fabric 1.16.5, mc-mod, optifine hd 1.16.5, mod apk, mod apk games
Skip to content Skip to left sidebar Skip to footer

Culture

Town Cinema to Screen Indie Movies

An independent film is a film production resulting in a feature film that is produced mostly or completely outside of the major film studio system. In addition to being produced and distributed by independent entertainment companies, independent films are also produced and/or distributed by subsidiaries of major film studios.

Read More

گجر قوم

گوجر (گُجر، گجَُر) ایک قوم کا نام ہے، جو برصغیر میں دور دور تک آباد ہے۔۔ جو چھٹی صدی عیسوی میں برصغیر میں داخل ہوئے تھے۔ ان کی جسمانی خصوصیات ظاہر کرتی ہیں کہ یہ خالص ہند آریائی نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔

گوجروں کا تعلق ہنوں سے تھا یہ ان کے بعد برصغیر میں آئے تھے اور انہوں نے راجپوتانہ کا بڑا حصہ فتح کرلیا اور کئی صدیوں تک برصغیر کی تاریخ میں اہم کردار ادا کرتے رہے۔ ڈی آر بھنڈارکر نے ثابت کیا ہے کہ گوجارے شمالی ہند میں 550 عیسوی کے قریب سفید ہنوں کے ساتھ یا ان کے بعد داخل ہوئے تھے۔ ان کا ذکر سب سے پہلے پانا کی کتاب ’ہرش چرت‘ میں آیا ہے، جو انہیں ہنوں کی طرح ہرش کے باپ کا دشمن قرار دیا ہے۔

محمد عبدالمک نے ’شاہان گوجر‘ میں لکھا ہے کہ دوسرے ممالک میں اس قوم کو خزر، جزر، جندر اور گنور بھی کہا گیا ہے۔ برصغیر میں یہ پہلے گرجر کی صورت پھر گوجر ہوگیا۔ یہ لوگ گرجساتان سے آئے تھے۔ بحیرہ خزر کا نام شاید خزر پڑھ گیا کہ اس کے ارد گرد خزر یعنی گوجر آباد تھے۔ جو کہ سھتین قبایل کی نسل سے ہیں۔ شاہان گوجر میں اگنی کل کی چاروں قوموں چوہان، چالوکیہ، پڑھیار اور پنوار کا ذکر گوجروں کے ضمن میں کیا ہے۔

حسن علی چوہان نے ’تاریخ گوجر‘ میں لکھا ہے کہ رامائین میں گوجر کے معنی غازی کے آئے ہیں اور یہ کشتری ہیں جو بعد میں گوجر کہلانے لگے۔ اس میں سورج بنسی، چندر بنسی، چوہان، چالوکیہ، پڑھیار، پنوار اور راٹھوروں کو بھی گوجر کہا گیا ہے۔ مگر ان اقوام نے کبھی گوجر ہونے کا دعویٰ نہیں کیا اور نہ ہی گوجروں نے کبھی ان اقوام سے اپنا نسلی تعلق ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ جب کہ جہانگیر کا کہنا ہے کہ گوجر قوم کے لوگ نوکری نہیں کرتے ہیں، ان کی گزر اوقات دودھ دہی پر ہے۔ جلال الدین اکبر نے ایک قلعہ بنا کر اس میں گوجروں کو آباد کیا تھا جس کا نام گجرات ہوگیا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ گوجر اور گجر کی اصل ایک ہی ہے۔

گوجروں کی آبادی کا دور دور تک منتشر ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ ان کی فرمانروائی کا دائرہ کس قدر وسیع تھا۔ گوجر بیشتر گلہ بانوں کی ایک قوم تھی جو جنگ و پیکار کی دلدادہ تھی اور آج کل بھی گوجروں میں یہ رجحانات پائے جاتے ہیں۔ یہ مستقل مزاج زراعت کاروں کی حثیت سے شہرت کے مالک ہیں۔ تاہم انہوں نے عمومی حثیت سے اقامت کی زندگی اختیار کرلی ہے۔ ہند کے انتہاہی شمالی مغربی حصہ خاص کر کانگرہ اور سنجھال کے پہاڑوں کے بیرونی کناروں تا حال گوجر خانہ بدوش چرواہوں اور گلہ بانوں کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔ ان کے نام پر شمالی مغربی برصغیر میں بہت سی بستیاں، قبضے اور شہر آباد ہوئے جو اب تک موجود ہیں۔

گوجروں نے اپنی ریاست کوہ آبو کے قریب بھٹمل میں قائم کی تھی۔ اس خاندان کی ایک اور شاخ بروچ نے ایک اور ریاست قائم کی تھی جو ان کے نام سے بروچ کہلائی۔ ایک اور شاخ اونٹی کے نام سے موسوم ہوئی ہے۔ اس خاندان نے عربوں کو جو گوجروں کے علاقہ تاراج کررہے تھے روکا۔ ان دونوں خاندانوں میں بالادستی کے لئے جنگ ہوئی۔ جس میں اونٹنی خاندان کو کامیابی ہوئی اور ان کو اپنے اپنے طاقتور پڑوسییوں راشٹر کوٹوں اور پالوں سے جنگیں کرنی پڑیں۔ اونٹی راجہ ناگاہ بھٹ دوم (800ء؁ تا 825ء؁) نے مونگیر کے مقام پر دھرم پال کو شکست دی۔ اس نے کاٹھیاوار، مالوہ اور راجپوتانہ میں کامیاب لڑائیاں لڑیں۔ اس کا بیٹا بھوج ایک کامیاب اور قابل راجہ تھا۔ شروع میں اس نے پالوں اور راشٹر کوٹوں سے شکست کھائی۔ مگر بالاآخر اس نے اپنے دشمنوں کو ہرا کر اپنے دشمنوں کو ہرا کر کھوئے ہوئے علاقے دوبارہ حاصل کرلیے۔

بروچ کے دارلحکومت قنوج پر گوجروں کی شاخ پرتی ہاروں کا قبضہ ہوگیا تھا۔ مگر راجہ یشودومن سے قبل کی تاریخ کا علم نہیں ہے۔ یشودرمن کشمیر کے راجہ للیتا کے ہاتھوں شکست کھا کر مارا گیا۔ نویں صدی کے شروع میں بنگال کے راجہ دھرم پال نے قنوج کے راجہ کو تخت پر سے اتار کر اپنی پسند کے آدمی کو تخت پر بٹھا دیا۔ اس کو تقریباً 816ء؁ میں ناگابھٹ دوم نے نکال باہر کیا۔ اس کے بیٹے بھوج نے قنوج کو اپنا پایا تخت بنایا۔ اس ایک طویل عرصہ (840ء؁ تا 890ء؁) تک ایک وسیع علاقے پر حکومت کی۔ اس کا بیٹا مہندر پال (890ء؁ تا 908ء؁) اپنے باپ کی وسیع مملکت کو برقرار رکھنے میں کامیاب ہوگیا۔ مگر اس کے بعد اس ریاست کو ذوال آگیا اور اس کا بیٹا مہی پال اندر سوم کے ہاتھوں جو دکن کے راشترکوٹیہ خاندان سے تعلق رکھتا تھا شکست کھا گیا اور درلحکومت پر بھی اندر سوم کا قبضہ ہوگیا۔ مہی پال نے اگرچہ قنوج پر دوبارہ قبضہ کرلیا لیکن وہ ریاست کے شیرازے کو بکھرنے سے نہیں بچا سکا۔ پڑھیاروں کی ایک ریاست رجپوتانہ میں مندوری یا مندر کے مقام پر تھی، جس کو راٹھوروں نے چھین لی تھی۔ عبدالمک نے گوجروں کا خزر قوم کی باقیات ہونے کا دعویٰ محض اس وجہ سے کیا ہے کہ پاکستان کے شمالی حصہ یعنی شمالی پنجاب سرحد اور کشمیر کے گوجروں کا کہنا ہے کہ وہ ترکی النسل ہیں۔

