Skip to content Skip to left sidebar Skip to footer

News

New and Renewal Passport Price Increase, Know Expected Fees

ไทยยกเลิกข้อกำหนดวีซ่าให้ 93 ประเทศ

เมื่อวันพุธ กระทรวงการต่างประเทศเผยแพร่รายชื่อประเทศ 93 ประเทศที่พลเมืองสามารถเดินทางเข้าประเทศไทยได้โดยไม่ต้องมีวีซ่า หรือขอวีซ่าเมื่อเดินทางมาถึง และอยู่ได้นานถึง 60 วัน

เพื่อกระตุ้นการท่องเที่ยวและดึงดูดเงินจากนักท่องเที่ยวให้เข้ามามากขึ้น คณะรัฐมนตรีได้ตกลงเมื่อวันอังคารที่จะยกเว้นข้อจำกัดด้านวีซ่าสำหรับประเทศต่างๆ รวม 93 ประเทศ

Apply online for Germany Opportunity Card 2024 – Application Form

รายชื่อดังกล่าวประกอบด้วย 57 ประเทศที่พลเมืองไทยสามารถอยู่ในประเทศไทยได้ 30 วันโดยไม่ต้องมีวีซ่า 13 ประเทศที่ยกเว้นข้อกำหนดด้านวีซ่าเมื่อเร็วๆ นี้ และ 6 ประเทศที่พลเมืองไทยสามารถอยู่ในประเทศไทยได้ 60 วันโดยไม่ต้องมีวีซ่า

57 ประเทศที่ได้รับการยกเว้นวีซ่าและสามารถประทับตราเมื่อเดินทางมาถึงได้ 60 วัน ได้แก่:

  • แคนาดา
  • สาธารณรัฐเช็ก
  • เดนมาร์ก
  • เอสโตเนีย
  • ฟินแลนด์
  • ฝรั่งเศส
  • เยอรมนี
  • กรีซ
  • ฮังการี
  • ไอซ์แลนด์
  • อินโดนีเซีย
  • สาธารณรัฐไอร์แลนด์
  • อิสราเอล
  • อิตาลี
  • ญี่ปุ่น
  • คูเวต
  • ลัตเวีย
  • ลิคเทนสไตน์
  • ลิทัวเนีย
  • ลักเซมเบิร์ก
  • มาเลเซีย
  • มัลดีฟส์
  • มอริเชียส
  • โมนาโก
  • เนเธอร์แลนด์
  • นิวซีแลนด์
  • นอร์เวย์
  • โอมาน
  • ฟิลิปปินส์
  • โปแลนด์
  • โปรตุเกส
  • กาตาร์
  • ซานมารีโน
  • สิงคโปร์
  • สโลวาเกีย
  • สโลวีเนีย
  • สเปน
  • แอฟริกาใต้
  • เกาหลีใต้
  • สวีเดน
  • สวิตเซอร์แลนด์
  • ตุรกี
  • ยูเครน
  • สหรัฐอาหรับเอมิเรตส์
  • สหราชอาณาจักร
  • สหรัฐอเมริกา
  • เปรู
  • ฮ่องกง
  • เวียดนาม
  • ซาอุดีอาระเบีย
  • อันดอร์รา
  • ออสเตรเลีย
  • ออสเตรีย
  • เบลเยียม
  • บาห์เรน
  • บราซิล
  • บรูไน

13 ประเทศที่พลเมืองได้รับตราประทับ 30 วันเมื่อเดินทางมาถึงแล้ว และจะได้รับตราประทับ 60 วันตั้งแต่บัดนี้เป็นต้นไป:

  • อินเดีย
  • คาซัคสถาน
  • มอลตา
  • เม็กซิโก
  • ปาปัวนิวกินี
  • โรมาเนีย
  • อุซเบกิสถาน
  • ไต้หวัน
  • ภูฏาน
  • บัลแกเรีย
  • ไซปรัส
  • ฟิจิ
  • จอร์เจีย

6 ประเทศใหม่ที่มีพลเมืองได้รับการยกเว้นวีซ่าและสามารถอยู่ได้ 60 วัน ได้แก่:

  • จีน
  • ลาว
  • มาเก๊า
  • มองโกเลีย
  • รัสเซีย
  • กัมพูชา

17 ประเทศใหม่ที่มีสิทธิ์ได้รับวีซ่าเมื่อเดินทางมาถึงและจะได้รับตราประทับ 60 วัน ได้แก่:

  • กัวเตมาลา
  • จาเมกา
  • จอร์แดน
  • โคโซโว
  • โมร็อกโก
  • ปานามา
  • ศรีลังกา
  • ตรินิแดดและโตเบโก
  • ตองกา
  • อุรุกวัย
  • แอลเบเนีย
  • โคลอมเบีย
  • โครเอเชีย
  • คิวบา
  • โดมินิกา
  • สาธารณรัฐโดมินิกัน
  • เอกวาดอร์

 

منڈی بہاوالرین تاریخ کے آیئنے میں

 منڈی بہاوالدین نام شاید نئے زمانے کا ہے مگر اس علاقے کی اور یہاں بسنے والے لوگوں کی  تاریخ ہزاروں سال پرانی ہے ٫یہ علاقہ تب سے آباد ہے ٫جب کہ آج کے دور کے بڑے شہروں کا وجود تک نہ تھا٫اس کی وجہ یہاں کی زرخیز زمین اور دوسرا یہاں کا خوشگوار موسم جس کے اثرات مقامی لوگوں پر بھی مرتب ہوئے

Also read this: منڈی بہاوالدین کے بارے میں تفصیل

منڈی بہاوالدین کے بارے میں تفصیل

٫اب ہم اصل موضع کی طرف آتے ہے٫کبھی تو یہ علاقہ بہادر پورس کی سلطنت کا حصہ رہا اور کم عرصہ یونانی دور کا حصہ٫ اس کے بعد سکندر کی مدد سے ایک اور سلطنت یا ایک اور دور کا آغاز ہوا وہ  تھا موریہ دور ٫موریہ حکومت کی بنیاد چندرا گپتا موریہ نے رکھی اور اس سلطنت کا اصل گرو یا استاد چنکیاں تھا٫ اور اس خاندان کی حکومت میں سب سے زیادہ شہرت اشوک سمراٹ نے حاصل کی ہم اس کی فتوحات یا کامیابیوں پر نظر نہیں ڈالیں گے کیونکہ ہمارا موضع اورہے ۔اس دور کے بعد کوشان دور حکومت آیا٫ان کا دور پہلی صدی سے لےکر تقریبا تیسری صدی کے وسط تک رہا ،اس خاندان حکومت میں سب سے زیادہ شہرت کنیشک کشاک نے حاصل کی

Also Read this: coins collection by azhar Mehmood Phalia

٫ ڈھوک نواں لوک یا منڈی بہاوالرین سے دریافت ہونے والے سکے اور دوسرے نوادرات٫بہت نایاب ہے٫اور ان کی دریافت حادثاتی طور پر ہوئی مگر خوش قسمتی سے ند یم صاحب نے بڑی جدوجہد  کے بعد ان کو محفوظ کیا ہے۔ میں ان کو اس کارنامہ پر مبارکباد پیش کرتا ہو٫اس سے پہلے اس علاقہ میں ایسی واضع اور ٹھوس دریافت یا تاریخی ثبوت نہیں ملے ٫ میں کافی دنوں سے اس تحقیق میں مصروف تھا٫ لندن اور بہت سارے انڈین  لوگوں سے رابطے میں تھا٫ میں اپنی تحیقیق اور محنت سے کافی حد تک مطمئین ہو٫

