Rehan Zahid

Rehan Zahid

Average Reviews

Description

ریحان زاہد
1980 کی دہائی میں منڈی بہاؤالدین شہر کھیلوں کا مرکز ہوا کرتا تھا۔ فٹبال کرکٹ اور ہاکی کے ٹورنامنٹ ہوتے تھے ۔ کبڈی کے میچز ہوتے تھے ۔ اور خاص کر جب سکولوں کے سالانہ ٹورنامنٹس ہوتے تھے تو گراونڈز میں تماشائیوں کی تعداد اتنی بڑھ جایا کرتی تھی کہ میچ دیکھنے کے لئے جگہ نہ ملتی ۔ اس زمانے میں منڈی بہاؤالدین میں شہر میں کھیلنے کے پانچ گراونڈ ہوتے تھے ۔ تھانہ گراؤنڈ جہاں آج کل گرلز ہاسٹل ہے ، گوڑھا گراؤنڈ جو ابھی بھی سٹیڈیم کی شکل میں ہے ۔ سٹی گراؤنڈ جہاں میاں وحیدالدین پارک ہے قائد اعظم گراؤنڈ جہاں آج کل منی سٹیڈیم تعمیر کیا گیا ہے ریلوے گراؤنڈ جو اب خالی جگہ ہے ۔ ۔
کھیلوں کا بڑا مرکز سٹی گراؤنڈ ہوتا تھا۔ میاں وحید الدین مرحوم چئیرمین بنے تو انہوں نے شہر کے نوجوانوں کا واحد گراؤنڈ پارک میں تبدیل کردیا۔ لڑکوں نے بہت احتجاج کیا کہ یہاں سٹیڈیم بنایا جائے لیکن بچوں کی نہ سنی گئی ۔ اور آج منڈی بہاؤالدین سے ان تمام کھیلوں کا خاتمہ ہوچکا ہے جو کبھی شہر میں نوجوانوں کی پہچان ہوا کرتے تھے ۔ اب کھلاڑیوں کی جگہ جہاز نشئی اور اسلحہ اٹھائے لڑکے پھرتے ہیں ۔ اسی زمانے میں کرکٹ کے نامور ناموں میں ایک نام زاہد شکیل ہوتا تھا۔ جس نے بعد میں کمیٹی چوک میں ایک پی سی او بنا لیا۔۔
زاہد شکیل کے ہاں بیٹا پیدا ہوا جس کا نام انہوں نے ریحان زاہد رکھا ۔۔ آج ہم اسی نوجوان کی بات کریں گے ۔ ریحان زاہد نے پرائمری تعلیم میونسپل ماڈل سکول سے حاصل کی ۔ مڈل کلا س کا امتحان شاہ تاج شوگر ملز سے دیا جب کہ میٹرک ایم بی ہائی سکول منڈی بہاؤالدین سے 1998 میں کیا۔ گورنمنٹ ڈگری کالج سے آئی سی ایس کرنے کے بعد معاشی مجبوریوں کی وجہ سے بی سی ایس میں داخلہ نہ لے سکا۔ ریحان زاہد درمیانے درجے کا طالب علم تھا تعلیمی میدان میں کوئی غیر معمولی کارکردگی نہ دکھا سکا ۔ کسی اپنے کے مشورے سے ادھر ادھر سے پیسے جمع کئے اور ملائیشیا روزگار کے سلسلے میں چلا گیا۔ ملائشیا میں سیٹ ہونے کے لئے بہت ہاتھ پاؤں مارے لیکن کامیابی نہ ملی ایک سال ملائیشیا میں دھکے کھانے کے بعد پاکستان واپس آگیا۔
پاکستان واپس آکے دوبارہ تعلیم کا سلسلہ شروع کیا اور منڈی بہاؤالدین کے پرائیویٹ کالج نیشنل کالج آف کامرس میں بی کام میں داخلہ لیا ۔ ریحان زاہد کو ان کے والد نے مزید تعلیم حاصل کرنے میں بہت ساتھ دیا ۔ ریحان زاہد نے والد صاحب کی طرف سے ملنے والی حوصلہ افزائی کے ساتھ ساتھ جاز فرنچائز میں نوکری کرلی تاکہ اخراجات پہ قابو پا سکیں ۔ لیکن تنخواہ بہت ہی کم ہونے کی وجہ سے وہ نوکری زیادہ دیر نہ چل سکی ۔ ریحان زاہد معاشی حالات پر قابو پانے کے چکر میں تعلیم کی طرف زیادہ توجہ نہ دے سکا جس کی وجہ سے بی کام میں سپلی آگئی ۔۔ لیکن ریحان زاہد نے جیسے تیسے بی کام کی ڈگری حاصل کرلی ۔ ریحان زاہد کا شروع دن سے ہی کمپیوٹر سائنس کی طرف رجحان تھا وہ کمپیوٹر کو آپریٹ کرنا بہت اچھا جانتا تھا ٹائپنگ سپیڈ بھی بہت تھی ۔