خزر جو ایک ترکی قوم تھی، جس نے نوشیروان عادل سے کچھ عرصہ پہلے عروج حاصل کر لیا تھا اور غالباََ یہی ترک تھے، جن کے خلاف دربند کی سدیں تعمیر ہوئیں۔ خزر نے ترکی خانہ بدوش سلطنت کی روایات کو قائم رکھا۔ قباد کی پہلی تخت بشینی کے وقت خزر قبیلے نے ایران پر یورشیں شروع کردیں۔ قباد نے خزر حملہ آورں کا مقابلہ کیا اور انہیں شکست دے کر ملک سے باہر نکالا۔

بحیرہ خزر کے مشرقی علاقوں میں ساسانیوں نے اپنے ترک ہمسایوں کے خلاف مدافعتی قلعے تعمیر کئے۔ صوبہ جرجان کی حفاظت کے لئے آجری سد بنائی گئی۔ لیکن یہ ترکوں کے فاتحانہ حملوں کی روک تھام نہ کرسکیں۔ جرجان اور طبرستان کے درمیانی سرحد پر ایک اور اس لئے دیوار تعمیر کی گئی تھی کہ صوبہ جرجان ہاتھ سے نکل گیا تھا۔ نوشیروان نے533ء؁ میں قیصر روم سے ایک معاہدہ کرلیا۔ اس معاہدہ کے تحت رومی حکومت نے ایک بڑی رقم دینے کا وعدہ کیا، جس کے بدلے نوشیرواں نے دربند اور کوہ کاف کے دوسرے قلعوں کی حفاظت کی ذمہ داری لی۔ نوشیروان عادل (531 تا 579) ساسانی حکمران نے مغربی ترکوں سے جن کا حکمران ایل خان تھا دوستانہ تعلقات قائم کئے اور ان کی مدد سے افغانستان میں ہنوں کو شکست دی اور اس کے بعد خزر قبائل پر فوج کشی کی اور ان کی طاقت کو پارہ پارہ کردیا۔ خزر قوم تاریخ کے صفحات سے غائب ہوگئی۔ اس سے بھی ترکوں کی طاقت میں خاطر اضافہ ہوا اور افغانستان میں ہنوں کے خالی کردہ علاقوں پر ترک براجمان ہوگئے۔ یہی وجہ ہے تھی جس کے سبب ترکوں اور نوشیروان میں اختلاف پیدا ہوگیا۔

بہر حال گوجروں کے ترکی النسل ہونے میں تو ہمیں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ لیکن اس پر اختلاف ہے کہ گوجر خزر النسل ہیں۔ کیوں کہ ترکوں کی مغربی سلطنت جس کی علمبرداری افغانستان کے علاقوں پر بھی تھی وہ خزروں کی دشمن تھی اس لئے خزر قوم کا برصغیر کی طرف آنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ہے۔ جو ترک قبائل ساسانی سرحدوں کے قریبی ہمسائے تھے۔ ان میں ایک قبیلہ غز تھا اور اسی نسبت سے ترک قبائل کو غز بھی کہا جاتا تھا۔ یہ قبیلہ غز کے علاوہ غزر بھی پکارا جاتا تھا اور یہ کلمہ ترکوں کے ناموں میں بھی آیا ہے۔ مثلاً غزر الدین مشہورخلجی التتمش کے دور میں گزرا ہے۔ غرز جو ترک تھے ہنوں کی شکست کے بعدبرصغیر میں داخل ہوئے۔ یہ نہ صرف بہترین لڑاکے، خانہ بدوش اور گلہ بان تھے۔ غالب امکان یہی ہے کہ غرز ہند آریائی لہجہ میں گجر ہوگیا۔ کیوں کہ ہند آریا میں ’غ‘ ’گ‘ سے اور ’ز‘ ’ج‘ سے بدل جاتا ہے اور گجر کا معرب گوجر ہے۔

پاکستان میں گجر شخصیات

  • چوہدری رحمت علی
  • فضل الہی چوہدری
  • میجر طفیل محمد شہید
  • شعیب اختر
  • حافظ محمد سعید
  • قمر زمان کائرہ
  • میجر جنرل بلال اکبر
  • علامہ لیاقت حسین
  • نوید عالم
  • مفتی منیب الرحمان
  • سجاد گجر کبڈی پلیئر
  • بابر وسیم گجر کبڈی پلیئر

مآخذ

  • گوجر۔ معارف اسلامیہ
  • ڈاکٹر معین الدین، عہد قدیم اور سلطنت دہلی
  • حسن علی چوہان، تاریخ گوجر
  • نورالدین جہانگیر، تزک جہانگیری
  • جیمزٹاڈ۔ تاریخ راجستان جلد اول
  • ڈاکٹر معین الدین، اقدیم مشرق جلد دؤم

 

پنجابی لوگ

پنجابی لوگ

 
 
پنجابی شخصیات
حفیظ جالندھری.jpg
حفیظ جالندھری
Sikh Gurus with Bhai Bala and Bhai Mardana.jpg
گرو نانک
Amrita Pritam (1919 – 2005) , in 1948.jpg
امرتا پریتم
RanjitSinghKing.jpg
مہاراجہ رنجیت سنگھ
BullehShah.jpg
بلھے شاہ
Bhagat Singh 1929 140x190.jpg
بھگت سنگھ
Thumb1.jpg
عبد السلام
Wasim Akram.jpg
وسیم اکرم
Iqbal.jpg
محمد اقبال
Amrita Sher-Gil, painter, (1913-1941).jpg
امرتا شیر گل
Faizahmadfaiz2.JPG
فیض احمد فیض
Insha.jpg
ابن انشاء
Prime Minister Manmohan Singh in WEF ,2009 (cropped).jpg
منموہن سنگھ
Jagjit Singh (Ghazal Maestro).jpg
جگجیت سنگھ
Zia ul haq.jpg
محمد ضیاء الحق
Iftikhar Muhammad Chaudhry.jpg
افتخار محمد چوہدری
Kalpana Chawla, NASA photo portrait in orange suit.jpg
کلپنا چاولہ
Amir Khan.jpg
عامر خان
Liaquat Ali Khan.jpg
لیاقت علی خان
Pak nusrat150.jpg
نصرت فتح علی خان
کل آبادی
120 ملین (تخمینہ)
خاطر خواہ آبادی والے علاقے
Flag of Pakistan.svg پاکستان 81,379,615[1]
Flag of India.svg بھارت 33,102,477[2]
Flag of the United Kingdom.svg مملکت متحدہ 2,300,000[3]
Flag of Canada.svg کینیڈا 800,000[4]
Flag of the United Arab Emirates.svg متحدہ عرب امارات 720,000
Flag of the United States.svg ریاستہائے متحدہ امریکا 640,000
Flag of Australia.svg آسٹریلیا 620,000
Flag of Saudi Arabia.svg سعودی عرب 560,000
زبانیں
• پنجابی •
مذہب
Allah-green.svg اسلام
Om.svg ہندومت
Khanda.svg سکھمت
Christian cross.svg عیسائی[5]
دیگر
متعلقہ نسلی گروہ
سرائیکی • کشمیری • ہندکو • گجراتی • راجستھانی

پنجابی لوگ (پنجابی:پنجابی لوک) خطۂ پنجاب جو کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان موجود ہے، سے ایک نسلی گروہ ہے۔ پاکستان میں صوبہ پنجاب میں آباد ہیں جبکہ بھارت میں بھی بھارتی ریاست پنجاب میں آباد ہیں۔ ان کی مادری زبان پنجابی ہے جبکہ اس کے علاوہ انگریزی،اردو،سرائیکی،پشتو اور پوٹھوہاری وغیرہ کو بطور دوسری زبان استعمال کرتے ہیں۔اب اور بھی گروہ بن گئے ہیں (جیسے سرائیکی،وغیرہ) وہ بھی پنجابی نسلی گروہ کی ہی ایک قسم ہے جن کا زمین فاصلے کے ساتھ ساتھ لہجہ بدل گیا ہے۔

