Prof. Dr. Manzoor Ahmed

Prof. Dr. Manzoor Ahmed

Average Reviews

Description

پروفیسر ڈاکٹر منظور احمد
منڈی بہاؤالدین کے محلہ پانچ وارڈ میں 1958 میں پیدا ہونے والا ایک بچہ آنے والے دنوں میں دنیا کے لئے ایک مثال بننے جارہا تھا۔ پروفیسر ڈاکٹر منظوراحمد کا اپنے سات بہن بھائیوں میں دوسرا نمبر تھا۔ 1970 میں والد صاحب اپنے چھوٹے چھوٹے بچوں کو چھوڑ کر راہیِ ملک عدم ہوئے ۔
بچوں کی کفالت کا واحد سہارا ان کی ماں تھی ۔ منظور احمد کی والدہ نے چرخہ کات کر بچوں کا پیٹ پالنا شروع کیا۔ منظور احمد میٹرک کی تعلیم کے دوران اپنے نانا کے ساتھ مل کر کمیٹی سے ملنے والے وقتاَ فوقتا چھوٹے چھوٹے ٹھیکوں میں مزدوری کرتے ۔ جب ٹھیکوں کا کام نہ ہوتا تو کتابیں جلد کرتے ۔ منظوراحمد ایک ذھین بچہ تھا۔ سی پی سی پرائمری سکول منڈی بہاؤالدین سے پانچ جماعتیں پاس کرنے کے بعد ایم ہائی سکول میں داخلہ لیا ۔میٹرک کے امتحانات قریب تھے ۔ منظور احمد صبح صبح کتابیں لیے پڑھتا رہتا اور اور دن بھر دوسرے کاموں میں مصروف رہتا ۔ یہ سلسلہ کئی مہینے چلتا رہا ۔ والد کی وفات کا غم ابھی تازہ تھا کہ رشتے داروں نے آہستہ آہستہ ہم بچوں سے منہ موڑ لیا ۔ منظور احمد اپنی غم زدہ والدہ کو دیکھتا تو اور غمگین ہوتا جس نے ان کے جذبات کو شاعری کی طرف موڑدیا۔ منظور احمد ابھی آٹھویں جماعت کا طالب علم تھا کہ فیض احمد فیض کی طرح اپنے جذبات کو اشعار میں بیان کرنے لگا۔ اس موقع پر ایک استاد نے منظور احمد کی راہنمائی کی اور حوصلہ دیتے ہوئے منظور احمد کے ذھن کو تبدیل کیا اور نصیحت کی کہ
تو ہُما کا ہے شکاری ابھی ابتدا ہے تیری
نہی مصلحت سے خالی یہ جہانِ مرغ و ماہی
منظور احمد کا اس مشکل وقت میں سب سے بڑا سہارا والدہ کی دعائیں اساتذہ کی طرف سے حوصلہ افزائی اور محبت سخت محنت اور اللہ کا خاص کرم تھا۔ میٹرک کے ابتدائی دنوں میں منظور احمد کے استاد محترم ماسٹر علی محمد صاحب تھے جنہوں نے ان کو نصیحت کی جو آج بھی منظور احمد کی زندگی کا حصہ ہے ۔ ماسٹر علی محمد صاحب نے کہا کہ دیکھو منظور احمد اگر تمھارے پاس ایک روپیہ ہو تو تم اس میں سے پندرہ آنے خرچ کرو اور ایک آنہ بچا لو ۔۔ اگر تم ایک روپیہ ( جس میں سولہ آنے ہوتے تھے ) میں سے سترہ آنے خرچ کرو گے تو تم مقروض ہوتے جاؤ گے ۔ لیکن اگر تم پندرہ آنے خرچ کرکے ایک آنہ بچاتے جاو گے یہ تو ایک آنہ آنے والے وقت میں تمھاری محرومیوں کو خوشیوں میں بدل دے گا۔ آخر میٹرک کے فائنل امتحانات دینے کا وقت آن پہنچا ۔ 1974 میں سرگودھا بورڈ کے تحت میٹرک کا امتحان دیا۔ اس وقت تک گوجرانوالہ بورڈ کے قیام کا اعلان نہیں ہوا تھا۔ ۔ میٹرک کے امتحانات سے فارغ ہونے کے بعد حسب معمول ایک دن اپنے دوستوں کے ہمراہ گلی میں بنٹے کھیل رہے تھے کہ بچوں نے کیا دیکھا کہ سڑک پہ تین اجنبی گاڑیاں آرہی تھیں ۔ گاڑیوں کے ساتھ بچے بھاگ رہے تھے ۔ گاڑیاں منظوراحمد کے پاس آکر رک گئیں ۔ چند سوٹڈ بوٹڈ افراد نیچے اترے ۔ ۔ بچوں کا جائزہ لیا ۔ ۔ ایک صاحب نے پوچھا
آپ میں سے منظور احمد کون ہیں ۔ ؟
منظوراحمد اس وقت ہاتھوں میں بنٹے ( گولیاں ) پکڑے کھڑے تھے ۔ تھوڑے خوفزدہ اور گھبرائے ہوئے لہجے میں بولے ۔۔۔ میں ہوں ۔۔
آنے والے لوگوں نے کہا ۔۔ ہم اخباری نمائندے ہیں اور آپ کا انٹرویو لینے آئے ہیں آپ نے سرگودھا بورڈ میں پہلی پوزیشن حاصل کی ہے ۔
منظور احمد کے گھر میں چونکہ بجلی نہیں تھی اس لئے منظور احمد نے آنے والے معزز مہمانوں کو اپنے ہمسایہ خواجہ فیروز صاحب کی ڈرائنگ روم میں بٹھایا ۔۔اگلے دن کی اخباروں میں ایم ہائی سکول اور منڈی بہاؤالدین کے اس اعزاز میں نمایاں خبریں تھیں ۔ شہر اور سکول میں جشن کا سماں تھا ۔ منڈی بہاؤالدین اس وقت تحصیل تھا اور مرتضیٰ برلاس صاحب ( جو کہ ایک عظیم شاعر بھی ہیں ) منڈی بہاؤالدین کے اسسٹنٹ کمشنر تھے ۔ انہوں نے منظوراحمد کے اعزاز میں استقبالیہ تقریب منعقد کی۔ اس تقریب میں منظور احمد کے نانا مرحوم ان کے بڑے بھائی ، ایم بی ہائی سکول کے ہیڈماسٹر محترم میاں رفیق صاحب ، علامہ عنایت اللہ گجراتی مرحوم صاحب ، شیخ یعقوب صاحب اور بہت سے دیگر شہر کے معززین نے شرکت کی۔ منظوراحمد کو اس قت تقریبا 2400 روپے بطور انعام سے نوازا گیا ۔
منظور احمد کو گورنمنٹ کالج لاہور میں داخل کروایا گیا۔ گورنمنٹ کالج لاہور میں منظور احمد کا رولنمبر ایک تھا جس کا مطلب یہ تھا کہ گورنمنٹ کالج لاہور میں داخل ہونے والے تمام طلبہ میں میرٹ میں نمبر ایک پوزیشن منظور احمد نے حاصل کی ہے ۔
لاہوری طلبہ پرائیویٹ انگریزی سکولوں کے اورلاہور کے اعلیٰ اداروں سے پڑھ کے آئے ہوئے تھے ان کے مخصوص انگریزی لہجے میں گفتگو کرتے اساتذہ سے کئے گئے سوالات منظور احمد کے لئے پریشانی کا باعث بن رہے تھے ۔ بلکہ دوسرے چھوٹے شہروں سے آئے کئی طلبہ اس صورت حال میں ڈیپریشن کا شکار ہوئے اور گورنمنٹ کالج لاہور کے معیار تعلیم کا پریشر برداشت نہ کرتے ہوئے واپس اپنے شہروں کو چلے گئے ۔ لیکن منظور احمد اپنے انگلش کے استاد سے راہنمائی لیتے رہے اور اپنے مقصد کے حصول کے لئے ڈٹے رہے ۔ ۔ بیالوجی کے پہلے ٹٰیسٹ میں ہی منظور احمد نے پہلی پوزیشن حاصل کی ۔ پہلی پوزیشن نے منظور احمد کا حوصلہ بڑھا دیا ۔ وقت گزرتا رہا ۔ایک سال کے بعد کالج کے سالانہ امتحانات میں منظور احمد نے پہلی پوزیشن حاصل کی ۔ دوسال مکمل ہوئے اب بورڈ کے انٹرمیڈیٹ کے سالانہ امتحانات تھے ۔ سن 1976 میں سالانہ امتحانات لاہور بورڈ کے تحت منعقد ہوئے ۔ منظور احمد نے اپنی صلاحیتوں کو ایک بار پھر منوایا اور لاہور بورڈ ٹاپ کرتے ہوئے پہلی پوزیشن حاصل کرلی ۔ اس وقت وزیراعظم جناب ذوالفقار علی بھٹو نے عوامی میلہ پنجاب کے انعقاد کے موقعہ پر منظور احمد کو گولڈ میڈل اور”ذھین طالب علم ” کا ایوارڈ دیا ۔
اس سے اگلہ مرحلہ کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج تھا ۔ ۔ منظور احمد کو میرٹ کی بنیاد پر کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج میں داخلہ مل گیا ۔ اپنے اخراجات پورے کرنے کے لئے منظور احمد لاہور میں اپنے فارغ وقت میں طلبہ کو ٹیوشن پڑھاتے ۔
منظور احمد نے ایم بی بی ایس فرسٹ ڈویژن میں پاس کیا اور میوہسپتال لاہور میں ہاوس جاب اور ٹریننگ لی ۔۔
یہ منظوراحمد کی زندگی کا ٹرننگ پوائنٹ تھا۔ اب منظور احمد ڈاکٹر منظور احمد بن گئے تھے ۔
سن 1991 میں ڈاکٹر منظور احمد نے ای این ٹی میں ایف سی پی ایس پاس کیا۔ مختلف کالجز میں اسسٹنٹ پروفیسر اور ایسوسی ایٹ پروفیسر کے طور پر کام کیا۔ ڈاکٹر صاحب کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ پاکستان کی تاریخ کے کم عمر ترین میڈیکل کے شعبے کے پروفیسر ڈاکٹر کے طور پر خدمات سرانجام دیں
2001 میں ڈاکٹر منظور احمد پروفیسر ڈاکٹر منظور احمد کا روپ اختیار کرگئے ۔ پروفیسر ڈاکٹر منظور احمد کو فاطمہ جناح میڈیکل کالج میں بطور پروفیسر اور سر گنگا رام ہسپتال لاہور میں ہیڈ آف ایی این ٹی ڈپارٹمنٹ تعینات کردیا گیا۔
پروفیسر ڈاکٹر منظور احمد نے سن 2018 تک اسی پوسٹ پہ کام کیا اور ریٹائرمنٹ حاصل کرلی ۔
اپنی سرکاری ملازمت کے دوران
ڈین آف ای این ٹی یونی ورسٹی آف دی پنجاب
سیکرٹری اینڈ ڈین ای این ٹی کالج آف فزیشنز اینڈ سرجن پاکستان
ڈین آف سرجری فاطمہ جناح میڈیکل یونی ورسٹی
چیرمین ڈینز کمیٹی
ممبر سنڈیکٹ فاطمہ جناح میڈیکل یونی ورسٹی کام کیا۔
ریٹارمنٹ کے بعد
رہبر میڈیکل کالج ، رینجرز ٹیچنگ ہسپتال، رینجرز ہیڈ کوارٹر لاہور میں بطور پروفیسر اور بطور ہیڈ آف ای این ٹی ڈپارٹمنٹ خدمات سرانجام دے رہے ہیں