بی کام مکمل کرنے کے بعد ریحان زاہد بطور ڈی ای او ( ڈیٹا اینٹری آپریٹر ) ہیلتھ بارہویں سکیل میں تعینات ہوا۔ نوکری ملنے سے ریحان زاہد کے حالات میں بہتری آئی ۔ سابق ای ڈی او ہیلتھ ڈاکٹر ارشد صاحب نے ریحان زاہد کی بہت رہنمائی کی تاکہ وہ اس ادارے میں سیٹ ہوسکیں ۔ ڈیٹا اینٹری آپریٹر کی تنخواہ معمولی سی تھی ۔ ریحان زاہد پارٹ ٹائم میں مزید کچھ کرنا چاہتا تھا ۔ اسی نوکری کے دوران ان کی ملاقات شاہد حسین شاکر برائیٹ فیوچر کنسلٹنٹ سے ہوئی ۔ جنہوں نے ریحان زاہد کو پارٹ ٹائم جاب کے لئے اپنے دفتر میں موقع دینے کا فیصلہ کیا۔ ریحان زاہد صبح ہیلٹھ ڈپارٹمنٹ اور سیکنڈ ٹائم پرائیویٹ جاب کرتا جس کی وجہ سے مالی حالات کافی بہتر ہوگئے ۔ یہ سلسلہ 2010 تک جاری رہا۔ فیوچر کنسلٹنٹ میں زیادہ آمدنی کی وجہ سے ریحان زاہد کی توجہ سرکاری جاب کی طرف کم ہوتی گئی ۔ ہیلتھ ڈپارٹمنٹ میں کئی کئی دن چھٹیاں کرنے کی وجہ سے ریحان زاہد کو ایک دو نوٹس موصول ہوئے کہ جاب پہ باقاعدہ آؤ ورنہ فارغ کردیں گے ۔
دوسری طرف برائیٹ فیوچر میں طلبہ کے باہر کے ممالک کے ویزہ کی پالیسی تبدیلی ہونے کی وجہ سے مالی بحران پیدا ہوگیا۔ اسی سال 2010 میں ریحان زاہد کی شادی بھی ہوگئی ۔ شادی کی وجہ سے اخراجات میں اضافہ ہوگیا۔ ریحان زاہد کو اللہ تعالیٰ نے اگلے سال بیٹا دیا اور اسی سال 2011 میں ریحان زاہد کو برطانیہ کا ویزہ بھی مل گیا۔ برطانیہ میں ریحان زاہد کو اچھی نوکری مل گئی لیکن پاکستان میں گھریلو حالات بہت زیادہ خراب ہوگئے ۔۔ کچھ ایسی مجبوریاں بنی کہ ریحان زاہد کو ایک سال کے اندر اندر برطانیہ کو خیرباد کہہ کر واپس آنا پڑا۔ برطانیہ سے واپس آکر ہیلتھ ڈپارٹمنٹ میں رابطہ کیا تو معلوم ہوا کہ ریحان زاہد کو فارغ کیا جاچکا ہے جبکہ فیوچر کنسلٹنٹ کے حالات بھی اتنے اچھے نہ تھے ریحان زاہد نے فیوچر کنسلٹنٹ میں نوکری تو شروع کی لیکن آٹھ دس ماہ کی انتہائی کوشش کے باوجود ادارہ پہلی پوزیشن پہ نہ آسکا الٹا ریحان زاہد کی آٹھ ماہ سے زیادہ کی تنخواہ بلاک ہوگئی ۔ اب ریحان زاہد کے حالات مزید خراب ہوچکے تھے یہاں تک کہ گھر میں کھانے پینے کے لئے بھی کچھ نہ بچا تھا۔ ان کے والد صاحب کی دکان بھی کوئی خاص آمدنی نہ دے رہی تھی ۔ ریحان زاہد نے اس عرصے میں کہیں چھوٹی موٹی نوکری کی بہت کوشش کی لیکن نہ مل سکی ۔ گھر بیٹھ بیٹھ کے تنگ آچکا تھا۔ ایک دن ریحان زاہد نے اپنی والدہ سے کہا کہ میں اسلام آباد جاتا ہوں کم از کم وہاں کوئی چھوٹی موٹی نوکری تو مل ہی جائے گی ۔۔ ریحان زاہد کو یاد ہے کہ اس کی والدہ نے جہاں سے بھی دو ہزار روپے ریحان زاہد کو دیئے کہ جاؤ بیٹا کوشش کرو ہو سکتاہے کامیابی تمھارے قدم چومے ۔ ریحان کے بڑے بھائی اسلام آباد میں ایک چھوٹی سی نوکری کرتے تھے اور کچھ دوستوں کے ساتھ ایک ہی کمرے میں رہائش پذیر تھے ۔ ریحان نے اپنے بھائی کو فون کیا کہ میں آرہا ہوں ۔ ریحان کو اسلام آباد بس سٹاپ سے اس کا بھائی موٹر سائیکل پہ لینے آیا ۔ جون سن 2013 کی شدید گرمی میں ریحان زاہد اگلے دن ریحان کا بھائی اپنی نوکری سے دن کے ایک بجے آگیا ۔ ۔ دونوں بھائی موٹر سائیکل پہ چلچلاتی دھوپ میں نکل پڑے ۔۔ دونوں نے پروگرام بنایا کہ بلیوایریا کے ہر دروازے پہ دستک دیں گے ۔ سعودی پاک ٹاور میں ان کو داخل ہی نہ ہونے دیاگیا۔ دونوں بھائی بلیو ایریا کی ہر دکان اور ہر آفس سے مایوس ہو کر نکلتے رہے۔ دونوں بھائی ایک بلڈنگ کے آگے رکے ۔ ریحان نے بھائی سے کہا آپ یہاں انتظار کرو میں پتا کرکے آتا ہوں ۔ ریحان بلڈنگ کے تیسرے فلو ر پر ایک امام ٹریڈنگ کے دفتر میں گیا۔ استقبالیہ پہ ایک لڑکی تھی ۔۔ اسے ریحان نے کہا کہ میں نے ایچ آر مینجر سے ملنا ہے ۔ لڑکی نے تفصیل پوچھی کہ آپ کون ہیں ؟ ریحان نے بتایا کہ میں منڈی بہاؤالدین سے نوکری کے لئے آیا ہوں ۔ اس نے چونک رک ریحان کی طرف دیکھا اور کہا ۔۔ کیا آپ کو امام صاحب نے بلایا ہے کیا آپ منڈی بہاؤالدین سے ہیں ؟ ریحان نے کہا جی میں منڈی بہاؤالدین سے آیا ہوں ۔۔ لڑکی نے استقبالیہ کے دوسرے طرف بیٹھے ایک آدمی کی طرف ریحان کو بھیج دیا۔ ایک دو باتوں کے بعد اس آدمی نے ریحان کو بتایا کہ امام صاحب کا تعلق بھی منڈی بہاؤالدین کی تحصیل ملکوال سے ہے۔ ریحان زاہد یہ سن کے خوش بھی تھا اور حیران بھی ۔۔ اس آدمی نے ریحان سے کہا کہ کیا آپ کو امام صاحب نے بلوایا ہے یا آپ خود آئے ہیں ۔ ریحان نے کہا کہ میں پہلی دفعہ اس دفتر میں آیا ہوں ۔ مجھے اس شخص نے بتایا کہ ہمارے پاس فی الحال کوئی جاب نہیں ہے ۔ پھر ریحان کو بٹھا کر وہ سی ای او رامام صاحب کے دفتر میں گیا ۔ تھوڑی دیر بعد ریحان کو دفتر میں بلا لیا گیا۔ امام صاحب نے ریحان کا انٹرویو لیا ۔ کمپیوٹر آپریٹنگ کا ٹیسٹ لیا جو ریحان نے بہت اچھا دیا ۔ اس کے بعد ریحان سے کہا کہ آپ جائیں اگر آپ کی سلیکشن ہوگئی تو ہم بلا لیں گے ۔ ریحان نے ان کا شکریہ ادا کیا اور دفتر سے باہر آگیا۔ بھائی نے پوچھا اتنی دیر سے آئے ہو خیریت ۔۔ ؟ ریحان نے کہا کہ انٹرویو دیا ہے لیکن جاب نہیں ملی ۔۔ دونوں بری طرح تھک چکے تھے فیصلہ ہوا کہ ابھی فلیٹ پہ واپس چلتے ہیں کل پھر آئیں گے ۔