محل وقوع


پنجابی لوگ اصل میں خطہ پنجاب میں آباد ہیں۔ پنجاب کا مطلب پانچ دریاؤں کا خطہ۔ مقامی پنجابی آبادی اس وقت بطور مقدر ابھری جب اٹھارویں صدی میں رنجیت سنگھ نے پہلی مرتبہ پنجاب اعظم کا بنیاد رکھا جس میں موجودہ پاکستانی پنجاب،بھارتی پنجاب،پورا آزاد کشمیر اور موجودہ خیبر پختونخوا شامل ہیں یہ سارے علاقے پنجاب میں شمار ہوتے تھے۔

پنجابی لوگ مشرق میں میں بھارتی ریاست ہماچل پردیش،ہریانہ اور راجستھان سے لے کر مغرب میں پاکستانی صوبے خیبر پختونخوا تک جبکہ شمال میں جموں و کشمیر سے لے کر جنوب میں سندھ تک آباد ہیں۔

پاکستانی پنجابی]

پاکستان میں تقریبا 40 سے 45 فیصد لوگ ہیں جو پنجابی زبان بولتے ہیں۔پاکستان میں پنجابی آبادی دو اہم گروہ میں منقسم سمجھی جاتی ہے ، زمیندار اور قوم۔ زمیندار اصل میں ان پنجابیوں کو کہا جاتا ہے جو زراعت اور کاشتکاری سے منسلک ہوتے ہیں۔زمیندار گروہ مزید راجپوت، جٹ،شیخ،گوجر،گاکخر،ڈوگر اور رحمانی میں منقسم کیا گیا ہے۔پاکستان میں پنجابی اکثریتی آبادی مسلمان ہیں۔

درجہ صوبہ پنجابی متکلمین فیصد
پاکستان 76,335,300 44.15
1 پنجاب 70,671,704 75.23
2 سندھ 3,592,261 6.99
3 وفاقی دارالحکومت،اسلام آباد 1,343,625 71.62
5 بلوچستان 318,745 2.52

بھارتی پنجابی

 

ایک بھارتی پنجابی کاشتکار

بھارت میں پنجابی مذہبی اعتبار سے دو اہم گروہوں میں تقسیم ہیں، ایک سکھآبادی اور دوسری ہندو آبادی۔ بھارت میں پنجابی آبادی تقریبا 4 فیصد ہے جو تقریبا 3 کروڑ سے زیادہ افراد بنتے ہیں۔

مذہب

پنجابی لوگوں میں سب سے زیادہ دو مذاہب ہیں ،پاکستان میں مقیم پنجابی اکثریتی طور پر مسلمان جبکہ بھارت میں مقیم پنجابی سکھ مذہب کے پیروکار ہیں۔ پنجابی اکثر مسلمان ہیں جو سنی اسلام کے فقہ حنفی پیروکار ہیں

ثقافت

زبان


پنجابی لوگوں کی مادری زبان پنجابی ہے جو ایک ہند یورپی زبان ہے جو کہ باشندگان پنجاب میں مروج ہے۔ پنجابی بولنے والوں میں ہندومت، سکھ مت، اسلام، اور مسیحیت کے پیروکار شامل ہیں۔ اول الذکر مذہب کے علاوہ باقی تینوں مذاہب میں اس زبان کو خاص حیثیت حاصل رہی ہے۔ پاکستان اور بھارت میں کیے گیے مردم شماریوں کے مطابق دنیا میں پنجابی بولنے والوں کی تعدا 14-15کروڑ سے زائد ہے ۔اس کے علاوہ اردو،ہندی اور انگریزی بطور دوسری زبان استعمال کرتے ہیں۔

پنجابی ثقافتی کھانا

 

 

گاجر کا حلوہ

پنجاب میں تندوری کھانے زیادہ عام ہیں۔ پنجابی ثقافتی کھانوں میں مرغ تکہ،آلو گوبی،پراٹھا،دیسی لسی ، تندوری چکن،زیرہ چاول،پنجیری، تڑکہ دال،سیویاں،گاجر حلوہ ،اچار گوشت اور پنیر شامل ہیں

رقص

پنجاب میں بہت سے ثقافتی رقص معموم ہیں جن میں سب سے معروف رقص بھنگڑا ہے جو مختلف تقریبات اور تہوار میں کیا جاتا ہے۔ دیگر درج ذیل ہیں:

  • بھنگڑا
  • سمی
  • گِددھا
  • ککلی
  • جھومر
  • ڈنڈاس
  • جگنی

 

پنجابی بلحاظ ملک

درجہ ملک آبادی
1 Flag of Pakistan.svg پاکستان 81,379,615
2 Flag of India.svg بھارت 33,109,672
3 Flag of the United Kingdom.svg مملکت متحدہ 2,300,000
4 Flag of Canada.svg کینیڈا 800,000
5 Flag of the United Arab Emirates.svg متحدہ عرب امارات 720,000
6 Flag of the United States.svg ریاستہائے متحدہ امریکا 640,000
7 Flag of Saudi Arabia.svg سعودی عرب 620,000
8 Flag of Australia.svg آسٹریلیا 620,000
9 Flag of Hong Kong.svg ہانگ کانگ 260,000
10 Flag of Malaysia.svg ملائیشیا 185,000
11 Flag of South Africa.svg جنوبی افریقہ 140,000
12 Flag of Myanmar.svg برما 120,000
13 Flag of France.svg فرانس 90,000
14 Flag of Italy.svg اطالیہ 80,000
15 Flag of Thailand.svg تھائی لینڈ 75,000
16 Flag of Japan.svg جاپان 75,000
17 Flag of Mauritius.svg موریشس 70,000
18 Flag of Singapore.svg سنگاپور 70,000
19 Flag of Oman.svg سلطنت عمان 68,000
20 Flag of Libya.svg لیبیا 65,000
21 Flag of Bahrain.svg بحرین 60,000
22 Flag of Kenya.svg کینیا 55,000
23 Flag of Tanzania.svg تنزانیہ 45,000
24 Flag of Kuwait.svg کویت 40,000
25 Flag of Norway.svg ناروے 25,000
26 Flag of Denmark.svg ڈنمارک 15,000

اعوان برادری کے بارے میں تفصیل جانیں

اعوان اکثر انصار کے ساتھ استعمال ہوتا ہے۔ اعوان ایک قوم کا نام جو جنوبی ایشیا میں، پاکستان کے پنجاب کے مغربی حصوں میں ایک قبیلہ ہے. اعوان قوم عربی النسل ہونے کا دعویٰ کرتی ہے کہ وہ چوتھے خلیفہ علی کرم اللہ کی اولاد ہیں. اعوان قوم کا سلسلہ نسب علی بن ابی طالب کرم اللہ وجہہ سے جا ملتا ہے. اعوان قوم کوہ نمک کے علاقے وادی سون سکیسر وغیرہ میں ساتویں صدی عیسوی میں عرب حملہ آوروں کے دور میں یہاں آ ئی تھی. اعوانوں کو کم از کم پاکستان میں سب سے بڑا قبیلہ مانا جاتا ہے جو خیبر سے کراچی و بلوچستان و پنجاب تک میں آباد ہے۔ سندھی‘ بلوچی‘ ہندکو اور پشتو بولنے والے اعوان بھی جگہ جگہ مل جاتے ہیں۔

 