پروفیسر ڈاکٹر منظور احمد صاحب نے اپنا آبائی شہر منڈی بہاؤالدین بھلایا نہیں ۔ بلکہ بقول ان کے منڈی بہاؤالدین کے لوگوں کی دعاؤں کا قرض چکانے کی نیت سے 1993 سے اب تک ہر اتوار منڈی بہاؤالدین آتے ہیں اور عوام کو چیمہ ہستپال میں سروسز فراہم کرتے ہیں جن مریضوں کو آپریشن کی ضرورت ہوتی ہے ان کو براہ راست سر گنگا رام ہسپتال میں داخل کراتے ہیں اور ان سے آپریشن کروا نے جارہے ہیں ۔
پروفیسر ڈاکٹر منظور احمد صاحب کی بیٹی انعم منظور نے 37 سال بعد میٹرک اور انٹرمیڈیٹ بورڈ میں پوزیشن حاصل کرے ان کا ریکارڈ برابر کیا ۔ کنگ ایڈورڈ کالج لاہور سے ایم بی بی ایس کیا اور نیو جرسی امریکہ میں بطور ٹرینی ڈاکٹر کام کررہی ہیں۔
پروفیسر ڈاکٹر منظور احمد کہتے ہیں کہ جب بھی وہ اپنے اساتذہ سے ملتے ہیں تو ہمیشہ ادب سے کھڑے ہوکر ان کے آگے جھک جاتے ہیں اپنے اساتذہ کے گھٹنوں کو ہاتھ لگاتے ہیں اور جب تک ان کے اساتذہ بیٹھ نہ جائیں پروفیسر منظور احمد کھڑے رہتے ہیں ۔ جب اساتذہ ان کے دفتر سے روانہ ہونے لگتے ہیں تو پروفیسر منظور احمد اٹھ کر ان کے لئے دروازہ کھولتے ہیں اور انتہائی عزت کے ساتھ ان کو رخصت کرتے ہیں ۔ لیکن کوئی بھی بڑا چوہدری لینڈلارڈ بیوروکریٹ یا افسر کوئی وزیر یا سیاسی شخصیت ان سے ملنے آئے تو وہ کبھی ان کو وہ پروٹوکول نہیں دیتے جو اپنے اساتذہ کو دیتے ہیں ۔
پروفیسر ڈاکٹر منظور احمد اپنی والدہ کا تعارف ہر مہمان سے پہلے کرواتے ہیں اور اس میں فخر محسوس کرتے ہیں کسی بھی بڑی پارٹی یا شادی بیاہ پہ ہمیشہ اپنی والدہ کو ساتھ لیکر جاتے ہیں بلکہ ان کے پیچھے پیچھے چلتے ۔ اب جبکہ پروفیسر ڈاکٹر منظور احمد کی والدہ اپنی بزرگی کی وجہ سے وھیل چیئر پہ ہیں پروفیسر ڈاکٹر منظور احمد کہتے ہیں کہ میں خود ان کی وھیل چیئر دھکیل کر ہسپتال لے جانا اپنے لئے فخر سمجھتا ہوں حالانکہ ملازمین بھی ہوتے ہیں ۔ لیکن میں جو کچھ بھی ہوں آج جس ہستی کی وجہ سے ہوں میں کبھی نہیں چاہتا کہ میری والدہ کو میرے ہوتے ہوئے کوئی اور سہارا دے ۔
پروفیسر ڈاکٹر منظور احمد اپنی کامیابی کا راز سخت اور مسلسل محنت میں بتاتے ہیں ۔ وہ کہتے ہیں کہ پہلے آپ مقصدِ حیات کا تعین کریں اور اس کے لئے اپنی جان لڑادیں اللہ تعالیٰ آپ کو ضرور کامیاب کرے گا۔
پروفیسر صاحب اپنی اس ساری کامیابی میں اللہ تعالٰی کے خاص کرم کے بعد اپنی والدہ اساتذہ کی دعاؤں اور منڈی بہاؤالدین کے مخلص لوگوں کے تعاون کو اہم سمجھتے ہیں ۔ ہر چیز میں اپنی والدہ سے مشاورت ضرور کرتے ہیں ۔
تحریر افتخار احمد

Photos

Statistic

10 Views
0 Rating
0 Favorite
0 Share

Categories

Author

Claim Listing

Is this your business?

Claim listing is the best way to manage and protect your business.

Related Listings