امام صاحب والے انٹرویو کے دو دن بعد ریحان کو کال آئی کہ آپ کو امام صاحب نے آفس بلایا ہے ۔ آپ اپنا بیگ وغیرہ لیکر دو بجے تک آفس پہنچ جائیں ۔
امام صاحب نے ریحان کو اس کا کام سمجھایا اور بارہ ہزار ماہانہ تنخواہ پہ رکھ لیا۔ جبکہ کھانا پٹرول رہائش کمپنی نے دینی تھی ۔ ریحان نے نوکری کے لئے ہاں کردی اور کا م شروع کردیا۔
چند ماہ کام کرنے کے بعد ریحان نے محسوس کیا کہ یہ دال روٹی تو چلاتی ہے لیکن اس نوکری میں مستقبل نہیں ہے بارہ ہزار میں کب تک گزارا ہوگا۔ لیکن ریحان نے اسی نوکری کو غنیمت سمجھتے ہوئے اپنی ایمانداری سے محنت جاری رکھی ۔ وہ ہر مہینے اپنی بارہ ہزار تنخواہ میں سے دس ہزار والدہ کو اور دو ہزار بیوی کو بھیج دیتا۔ لیکن مہنگائی کی وجہ سے اخراجات اور پریشانیاں بڑھتی جارہی تھیں ۔
ریحان زاہد ان مسائل کا کوئی ٹھوس حل چاہتا تھا۔ ستمبر کے دن تھے ریحان زاہد انٹرنیٹ استعمال کررہا تھا ۔ اچانک خیال آیا کہ پارٹ ٹائم جاب ڈھونڈتا ہوں ۔۔ ریحان نے گوگل پہ پارٹ ٹائم جاب لکھ کے سرچ کیا ۔ ایک سائیٹ سامنے آئی فری لانس ڈاٹ کام ۔ ۔ ۔ ریحان نے اس کو فراڈ سمجھا لیکن ویسے ہی ساتھ میں اس پہ اکاؤنٹ بنادیا ۔۔ اس کے بعد فری لانس ویب سائیٹ کا مطالعہ شروع کردیا۔ فری لانس پہ کچھ ٹیسٹ تھے جن کی فیس دس ڈالر تھی ۔ ریحان نے بھائی سے اس کا بنک کارڈ لیا اور دس ڈالر ادا کردیے ۔ بھائی نے کہا کہ ضائع کردیے دس ڈالر لیکن ریحان نے کہا اگر آپ کے ضائع ہوگئے تو می آپ کو ادا کردوں گا۔ ریحان زاہد نے دس ڈالر میں فری لانس ویب سائیٹ پہ دو ٹیسٹ دیئے اور پاس کر لئے
اب ریحان زاہد نوکری سے واپس آتا اور ویب سائیٹ کا مطالعہ شروع کردیتا ۔بجائے کسی سے مدد لینے کے ریحان زاہد نے یو ٹیوب سے کچھ لیکچر سنے اور فری لانس کام کرنے کے طریقہ کارکو سمجھا۔
کوئی تین چار دن ویب سائیٹ کا مطالعہ کرنے کے بعد ریحان زاہد کو ایک آن لائن کام ملا ۔ کینیڈا سے کسی مندیل ڈھلوں نامی سکھ نے ریحان کے ساتھ ایک سو بیس ڈالر فی ہفتہ کا معاہدہ کیا ۔
ریحان زاہد کی زندگی کا یہ ٹرننگ پوائنٹ تھا۔ ریحان زاہد نے بہت زیادہ محنت کی اپنی جان لڑا دی اور مندیل ڈھلوں کے کام کو وقت پر مکمل کرتا رہا۔ دو ہفتے بعد ریحان زاہد کا پہلا پراجیکٹ مکمل ہوا اور دو چالیس ڈالر ریحان زاہد کے آن لائن اکاونٹ میں آگئے ۔ ریحان زاہد نے آہستہ آہستہ مزید آن لائن نوکریوں کی تلاش شروع کردی ۔ ریحان کو چھوٹی موٹی نوکریاں ملتی گئیں وہ ان کو کرتا گیا نہ کھانے کا ہوش نہ سونے کا ۔۔ بس کام کام اور بس کام ۔ ابھی تک زاہد نے گھر میں کسی کو نہیں بتایا تھا کیونکہ ریحان کے بھائی کا بھی یہی خیال تھا کہ یہ فراڈ ہے ریحان اپنے آن لائن اکاؤنٹ سے یہ پیسے نہیں نکلوا سکے گا۔ ریحان نے ایک ماہ کام کیا اور بارہ سو امریکی ڈالر کما لئے ۔ ریحان نے اپنے سالے ذیشان سے مشورہ کیا اور اسے بھی اپنے ساتھ لگا لیا ۔ ریحان زاہد کے آن لائن اکاؤنٹ میں جب ایک لاکھ بیس ہزار روپے تک جمع ہوگئے تو ریحان نے اپنے بھائی کو بتایا ۔ بھائی کا ایک ہی جواب تھا کہ سب فراڈ ہے ۔ تو وقت ضائع کررہا ہے ۔ اس نے ریحان سے کہا تم میرے ساتھ مذاق کرتے ہو۔۔ کبھی پچاس ہزار کی شکل دیکھی ہے جو مجھے ایک لاکھ بیس ہزار سنا رہے ہو ۔ ۔۔بحرحال ریحان کے بھائی نے کہا دکھاؤ ۔ ۔ ریحان نے آن لائن اکاؤنٹ میں اس کو رقم دکھائی ۔ اب مسلہ یہ تھا کہ یہ رقم آن لائن اکاؤنٹ سے بنک اکاؤنٹ میں کیسے جائے ۔۔ ریحان زاہد نے بہت مشکل سے سٹینڈرڈ چارٹرڈ بنک میں اکاونٹ کھلوایا اور رقم اس میں ٹرانسفر کرلی ۔ ریحان زاہد نے سوچا کہ میں نے دس ماہ کی تنخواہ کے برابر دو ماہ میں آن لائن کما لیا ہے کیوں نہ اس میں مزید محنت کروں ۔ ۔۔ ریحان نے گھر فون کیا سب کو بتایا کہ میں یہ کام کررہا ہوں اور اتنی آمدنی ہے ۔ اب سوچ رہا ہوں کہ نوکری چھوڑ دوں اور گھر آکر آن لائن کام کروں ۔۔ گھر والوں نے شدید مخالفت کی کہ نوکری کسی صورت نہ چھوڑو ۔ ۔ لیکن ریحان زاہد سمجھ چکا تھا کہ اس کے لئے بہتر کیا ہے ۔ ریحان نے اپنی مرضی کی اور نوکری کو خیر باد کہہ دیا اور واپس اپنے گھر منڈی بہاؤالدین آگیا۔
منڈی بہاؤالدین واپس آکر ریحان زاہد نے اپنی نئی زندگی کا آغاز کیا ۔ ۔اور آہستہ آہستہ ریحان زاہد کی زندگی کی مشکلات میں کمی آتی گئی ۔ جب گھر والوں نے دیکھا کہ ریحان گھر بیٹھ کے اچھا کما رہا ہے تو والدین اور بیوی نے ریحان کو بہت زیادہ وقت دیا اور اس کی ہر ضرورت کا خیال رکھا ۔۔
بہت تھوڑے عرصے میں ریحان زاہد نے شہر کے مشہور ٹاؤن صوفی سٹی میں اپنا گھر بنایا ۔ ۔۔ آن لائن فری لانس میں ریحان کی محنت رنگ لائی اور پوری دنیا میں آن لائن رینکنگ میں دوسرا نمبر ریحان زاہد کا ہوگیا۔ اب ریحان زاہد فائیو سٹار فری لانس تھا ۔ پچھلے چھ سال سے ریحان زاہد گھر بیٹھ کے فری لانس کے طور پر کام کررہا ہے ۔ اللہ تعالی نے ریحان کو مزید دو بیٹیاں دی ہیں ۔ ریحان کے پاس نئے ماڈل کی گاڑی ہے پورے پاکستان میں ریحان زاہد کے بہت سے طالب علم ہیں جن کو وہ فری لانس کام کرنا سکھاتا ہے ۔