عون قطب شاہ

اعوان قوم کے جد امجد عون قطب شاہ ایک نہایت درویش، صوفی، دلیر مجاہد انسان تھے۔ آپ کی تاریخ پیدائش کے متعلق وثوق سے کچھ کہنا مشکل ہے، البتہ آپ 525ھ میں تبلیغ اسلام بسلسلہ قادریہ کے لئے بحکم جناب شیخ عبدالقادر جیلانی ہندوستان وارد ہوئے۔
عون قطب شاہ کی ہندوستان آمد کے ساتھ ہی پہلا معرکہ دھن کوٹ کمیلا بھنگ خیل نزد کالا باغ سے ہوا۔ عون قطب شاہ کامیاب ہوئے مخالف نے اسلام قبول کیا بعد میں سکیسر راجگان کو زیر کیا اور گجرات تک چلے گئے۔ واپسی پر تلہ گنگ کے مقام پراعوان محل تیار کیا اس کا تذکرہ آئینہ اکبری میں موجود ہے۔ علاقہ پکھڑ دھن پنڈی وغیرہ سے کافی راجگان بھگوڑے ہو کر سکیسر آئے عون قطب شاہ ان کی سر کوبی کے لئے وارد ہوئے علاقہ کو مطیع کیا جنوب میں خانقاہ ڈوگراں تک چلے گئے، اس کے بعد خاندان کے ہمراہ بغداد عازم سفر ہوئے ۔عون قطب شاہ نے 556ھ میں وفات پائی آپ کا مزار کاظمین شریف کے قبرستان میں غوث پاک کے پاؤں کی جانب ہے۔

