Imran Anwar Khan

Imran Anwar Khan

Average Reviews

Description

عمران انور خان( مینجر آئی ٹی اینڈ آئی ایم ایس پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن ایمپلائیر ٹرسٹ ) اسلام آباد
منڈی بہاؤالدین کے منشی محلہ کے معمولی سے مزدور گھرانے میں عمران انور خان پیدا ہوئے ۔ عمران انور خان جب پیدا ہوئے تو معذوری ان کے ساتھ پیدا ہوگئی ۔ عمران انور خان مکمل طور پر معذور تھے ۔ زندگی کے ابتدائی دنوں میں ان سارا جسم مفلوج تھا لیکن ڈاکٹروں نے ان کے والدین کو تسلی دی تھی کہ ان کی کچھ معذور ی ختم ہوجائے گی جس کے لئے آپ لوگوں کو بہت محنت کرنا پڑے گی ۔ عمران انور خان کا جسم اس حالت میں تھا کہ زندگی کے پہلے چودہ سال دوسروں کے سہارے پہ گزارے ۔۔ یہاں تک کہ چودہ سال کی عمر تک والدہ ان کو واش روم لے کر جاتی تھیں ۔ عمران انور خان دماغی طور پر مکمل صحتیاب تھے سارے حواس صحیح طرح کام کرتے تھے ۔ لیکن جسمانی کمزوری اور معذوری ایسی تھی کہ جس نے ان کی زندگی کو مفلوج کررکھا تھا۔ والد صاحب نے یہ صورت حال دیکھی تو زیادہ آمدنی کمانے اور بیٹے کا علاج کروانے کی غرض سے سعودی عرب چلے گئے اور چوبیس سال تک اپنے بیٹے کا علاج کروانے کے لئے مزدوری کرتے رہے ۔ عمران انور خان کا علاج روزانہ کی بنیاد پر جاری رہا۔۔ روزانہ جسمانی مالش اور ورزش ساتھ ساتھ چلتی رہی ۔ عمران انور خان کی والدہ اور بہن بھائیوں نے عمران انور خان کا مکمل ساتھ دیا اور معذوری کی حالت میں ہی اس کو پڑھاتے رہے ۔۔ عمران انور خان کے دونوں ہاتھ کام کرنے لگ گئے تھے اس لئے وہ بیٹھ کے لکھ پڑھ سکتا تھا لیکن چلنے کے لئے اس کی ٹانگوں کے ساتھ اضافی لوہے کے راڈ جنہیں بریسسز کہا جاتا ہے لگائے گئے تھے جن کی مدد سے عمران انور خان کی ٹانگیں سیدھی رہتی تھیں لیکن ان میں اتنی جان نہ تھی کہ وہ عمران انور خان کا وزن اٹھا سکیں انہیں بریسسز کے سہارے عمران انور خان اپنے بھائی کا ہاتھ پکڑ کے سکول جاتا ۔ عمران انور خان کے بہن بھائیوں نے اس کا ساتھ دیا اسے پڑھانا شروع کیا ۔ اس کے جسم کی مالش کرتے رہے یہاں تک عمران انور خان چودہ سال کی عمر کو جا پہنچا ۔عمران انور خان نے اس عمر میں اپنے کزن کے ساتھ مل کے سائیکل تک چلانا شروع کردیا ۔ اب عمران انور خان کے لئے سکول جانے تک کا سفر آسان ہوگیا تھا ۔ عمران انورخان نے سال 1994 میں ایم بی ہائی سکو ل سے میٹرک کا امتحان دیا ۔ میٹرک پاس کرنے کے بعد عمران انور خان نے گورنمنٹ ڈگری کالج منڈی بہاؤالدین سے سال 1996 میں ایف ایس سی اور اسی کالج سے 1999 میں بی ایس سی کا امتحان پاس کیا ۔۔ عمران انور خان کے دوستوں نے اس کا خوب ساتھ نبھایا اس کی حوصلہ افزائی کی یہاں تک کہ کالج تک جانے کے لئے بھی عمران کے دوست اس کا ہاتھ پکڑتے اور سہارا دے کر کالج لے جاتے اور واپسی پہ اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے گھر چھوڑ جاتے ۔
ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے عرصے میں عمران انور خان کا جسم اس قابل ہوگیا تھا کہ وہ بیساکھیوں کے سہارے چل لیتا تھا۔۔ عمران انور خان کے کزن اور اس کے بڑے بھائی نے عمران انور خان کو اس قابل بنا دیا کہ کھیل کے میدان میں جا کے بیڈ مٹن اور کرکٹ تک کھیل لیتا تھا لیکن اب بھی عمران انور خان کا سہارا بیساکھیاں تھیں ۔ ان کی ایک ٹانگ میں مسلسل ورزش کرنے سے تھوڑی بہت جان آگئی تھی لیکن ایک ٹانگ مکمل طور پر معذور تھی ۔ عمران انور خان نے اپنی اس معذور ی کو کبھی بھی اپنی رکاوٹ نہ بننے دیا ۔