ریحان زاہد کہتے ہیں کہ فری لانسنگ بہت سخت کام ہے ۔ ان طلبہ میں سے ایک فیصد ہی کامیاب ہوتے ہیں جو یہ کام کرلیتے ہیں ۔ریحان زاہد کہتے ہیں کہ زندگی میں بہت اتار چڑھاؤ دیکھے لیکن نیت صاف رکھی اور ایمانداری سے کام کیا ۔۔ سخت محنت کی کسی سے مدد نہ لی ۔ لیکن جب سرکاری نوکری ملی تو لسٹ پر آنے کے باوجود ریحان زاہد کو اپائنمنٹ لیٹر لینے کے لئے سفارش کروانا پڑی ۔۔ گو کہ وہ نوکری ریحان زاہد نے چھوڑ دی تھی لیکن اس کے بعد کسی سفارش کے چکر میں پڑنے کی بجائے اپنی محنت پر انحصار کیا ۔ ریحان زاہد کو خیبر پختونخواہ حکومت کی طرف 2018 میں بیسٹ فری لانسر کا ایوارڈ ملا تھا۔ ریحان زاہد کی زندگی کا سب سے بڑا چیلنج اپنے آپ کو معاشرے میں سیٹ کرنا تھا۔۔ اپنی ایک ساکھ بنانا تھی جس میں ریحان زاہد کامیاب ہوا۔ ریحان زاہد کہتا ہے کہ میں کسی شخص کے ماتحت رہ کے کام نہیں کرسکتا یہ میری فطرت کے ہی خلاف ہے ۔ میں نے جتنا عرصہ نوکری کی اپنی ایمانداری سے کی لیکن کسی قسم کا دباؤ برداشت نہیں کیا ۔ ریحان زاہد کہتے ہیں کہ آگے بڑھنے کے لئے شارٹ کٹ کبھی کامیاب نہیں ہوتے صرف آپ کی محنت محنت اور محنت آپ کو آگے لے جاتی ہے ۔ وہ کہتے کہ میری عملی زندگی کا یہی سبق ہے کہ آپ محنت کریں ۔وہ کہتے ہیں کہ اگر آپ محنت نہیں کرسکتے تو پھر اس کی دو وجوہات ہی ہوسکتی ہیں ۔۔ یا آپ خاندانی نواب ہیں یا لمبی چوڑی جائیداد ہے جس سے پیسہ آرہا ہے ۔ اگر یہ دونوں چیزیں نہیں ہیں تو پھر آپ کے محنت نہ کرنے کا جواز مجھے سمجھ نہیں آتا ۔ ۔ ریحان کو سب سے زیادہ سپورٹ کرنے والوں میں ان کے والد زاہد شکیل ان کے بھائی اور والدہ دعائیں جبکہ ان کی مسز کا ساتھ اور حوصلہ افزائی شامل رہی ۔ ان کے بہتریں اساتذہ میں ایم بی ہائی سکول کے استاد منور صاحب مرحوم تھے ۔ ریحان کہتے ہیں کہ اگر میں ان سب میں سے کسی ایک کو اپنا راہنما کہوں تو وہ میرے نانا مرحوم تھے جنہوں نے مجھے زندگی جینے کے لئے بہت کچھ سکھایا
ریحان کہتے ہیں کہ آگے بڑھنے کے لئے کسی شخص نے کوئی خاص مدد نہیں کی۔۔ کیونکہ یہ کام ایسا تھا جو صرف مجھے ہی کرنا تھا کوئی آدمی اس میں میری مدد نہیں کرسکتا تھا۔۔ یہ سب میں اپنے قوت بازو سے کیا ہے ۔ ریحان زاہد دوسروں کی مدد کرنے کے قائل ہیں ۔ وہ کہتے ہیں کہ غرور کبھی نہ کرو ، نظریں نیچی زمین پر رکھو ، کسی کے بارے میں غلط نہ سوچو ۔ ریحان زاہد کہتے ہیں یہی میری زندگی کا سبق ہے جو میں نے سیکھا ہے ۔
تحریر افتخار احمد

Photos

Statistic

11 Views
0 Rating
0 Favorite
0 Share

Categories

Author

Claim Listing

Is this your business?

Claim listing is the best way to manage and protect your business.

Related Listings