گوہر شاہ عرف گورڑا

قطب شاہ جو سلطان محمود غزنوی کے ہمراہ جہاد پر تھے۔ جب سلطان نے واپسی اختیار کی تو سلطان سے اجازت لے کر کفرستان ہند میں تبلیغ اسلام کے ارادے سے کالا باغ میں مقیم ہو گئے۔ مگر گرد و نواح کے راجاؤں نے ان پر حملہ کر دیا۔ مگر فتح قطب شاہ کو ہوئی اور اسلام نے پھیلنا شروع کر دیا۔ کالا باغ میں جو اعوان فیملی ہے اور جس کے مشہور و معروف ممبر ملک امیر محمد خان نواب کالا باغ تھے۔
اعوان خاندان کے پہلے بزرگ وادی سون سکیسر میں داخل ہوئے۔ ان کا نام گرامی گوہر شاہ عرف گورڑا تھا‘ خوشاب سے آنے والی سڑک جب نورے والے کے مقام سے سون کے پہاڑ پر تین میل اوپر چڑھتی ہوئی پہاڑ کے اوپر وادی سون سکیسر کے منہ پر پہنچتی ہے وہاں ایک مقام ہے جسے دادا گورڑا کہتے ہیں کیونکہ وہاں پر دادا گورڑا (گوہر شاہ) نے قیام کیا تھا۔ اور جو بھی شخص اس راستے وادی سے تھل کے علاقے میں اترتا ۔ یا تھل سے اوپر وادی میں داخل ہوتا تھا رسماََ ایک پتھر وہاں پر پھینک دیتا تھا حتی کہ وہاں پتھروں کا ایک ٹیلہ بن گیا تھا۔ بالآخر جب وہاں بسوں کے لئے سڑک کی تعمیر ہوئی تو سڑک بنانے والوں نے اس ٹیلے کا ایک بڑا حصہ ہٹا دیا۔ رفتہ رفتہ اعوان ساری وادی پر قابض ہو گئے اور آج تک وادی سون سکیسر کو اعوانوں کے گڑھ کی حیثیت حاصل ہے
ضلع چکوال میں زیاده اعوان رہتے ہیں ان کا ایک اہم قبیله چکوال کے گاوں کرولی میں رہتا ہے ملک گلزار اعوان اسی گاوں کے قبیلے کے سردار ہیں۔
اعوان پابندیٔ شریعت اور حفظ قرآن حکیم کے لئے مشہور رہے ہیں‘ اعوان قبیلہ نے بے شمار اور بہترین حافظ قرآن پیدا کئے‘ بعض لوگ تصور کرتے ہیں کہ اعوانوں کے علاقہ کو اعوان کاری اسی لئے کہتے ہیں کہ وہاں کے قاری اچھے ہیں. ٹھیک ہے اعوان کاری کے قاری اچھے ہیں لیکن اعوان کاری کے معنی ہیں اعوانوں کی آبادی کا علاقہ۔ (کاری کے معنی بھرپور اور گہرائی کے ہیں جبکہ قاری کے معنی پڑھنے والا ہوتا ہے) بعینہ اسی طرح جس طرح کہ پٹھانوں کے علاقے کو پٹھان ولی کہتے ہیں اور اگرچہ پٹھانوں میں ولی بہت ہوتے ہیں اور بڑے مرتبہ کے ولی ہوتے ہیں لیکن پٹھانوں کے علاقے کو پٹھان ولی کہنے کا مطلب ہے کہ پٹھانوں کی آبادی کا علاقہ ہے ولی اعوانوں میں بھی بے شمار ہوئے ہیں۔ صرف وادی سون سکیسر کے چھوٹے سے علاقے میں چار سلطان العارفین کے مزارات ہیں۔
سلطان انب شریف،
سلطان سخی محمد خوشحال،
سلطان حاجی احمد اوچھالہ اور
سلطان مہدی بھانکہ گاؤں میں،
ان کے علاوہ سلطان العارفین سلطان باہو بھی اعوان قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں ان کے والد ماجد بازید شاہجہان کے زمانے میں موضع انگہ وادی سون سکیسر سے ہجرت کر گئے۔ انگہ مولانا غلام مرشد صاحب اور جناب احمد ندیم قاسمی کا گاؤں ہے۔ اور جہاں پر پیر مہر علی شاہ گولڑوی نے قرآن حکیم کی تعلیم حاصل کی تھی۔ خوشی کی بات یہ ہے کہ اعوان قبیلہ کے لوگ علاقہ سون سکیسر سے ہر طرف پھیل گئے اور وہاں تبلیغ اسلام کا فریضہ انجام دیا حتی کہ خطہ کشمیر بھی اس سعادت سے محروم نہیں ہے۔
بابا گوہر علی شاہ کی اولاد میں بہت ولی اللہ پیدا ہوئے ہیں۔ ان میں بابا جھام آج سے بہت پہلے ایک اعوان گھرانہ موضع کھبیکی علاقہ سون سکیسر میں پیدا ہوئے ۔ آپ ابھی چند مہینوں کے تھے کہ ایک دن آپ کی والدہ ماجدہ کہیں باہر جاتے ہوئے اپنی دو کم سن بیٹیوں کو کہہ گئی کہ گائے کے لئے باجرے کی دو پوری پڑوپیاں اور ایک منی پڑوپی ہنڈیا پر ڈال کر چولہے پر چڑھا دینا۔ بچیاں کھیل میں لگ گئیں اور انہیں یاد نہ رہا کہ والدہ نے کتنے دانے چولھے پر چڑھانے کے لئے کہے تھے ۔ وہ آپس میں ایک دوسرے کو پوچھنے لگیں ۔ ننھا جھام جو پنگھوڑے میں پڑا تھا کہہ اٹھا دو بھریاں ایک منیڑری، یعنی دو پوری پڑوپیاں ایک منی پڑوپی دانے ناپنے کا ایک پیمانہ ہے جو پہلے لکڑی سے بنتا تھا پھر لوہے کا بننے لگا اور دانے ناپنے کے لئے وادی سون سکیسر میں استعمال ہوتا ہے۔ والدہ جب واپس لوٹی تو بچیوں نے کہا اماں یہ ہمارا بھائی تو کوئی بلا ہے اور ماں کو تمام تفصیل سے آگاہ کر دیا ۔ بچے کو کپڑوں میں لپیٹ کر جنگل میں ایک اونچے ٹیلے کے دامن میں ڈال دیا گیا۔ چند روز میں جب اس بات کا چرچا ہوا گاؤں میں عام ہوا تو لوگ بچے کی تلاش میں نکلے دیکھا تو بچہ صحیح سالم پڑا اپنا انگوٹھا منہ میں ڈالے چوس رہا ہے اور انگوٹھے سے دودھ آ رہا ہے اتنے دنوں نہ تو اسے کسی جنگلی جانور نے جو ان دنوں بے شمار پھرتے تھے کچھ کہا نہ اسے بھوک کی کچھ تکلیف ہوئی۔ لوگوں نے جب بچے کو اٹھایا تو بچے نے برجستہ کہا۔ اپنیاں کڑمتیں جھام ڈھبے اتے سٹیں۔ یعنی اپنی کرامات نے جھام کو ٹیلے پر پھینکوایا۔ یہ ٹیلہ اب بھی موضع کھبکی کے شمال میں کھڑا ہے اور اب بھی اس کو جھامے والا ڈھبہ کہتے ہیں۔ بابا جھام کی قبر بھی اسی ٹیلے پر واقع ہے۔[4]
بابا نڈھا بابا جھام کے والد محترم تھے۔ ان کی ایک بیٹی کالا باغی اعوانوں کے خاندان میں بیاہی ہوئی تھی۔ جھیل کھبکی بابا نڈھا کی ملکیت تھی۔ اس جھیل میں اس وقت پانی نہ تھا۔ اور اس رقبے میں کاشت کاری ہوتی تھی۔ ایسی قابل کاشت زمین پاکستان بھر میں نہیں اور اس کو کہار کہا جاتا ہے۔ اور اس کی مکئی کا ہر طرف چرچا تھا۔ بابا نڈھا کی مذکورہ بیٹی نے چاہا کہ بابا نڈھا کچھ زمین اس کہار میں سے اس کے نام کردیں تاکہ اس میں مکئی کی فصل اگائی جا سکے۔ بابا نڈھا کا جواب تھا بیٹی مکئی کی ہر فصل پر میں یہاں سے مکئی سے لدا ہوا جانوروں کا قافلہ کالا باغ تک چلاؤں گا مگر کہار کی زمین دینے سے معذور ہوں ۔ میراثی نے جو جس (شعر) بابا نڈھا کی شان میں پڑھا تھا اسکا ایک بند تاریخ میں اؔ گیا ہے۔ اور وہ یوں ہے :۔
نڈھے مونہیاں ماریاں کھڑڈنڈے اٹی
سیر نہ دیندا مانگویں کہاروں مٹی
یعنی نڈھے نے شمشیر زنی کے بڑے بڑے معرکے مارے لیکن کہار کی زمین سے مانگنے والے کو ایک سیر مٹی بھی نہیں دیتا۔
بابا گوہر علی شاہ کی اولاد سے موضع کھبکی میں ایک سردار خان بلاقی اعوان تھا۔ خان بلاقی کا ایک بھائی دریا خان تھا۔ ایک روز خان بلاقی کو کوئی ضروری کام کٹھہ گاؤں میں پڑ گیا۔ اوروہ گھوڑے پرسوار ہو کر چل پڑا اور اپنے بھائی دریا خان کو ساتھ لے لیا۔ کھبکی سے کٹھہ کا سفر پندرہ میل نہایت ہی دشوار گذار اور نوکیلے پتھروں والا ہے ملک دریاخان گھوڑے کے آگے آگے چل رہا تھا اور ملک دریا خان کے پاؤں میں جوتے نہ تھے وہ نوکیلے پتھروں میں ننگے پاؤں گھوڑے کے آگے آگے بھاگ رہاتھا۔ کٹھہ گاؤں پہنچ کر خان بلاقی نے وہاں کے سردار سے جو کچھ کہنا سننا تھا وہ کہاسنااور فوری واپسی اختیار کر لی۔ ملک دریا خان حسب معمول گھوڑے کے آگے اّگے بھاگتا رہا گھر پہنچ کر تھکے ماندے خان بلاقی نے کچھ دیر کے لئے اّۤنکھ موند لی اور یوں سستا کراٹھااور مسجد میں پہنچا ۔اس کامعمول تھا کہ رات کے پچھلے پہر مسجد کے گوشے میں بیٹھ کر یاد الہی کرتا تھا۔ اس رات جب وہ مسجد کے اندر داخل ہوا تو وہ کسی ذی روح کی سانس کی آواز سن کر ٹھٹھکا سانس کی آواز مسجد کے اسی گوشے سے اّرہی تھی جس میں وہ بیٹھ کر یاد الہی کرتا تھا۔ کچھ دیر کے لئے وہ خاموش کھڑا رہا ۔ پھر پوچھا کون ہے؟ جواب میں ایک مضحمل سی اّۤواز اۤئی ۔ جی میں دریا ہوں۔ خان بلاقی نے یہ سن کر کہاکہ اۤپ نے سرداری لے لی ہے مگر پانے زور سے۔ اور پھر واپس مڑا اور چلا گیا۔ بات دراصل یہ تھی کہ ملک دریا خان کے پاؤں لہو لہان ہو گئے تھے وہ تھکاوٹ سے چور چور ہوچکا تھا۔ اور اس سے بھی بڑھ کر اس کو یہ صدمہ تھا کہ راستہ بھر تک خان بلاقی نے یہ نہ کہاکہ اب میں کچھ دور تک پیدل چلوں گا اور تم گھوڑے پر سوار کر لوں ۔ اس بات کا صدمہ اسے اتنا شدید ہوا کہ تھکن کے باوجود گھر نہیں گیا بلکہ سیدھا مسجد میں گیا اور اسی کونے میں بیٹھ گیا جس میں خان بلاقی بیٹھا کرتا تھا۔ خان بلاقی فوراً بات کی تہہ تک پہنچ گیا۔ اور اپنی لاپرواہی کے پیش نظر اس کے ضمیر نے اس کو جھنجھوڑ ڈالا اور وہ اپنی لغزش کو دیکھ کر کانپ گیا اور اس نے سمجھ لیا کہ سرداری اب اس سے چھن جائے گی۔ اور ملک دریا خان کی نسل میں منتقل ہو جائے گی۔ اس کی یہ فراست حرف بہ حرف صحیح ثابت ہوئی۔ جب بھی وہ صبح کی نماز کے بعد مسجد سے گھر آتا اور دیکھتا کہ اس کے بیٹے سو رہے ہیں اور نوکر ان کو دھوپ سے بچانے کے لئے چادریں تان رہے ہیں تووہ کہتا ۔ بیٹو سو لو۔ بس تمہارے تھوڑے دن باقی ہیں یعنی سرداری کی عزت تم سے جلدی چھن جائے گی اور پھر ایسا ہی ہوا۔

 

جٹ برادری

 

گنگا جمنا کے دوآبے اور راجپوتانے میں یہ جاٹ کہلاتے ہیں اور پنجاب میں یہ جٹ مشہور ہیں۔ اس طرح یہ جیٹ، جٹ، زت کے نام سے بھی مشہور ہیں۔ پنجاب سے لے کر مکران کے ساحل تک گنگاکے کنارے تک جاٹ کثیر تعداد میں اور پنجاب میں ان کی اکثریت ہے۔ گو اب یہ مسلمان ہیں اور شمالی ہند میں یہ دوسری اقوام سے اور رجپوتانہ میں نصف کسان جاٹ ہوں گے۔ دریائے سندھ کے کنارے ان کی بہت سی قومیں مسلمان ہوچکی ہیں۔ غیر مستقیم پنجاب میں راوی کے مغربی اضلاع میں بیشتر جاٹ مسلمان تھے۔ لیکن وسطی پنجاب میں وہ اکثر سکھ اور جنوبی پنجاب میں وہ اکثر ہندو ہیں۔ جیمز ٹاڈ کا کہنا ہے کہ بلوچ بھی جاٹ نسل ہیں۔ بلوچ اور ان کا ایک بڑا قبیلہ جتوئی کی اصل جاٹ ہے۔ کیوں کہ بلوچ روایات کے مطابق میر جلال خان کی لڑکی جاتن سے منسوب ہے۔ جاتن جات کا معرب ہے۔ اس طرح جٹ اور جاٹ کے علاوہ جتک، جدگال اور دوسرے قبائل کی اصیلت جاٹ النسل ہے۔ یہ اگرچہ خود کو جاٹ نہیں مانتے ہیں اور بلوچ کہتے ہیں۔ سندھ کے سماٹ قبائل کی اکثریت جاٹ النسل ہے۔جٹوں کا پھیلاؤ