بی ایس سی کے بعد عمران انور خان نے قائداعظم یونی ورسٹی اسلام سے 2003 میں ایم ایس سی کمپیوٹر سائنس پاس کیا ۔ عمران انور خان 2004 نے میں اسلام آباد کے مشہور سافٹ وئیر ہاؤس الیگزر ٹیکنالوجیز میں بطور جونئیر سافٹ وئیر ڈویلپر اپنے عملی زندگی کا آغاز کیا ۔۔ تقریبا دس سال تک مختلف سافٹ وئیر ہاوسز میں کام کرنے کے بعد عمران انور خان کو پاکستان ٹیلی کمیونیکیشنز ایمپلائیر ٹرسٹ میں بطور مینجر آئی ٹی اینڈ ایم آئی ایس کی نوکری مل گئی ۔ عمران انور خان چونکہ سافٹ وئیر ڈویلپر تھے ۔ انہوں نے پاکستان پوسٹ کے لئے پنشرز کو پنشن دینے کے لئے ایک سافٹ وئیر تیا ر کیا جس کے ذریعے پنشرز کو ان کی پنشن دینا آسان ہوگیا۔ اس وقت عمران انور خان کا بنایا ہوا سافٹ وئیر پاکستان کے تمام ڈاک خانوں میں چل رہا ہے ۔ اس سافٹ کو بنانے کی وجہ عمران انور خان کو تعریفی سند اور انعام دیا گیا تھا۔
عمران انور خان کی زندگی کا سب سے بڑا چیلنج معذوری کے ساتھ اس دنیا کا مقابلہ کرنا تھا جو انہوں نے اپنی قوت ارادی سے کردکھایا۔ عمران انور خان نے اپنی معذوری کو کبھی اپنی مجبوری نہ بنایا بلکہ اس معذوری کے ساتھ اپنی محنت جاری رکھی ۔ وہ کہتے ہیں کہ ان کے لئے معذوری کا امتحان پاس کرنا سب سے مشکل تھا لیکن جب وہ اس متحان میں بھی کامیاب ہوگئے تو یہ معذوری میرے کچھ بھی نہ رہی ۔ عمران انور خان کہتے ہیں کہ اگر آج کے نوجوان ایمانداری کے ساتھ محنت کریں تو کامیابی ان کے قدم ضرور چومے گی لیکن محنت کے ساتھ ساتھ صبر کرنا بہت ضروری ہوتا ہے ۔ ہر انسان کی زندگی میں ایک وقت آتا ہے جب کامیابی حاصل کرنے کا اسے ایک موقع ملتا ہے ۔ نوجوانوں کو اس لمحے کا انتظار کرنا چاہئے کہ جب زندگی ان کو کامیابی کے راستے پر دوڑنے کے لئے اشارہ کرتی ہے ۔ نوجوانوں کو اپنی زندگی میں ملنے والے مواقعوں کو ضائع نہں کرنا چاہئے ۔ جتنے مواقع ملیں چاہے وہ چھوٹے چھوٹے ہوں ان سے فائدہ اٹھائیں یہ سارے مواقع زندگی کی کامیابی کی سیڑھیاں ہوتے ہیں ۔
عمران انور خان کہتے ہیں کہ انہیں ہر آدمی نے سپورٹ کیا لیکن اس منزل تک پہنچنے میں سب سے زیادہ محنت ان کے بھائی اور والد نے کی ۔۔ ان کے والد صاحب نے زندگی کے چوبیس سال تک صرف اس نیت سے مزدوری کی کہ میرا بیٹا معذوری سے نجات حاصل کرلے ۔ والدین اور بہن بھائیوں کے بعد عمران انور خان کی سب سے زیادہ مدد اور راہنمائی ان کے چچاؤں نے کی ۔ پھر عمران انور خان کے کزن بھی ان کا ساتھ دیتے تھے جبکہ کچھ خاص دوست جنہوں نے عمران انور خان کے کندھے سے کندھا ملا کر اسے زندگی جینے کا ڈھنگ سکھایا ۔ عمران انور خان کہتے ہیں کہ اگر ان کے وہ خاص دوست نہ ہوتے تو شاید آج وہ یہ منزل حاصل نہ کرسکتے ۔ عمران انور خان اس وقت بحریہ ٹاؤن اسلام آباد میں اپنے ذاتی گھر اور گاڑی کے مالک ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے عمران انور خان کو تین بچے بھی دیئے ہیں ۔ عمران انور خان کہتے ہیں کہ وہ چل نہیں سکتے لیکن گاڑی ڈرائیو کرنا جانتے ہیں اور خود گاڑی چلا کر اپنے دفتر جاتے ہیں ۔ عمران انور خان کے بچے اپنے والد کو سائنسدان کہتے ہیں کہ کیونکہ بچوں کا کوئی بھی ٹیکنکل یا مشکل ترین کام جب ہوتا ہے تو عمران انورخان خود کرکے دیتے ہیں ۔

Photos

Statistic

9 Views
0 Rating
0 Favorite
0 Share

Categories

Author

Claim Listing

Is this your business?

Claim listing is the best way to manage and protect your business.

Related Listings