is this your business?

Claim listing is the best way to manage and protect your business.

Related Listings