جاٹ نسل

 

ایک مسلم جاٹ شتربان

جیمز ٹاڈ کا کہنا ہے ان کی اصل یوٹی یا جوٹی ہے اور ان کا اصل وطندریائے جیحوں اور دریائے سیحوں کے درمیان تھا، جہاں سے یہ نکل کر برصغیر تک پھیل گئے۔ وسطی ایشیا کے رہنے والے جاٹ اب مسلمان ہیں۔تیمور لنگ نے ان کے بڑے خان کوکل تاش تیمور کی اطاعت قبول کرلی تھی۔ یہ اس وقت بت پرست تھے اور بعد میں تیمور خود ان کا بڑا خان منتخب ہوگیا۔ مزید براں وہ کہتا ہے کہ جاٹ، تکشک یعنی ناگ بنسی اور چندر بنسی کے ہم نسل ہیں۔

لی بان کا کہنا ہے کہ یہ پنجاب و سندھ میں سب سے باوقت قوم ہے۔ ان میں شاز و نادر خارجی میل سے ٹھوڑا بہت تغیر پیدا ہوا ہے۔ تاہم ان کا عام ڈھانچہ حسب ذیل ہے۔ قد لمبا کاٹھی مظبوط چہرے سے ذہانت نمودار، جلد کس قدر سیاہ، ناک بڑی اور اونچی اور بعض اوقات خم دار اور ان کی آنکھیں چھوٹی اور سیدھی، گال کی ہڈیاں کم ابھری ہوئیں ہیں، بال سیاہ اور کثرت سے ڈاھاڑیاں چگی اور کم بالوں کی، بلند قامت خوش نظر، ان کی چال سیدھی اور شاندار۔ جٹ دراز قد ہوتے ہیں ان کا جسم گھٹا ہوا اور مظبوط ہوتا ہے اور رنگ سانولہ ہوتا ہے۔ یہ مانا جاسکتا ہے کہ جاٹ نسل کے لحاظ سے وہ آریا ہیں۔ اگرچہ بعض مصنفین نے انہیں اصل کے اعتبار کے لحاظ سے سیتھائی آریائی قرار دیا ہے۔ جس کی بڑی شاخ میں آگے چل کر مختلف قبائل کی آمزش ہوگئی ہے۔

اگرچہ جنرل کنگم کا کہنا ہے کہ جاٹ اندوسیتھک ہیں اور سکندر کے بعد آئے ہیں۔ لیکن اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ تورانی یا اندوسیتھک نہ ڈراویڈوں سے زیادہ ملی نہ آریوں سے۔ تاہم اس میل کا اثر جو وقوع میں آیا ہے، وہ جاٹوں میں موجود ہے۔ مثلاً بعض ان میں سیاہ فام ہیں اور بعض کا رنگ قدر صاف ہے، جیسا کہ راجپوتوں کا۔ کورو کی ایک شاخ جارٹیکا کے نام سے مشہور تھی اور پنجاب میں آباد تھی۔ یہ غالباً جٹوں کے اسلاف تھے۔ جیمز ٹاڈ کا کہنا ہے کہ جاٹوں کی روایات کے مطابق وہ پانچویں صدی عیسویکے مابین دریائے سندھ کے مغرب سے آکر پنجاب میں آباد ہوئے تھے۔ جاٹ اگرچہ راجپوتوں کی چھتیس راج کلی میں شامل ہیں، لیکن راجپوت نہیں کہلاتے ہیں اور نہ ہی راجپوت جاٹوں سے شادی بیاہ کرتے ہیں۔ ان کا شمار نچلی اقوام میں ہوتا ہے۔ ان سے لڑکی لے لی جاتی ہے لیکن لڑکی نہیں دی جاتی ہے۔

جٹوں کے متعلق نظریات

 

ایک سکھ جاٹ

لی بان کا کہنا ہے کہ خطۂ پنجاب کے اصل باشندے تورانی الاصل ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ تورانی جات آریوں کی چڑھائی کے وقت سارے ملک کے مالک تھے اور باآسانی یہ ان کے محکوم ہوگئے۔ آریا فاتحین نے ان کے ساتھ اچھا سلوک کیا اور ان کو درمیانی ذات ویش یا تجارت پیشہ ذات میں ان کو شامل کردیا۔ برخلاف اس ملک کے اصل باشندوں کو شودر بنا دیا۔ گویا جاٹوں کی رضامندی سے آریا اس ملک کے حاکم بن گئے۔ اس باہمی رضامندی کا پتہ تخت نشینی کی رسم میں ملتا ہے۔ کیوں کہ بادشاہ تاج جاٹوں کے ہاتھوں سے لیتا تھا۔

ویمرے کا کہنا ہے کہ جیتی نام ان منگولوں کا تھا، جو منگولیا کی سرحد پر رہتے تھے۔ ان کی نسل کے جو لوگ ہیں وہ بروتی ہیں۔ وسط ایشیا میں اب ان منگولوں کو چیتے مغل (سرحدی مغل) کہتے ہیں۔ ترکی میں جیت سرحد کو اور منگول کو مغل کہتے ہیں۔

بی ایس ڈاہیا کہا کہنا ہے کہ جٹ یہ لفظ بدزات خود بہادری عمل اور پیش قدمی کی علامت ہے شمشیر زنی اور ہل لانے کے ماہر جاٹوں نے مشرق میں منگولیا سے چین سے لے کر مغرب میں اسپین اور انگلستان تک شمال میں سکنڈے نیوبا اور نوڈ گروڈ سے لے کر جنوب میں پاک و ہند ایران اور مصر تک ایشیا اور یورپ کی سرزمین پر تیر و تبر سے اپنا نام رقم کیا۔ برصغیر ایران روس اور جٹ یا جاٹ اور ترکی و مصر میں جاٹ عرب ممالک میں زظ یا جظ، منگولوں کی زبان میں جٹیہ سویڈن اور ڈنمارکمیں گوٹ اور جرمنی اور دیگر زبانوں میں گوٹھ یا گوٹ، ینی میں یوچی (جس کا تلفظ گٹی ہے) کہلاتے ہیں۔ جینی مصنف وردھمان شاکا اور جرٹ قبائل کا ذکر کرتا ہے چندر گومن نے لکھا ہے کہ جاٹوں نے ہن قبائل کو شکست دی یشودھرمن اور گپت فرمانروا جاٹ تھے اور یہی لوگ تھے جنہوں نے ہنوں کو شکست سے دوچار کیا۔ اگرچہ ہن خود بھی جاٹ تھے۔

شاکا، کشان، ہن، کیداری، خیونی (چیونی) اور تکھر (تخار) جنیں الگ الگ نسل شمار کیا جاتا ہے، گو وسطی ایشائی میدانوں میں انہیں بعض اوقات ایک دوسرے کا پڑوسی ظاہر کیا جاتا ہے۔ اگرچہ ان کی نسل تھی جاٹ، مگر ان کے حکمران خاندانوں نے اپنی حکومت قائم کرنے کے بعد اپنا قبائلی نام اختیار کیا۔ وسط ایشیا کا علاقہ آریائی اقوام کا اصل وطن ہے۔ یہی وجہ کہ برصغیر کی تمام روایات میں اس کے ساتھ تقدس وابستہ ہے۔ ویدی ادب سے لے کر تمام تحریروں میں شمال میں دیوتاؤں کی سرزمین ہے۔ مورخین اس بات پر متفق ہیں کہ انڈو ایرانی، ساکا اور یورپی سیھتی ایک ہی تھے۔ ہسٹری آف ورلڈ کے مطابق سیتھی وسط ایشا اور شمالی یورپ کے ان قبائل کا نام ہے جو ہمیشہ اپنے پڑوسی نسلوں سے سرپیکار رہتے تھے۔ سیتھہ ایک قدیم علاقہ کا نام ہے جو جو بحیرہ اسود کے مشرق اوردریائے جیحوں و سیحون (دریائے آمو و سیر) کی وادی سے لے کر دریائے ڈینیوب اور دریائے ڈان تک پھیلا ہوا تھا۔ ہیروڈوٹس کہتا ہے کہ مساگیٹے سیتھی قوم کی اولاد ہیں۔

پی سائیکس گتی کہلانے والوں کا ذکر کرتا ہے۔ جنہوں نے 2600 م ق میں سمیر اور اسیریا وغیرہ پر قبضہ جما لیا تھا۔ چینی ماخذ میں بیان کیا گیا ہے کہ وی قبائل کی تاریخ 2600 ق م تک پیچھے جاتی ہے۔ چین کے وی، ایران کے داہی، یونان کے دائے اور موجودہ دور کے داہیا جاٹ ایک ہی ہیں جنوبی ایشیا کے کے جاٹ وہی لوگ ہیں جو ایران کی تاریخ میں گتی اور چینیوں کے یوچی (جس کا چینی تلفظ گتی ہے) کے طور پر سامنے آتے ہیں ان کا اصل وطن سرحدات چین سے لے کر بحیرہ اسود تک وسط ایشیا ہے۔ ہیروڈوٹس اور دیگر یونانی مورخ انہیں گیتے یا مساگیتے کہتے ہیں۔ موخر الذکر نام انہی قبائل کا بڑا عنصر۔

ولسن کا کہنا ہے کہ راجپوت قبائل، راٹھور، پوار، اور گہلوٹ وغیرہ یہاں پہلے سے آباد تھے۔ یہ چاروں قبائل اصل میں جاٹ ہیں جنہیں بعد میں راجپوت کہا جانے لگا ہے۔ کیوں کے یہ اس وقت حکمران تھے۔ اس بناء پر راجپوت یا راج پتر یعنی راجاؤں کی اولاد کی اصطلاح وجود میں آئی۔ اس کی اصل پہلوی کلمہ وسپوہر (شاہ کا بیٹا) سے ہے۔ ولسن انہیں غیر ملکی تسلیم کرتا ہے۔ کیوں کہ ان لوگوں نے ساکا اور دیگر قبائل کے ساتھ مل کر برصغیر کی تسخیر کی تھی۔

جاٹوں کا کردار

 

ایک جاٹ کسان

جاٹوں نے کبھی برہمنی مذہب کی برتری اور بالادستی قبول نہیں کی اور یہی وجہ ہے انہوں نے رسمی انداز میں باقائدہ ہندومت قبول نہیں کیا۔ یہی پس منظر تھا جس میں برہمنوں نے اور ان کی تقلید میں دوسری ذاتوں نے جاٹوں کو کشتریوں کا نچلا طبقہ بلکہ شودر خیال کرتے ہیں۔ لیکن جاٹوں نے کبھی اس کی پرواہ نہیں کی اور کتاب ہندو قبائل اور ذاتوں میں برصغیرٖٖٖٖٖٖٖٖ کی قدیم چھتیس راج کلی میں جاٹوں کا نام ضرور ملتا ہے لیکن کہیں بھی انہیں راجپوت ظاہر نہیں کیا گیا ہے۔ اس آخری جملے میں بنیاد یہ ہے کہ راجپوت رسمی طور پرہندو مذہب میں داخل ہونے والے جاٹ اور گوجر ہیں جن لوگوں نے رسمی طور پر متصب برہمنی نظام کی شرائط اور قبول کرنے سے انکار کیا انہیں رسمی طور پر ہندو مذہب میں داخل نہیں کیا گیا اور وہ آج تک وہی جاٹ، گوجر اور آہیر ہیں۔ یہی وجہ ہے جاتوں اور راجپوتوں مشترک قبائلی نام ہیں۔ اس طرح راجپوت برہمنی رنگ میں رنگے جاٹ اور گوجر ہیں۔ یہی وجہ ہے ہم راجپوتوں کے ظہور سے بہت پہلے صرف جاٹوں اور گوجروں کو وسطی برصغیر، راجستان گجرات سندھ میں پاتے ہیں۔ اگر کوئی راجپوت کسی جاٹ عورت سے شادی کرلے وہ جاٹ نہیں بنے گا۔ لیکن اگر وہ یا اس کی اولاد بیواہ کی دوبارہ شادی کا طریقہ اپنالے تو وہ جاٹ بن جائے گا۔ یہ مسلے کا اصل نقطہ ہے ایک راجپوت اور جاٹ میں صرف بیواہ کی دوسری شادی کا ہے۔ بیواہ کی شادی ہر دور میں رہی ہے۔ لیکن راجپوتوں کو براہمنوں کے غلط، غیر اخلاقی اور غیر منصفیانہ نظریات کے تحت اس بارے میں سننا بھی گوارہ نہ تھا۔ بیواہ کی شادی کی وہ اہم ترین نقطہ اختلاف تھا جو کہ کوہ آبو کی قربانی کے موقع پر جاٹوں اور برہمنوں کا اختلاف ہوا۔ جن لوگوں نے برہمنوں کی پیش کردہ شرائط کو تسلیم کیا وہ راجپوت کہلائے۔ اس کے برعکس جنہوں نے بیواہ کی شادی کرنے پر اصرار کیا وہ ہندو مذہب میں داخل ہونے کے وجود جاٹ کہلائے۔

سلطان محمود غزنوی کو ہند پر حملوں کے دوران بڑا تنگ کیا۔ چنانچہ ایک حملہ خاص طور پر ان کے خاتمہ کے لئے کیا اور چھ سو کی تعداد میں خاص قسم کی کشتیاں تیار کرائیں جس میں تین تین برچھے لگے ہوئے تھے۔ ان کشتیوں کو دریائے سندھ میں ڈال کر ہر کشتی پر بیس بیس سپاہی تعنات کئے اور باقی ماندہ فوج کو دریائے سندھ کے کنارے پیدل چلنے کا حکم دیا۔ جاٹوں کو جب معلوم ہوا تو انہوں نے اپنے بیوی بچے کسی جزیرے پر بھیج کرکوئی چار ہزار یا آٹھ ہزار کشتیوں پر سوار ہوکر محمود غزنوی کی فوج پر حملہ آور ہوئے۔ باوجود کثرت کے کثیر تعداد میں جاٹ مارے گئے۔ محمود غزنوی نے جزیرے پر پہنچ کر جاٹوں کے اہل و عیال کو گرفتار کرلیا۔

اورنگزیب جس زمانے میں دکن میں مصروف تھا، جاٹوں نے غنیمت جان کر اپنے سرداروں کی قیادت میں عام آبادی پر حملے کئے۔ یہاں تک انہوں نے اکبر کے مقبرے کو توڑنے کی کوشش کی۔ اورنگ زیب نے ان کی سرکوبی کے لئے مقامی فوجداروں کو مقرر کیا۔ لیکن جب اورنگ زیب کے بعد سلطنت مغلیہ کا شیرازہ بکھرنے لگا تو بھرت پور اور اس گرد نواح کے جاٹوں نے اپنے سردار سورج مل کی سردگی میں آگرہ اور دہلی کے درمیانی علاقہ میں دہشت پھیلادی۔ ان کے ظلم و ستم سے غضبناک ہوکر احمد شاہ ابدالینے ان کی گوشمالی کی۔ لیکن ان کا مکمل طور پر خاتمہ نہیں کرسکا۔ بعد میں رنجیت سنگھ ایک ریاست قائم کرنے میں کامیاب ہوگیا۔ یہ ریاست مختصر عرصہ کے لئے قائم ہوئی تھی۔

سکھ جو اٹھارویں صدی کے آخر تک پنجاب کے حاکم بن چکے تھے۔ ان کی سلطنت کے قیام میں نادرشاہ افشار اور احمد شاہ ابدالی کے حملوں نے بھر پور مدد دی اور ان حملوں کی بدولت مغلیہ سلطنت نہایت کمزور ہوگئی، اور سکھ ایک قوت کے ساتھ ابھرے اور انہوں نے مغلیہ سلطنت کے ذوال کو اس کے انجام تک پہنچایا۔ سکھوں کی اکثریت جاٹوں پر مشتمل تھی اور جاٹوں کا عمل دخل بہت تھا۔ بیسویں صدی کی ابتدا میں انگریزوں کے خلاف تحریک جلی جس کا مشہور سلوگن جٹا پگڑی سنھال جٹا تھا۔ اس تحریک میں حصہ لینے والے بھی سکھ تھے۔ اس کا روح رواں مشہور انقلابی بھگت سنگھ کا چچا۔

جاٹوں کے خصائص

جاٹ گنوار پنے اور بے وقوفی میں ضرب مثل ہیں اور لین دین میں سادہ لوح ہوتے ہیں۔ اپنے ہم جنسوں کے مقابلے میں بھینسوںاور گایوں کا انہیں زیادہ خیال کرتے ہیں۔ ان کا پیشہ زیادہ تر کاشکاری ہے۔ وہ نہ صرف دلیر واقع ہوئے ہیں بلکہ اچھے سپاہی واقع ہوئے ہیں۔ محمد بن قاسم کے مقابلے میں انہوں نے مزاحمت کی تو محمد بن قاسم نے ان کی بڑی تعداد گرفتار کرلیا اور انہیں حجاج بن یوسف کے پاس بھجوا دیا۔ ہندو جاٹوں میں ایک سے زائد شادی کا رواج تھا۔ ۔ ۔ چچ نے جٹوں پر اچھوتوں کی طرح پابندیاں عاعد کیں تھیں۔ اس کے متعلق ڈاکٹر نبی بخش بلوچ کا کہنا ہے کہ جاٹ سندھ کے قدیم باشندے تھے۔ چچ نامہ میں ہے کہ چچ نے لوہانہ کے جٹوں سے جو شرائط منوائیں ان میں مصنوعی تلوار کے علاوہ کسی قسم کا ہتھیار نہیں باندھیں گے، قیمتی کپڑے اور مخمل نہیں پہنیں گے، گھوڑے پر بغیر زین کے بیٹھیں گے، ننگے سر اور ننگے پیر رہیں گے، گھر سے باہر نکلتے وقت کتے ساتھ رکھیں گے، گورنر کے مطبخ کے لئے لکڑی کے علاوہ رہبری اور جاسوسی کے کام انجام دیں گے۔

مذہب

جاٹوں میں تین مذہب کے لوگ ہیں۔ مسلمان جو دریائے سندھ کے نچلے والے حصہ میں رہتے ہیں، سکھ پنجاب میں اور ہندو جو راجپوتانہ میں رہتے ہیں۔

جاٹ قبائل

 

ایک جاٹ

  • ، ابر = ایلاوت، اندار، آنتل، آریہ، ایساکھ، اتوال، عطری، اولکھ، اونکھ، اوہلان، اوجھلان، اوجلہ، اتار، اوہلان، اوڈھران
  • ، ببر، بگداوت، بجاد، باجوہ، بل، بلہن، بلہار، بان، بینس / ونیس، بسی، باٹھ، بلاری، بنہوال، بھنگال/ بھگو، بھنڈر، بھلی، بیلا، بسرا، بھیڈی، بھوپارائے، بھلر، بھڑنگ، بسلا، برار، بدھوار، بورا، بسرا، بھمبو
  • ، پاہل پ، لاول، پنکھال، پائے سر، پنیچ، پنوں، پنیگ، پریہار، پرودا، پھور، پھاروے، پھوگٹ، پھلکا، پیرو، پوتالیا، پونیا، پنگال، پلکھا، پرادا
  • ، پوتل/پوتلیا، تنوار، تور، تھنڈ
  • ، ٹکھرٹاہلان، ٹنگ، ٹک، ٹاٹڑان، ٹبواتھیا، ٹھاکران، ٹوانہ، ٹسارٹومر
  • ، جکھد، جگلین جلوٹا، جنجوعہ، جہل، جنوار، جٹاسرا، جڑانہ، جھاجھریا، جوئیہ، جون/ ہون، جوڑا، جاکھڈ
  • ، چاہل، چھٹہ، چوہان/چوہان، چبک، چیمہ، چھلڑ، چھکارا، چھونکر، چھینا، چمنی، چدھڑ،
  • ، دباس /دواس، ڈاگر/ داگر، دھاما، ڈھا/ ڈہایا، دلال، ڈھیل/ول، ڈالتا، ڈانگی، دراد، ڈسوالاس، دیول، دھامی/دھاما، ڈھالیوال، ڈھاکا، دھنکھڈ، ڈھانچ، ڈھانڈا، دھنویا، دھارن، ڈھلون، ڈھنڈسا، دھنڈ وال، ڈھونچک، دھل، دوہان، ڈاہیا
  • ، رائے، رانا، رانجھا، راٹھی، راٹھول، راٹھور، رندھاوا، راپادیا، راوت، ریڈھو، ریار، راج، روہیل/روہیلہ، راسٹری
  • ، سانولا، سہوتا، سہروت، سلار، سلکان، سامل، سمرا، سہن پال، سنگا، سنگدا، سنگوان، سنسوار، سندھو، سپرا، سرن، سروہا/ سروہی، سراٹھ، ساسیسیکھون، سیوچ، سیوکند، سیوران، شاہی، شیر، گل سویاسنگروت، سدھو، کاوار، سوہل، سولگی، سولنگی، سوہاک، سیال،
  • ، کھنگس، کادیان، کجلا، کاک، کاکڑاں / کاکڑ، کاٹھیا، کلان، کاہلون، کلکل، کانگ

رائے،کھرل، کٹاری، کشوان، کھر، کھیر، کھرپ/ کھرب، کھتری، کھٹکل، کھوکھر، کلیر، کوہاد، کلار، کوندو، کنتل، کٹاریا/کٹار

  • ، گالان، گتھوال، گورایہ، گزوا، گھمن، گور/ گوریا، گریوال، گلیا، گوہیل، گمر

،گرلات، گوندل، گسر، گوپی رائے، گکلن، گل/گیلانی، گزوا، گوھا

  • ، ہالا، ہنس، ہیر، ہدا، ہینگا
  • ، لالی، لکھن پال، لامبا، لاتھر، لتھ وال، لوچب، لوہان، لوہاریا، لنگڑیال
  • ، مچھر/ ماتھر، مدیرنا، مدھان، ماہل، ملک، مل، ملھی، منکا/ مان، منگٹ، مند/منڈ، مندر، ماولا، موہلا، منہاس، مردھا، مٹھا، موکھر، مور، مانگٹ، مدرا ، مدیرنا
  • ، ناپال، نلوہ، ناندل، نین، نیپال، نروال، نوہار، ناصر، ناہر، نجار، نونیا/ نون
  • ، ورک، ورائچ، وٹ دھن، وَلہ