 سے تعلق رکھتے ہے٫(Kushan Dynasty)یہ نوادرات کوشان دور

کوشان دور پر ایک نظر٫سب سے پہلا حکمران جس نے اس کی بنیاد رکھی

Kujula…۱ ٫ کوجولا کدفیسیس :       دور حکومت   30 سے  80    تک  

Vima.1…۲ ٫ ویما تاکتو ساداشکانا :  دور حکومت  80   سے  95    تک 

Vima.2…3 ٫ ویما کدفیسیس  :       دور حکومت   95   سے  127  تک  

Kanishka…4 ٫ کنیشک یا کنیشکا کشاک : دور حکومت 127 سے 140 تک

 Vasishka…5 ٫ واسیشکا : دور حکومت   140 سے 160 تک

Huvishka…6 ٫ ہوویشکا : دور حکومت    160 سے 190 تک

Vasudeva…  ٫ واصو د یوا  : دور حکومت 190  سے    2307

  ندیم صاحب کی کولیکش تقریبا 1900 سال سے لے کر1789 سال پرانے نوادرات پر مشتمل ہے٫ ان کی محنت کی داد دینی پڑے گی٫ان پر جو تحریر لکھی ہوئی ہے وہ یونانی زبان میں ہے کیونکہ سکندر کی فتح کے بعد بہت سے یونانی یہاں رہ گئے تھے٫جن کا گندارا تہزیب میں بہت اہم کردار ہے٫ کنیشک نے[ پوشکالا وتی] موجودہ[ چارسدہ]  سے اپنا درالحکومت پشاور [پوروساپورہ] بنا لیا تھا٫مگر کوشان دور حکومت میں کنیشک کشاک کا نام سب زیادہ مشہور ہوا اس کے نام کا مطلب ہی کنیشک عظیم ہے

 

منڈی بہاوالدین ڈھوک کاسب ، ڈاکٹر سرجیت سنگھ ودھاوا

ڈاکٹر سرجیت سنگھ ودھاوا
www.facebook.com/surjit.wadhwa?fref=ufi
(ریٹائیرڈ اسسٹنٹ ڈائریکٹر موهالی انڈیا )
سن
2010
اوائل کی بات هے.  نیا نیا نیٹ کا استعمال  شروع کیا.  ڈیٹا کارڈ خرید کر انٹرنیٹ کا شوق پورا کیا جاتا
وکی میپیا سے میپ دیکھنے کا شوق هوا تو دیکھتے  دیکھتے  ڈھوک کاسب کی لوکیشن پر پهنچا.  تو مجھے اپنے پنڈ کے بارے میں  ایک تعریفی کمنٹ پڑھ کر خوشگوار حیرت هوئی. کمنٹ دینے والے ایک سردار صاحب تھے ان کا ای میل آئی ڈی لکھا هوا تھا.  میں  نے ان کو ای میل کرنے کا فیصله  کیا.  میں  نے ان سے ڈھوک کاسب کے متعلق تعلق کا پوچھا.  اور حیرت انگیز طور پر ان کا  دوسرے دن جواب آ گیا. اس کے بعد میں  نے ان کو فیس بک پر تلاش کر کے ایڈ کیا اور ان کا حلقه احباب ڈھوک کاسب میں  بڑھتا چلا گیا.
انهوں نے ای میل کی وه ذیل میں پیش کی جا رهی هی.  انگلش سے ترجمہ شده هے.  ڈاکٹر صاحب  پی ایچ ڈی مکینیکل هیں اور انسٹیٹیوٹ آف انجنیرنگ  اینڈ ٹیکنالوجی بھاددال انڈیا سے اسسٹنٹ  ڈائریکٹر ریٹائیرڈ  هو چکے هیں

,,میرے وطن کی یادیں

 (ڈاکٹر سرجیت سنگھ ودھاوا)
 


مین اس وقت آٹھ سال کا تھا جب آٹھ اگست 1947 کو ڈھوک کاسب کو چھوڑا. کچھ یادیں میری ھیں اور کچھ میری ماں کی بتائی ھوئی ھیں۔

میری ماں “لسوڑی کلاں” ( ڈھوک کاسب  کے ایک”قریبی گاؤں ” ) سے تعلق رکھتی تھی۔ اس کی شادی ڈھوک کاسب کے ایک نوجوان ودھاوا سے 1912 یا 1913 میں ھوئی۔ . گاؤں کے غیر مسلم خاندانوں میں ودھاوا ، مونگا اور چھابرا تھے ۔ مسلم خاندانوں میں ساھی ، گوندل اور گوجر شامل تھے۔ یہ سب آپس میں ھنسی خوشی رھتے تھے اور ڈھوک کاسب کے مرکزی دارا میں اپنے اپنے دکھ سکھ کا مشترکہ اظہار کرتے تھے۔

ان دنوں ‘ڈھوک کاسب ‘ کے نوجوان لڑکوں کو ان کے کیریئر میں بہتر مواقع کے لئے امریکہ، کینیڈا، جرمنی، دبئی، وغیرہ، جانے کا شوق ھے۔ لیکن اس وقت(1947 ء سے پہلے)، لوگ   کمانے کے لئے ‘ہندوستان’ جاتے تھے۔  میرے والد بھی کمانے کے لیے ھندوستان جاتے تھے۔ وہ چھ سے سات مہینے وھاں کام کرتے اور برسات کے دنوں میں واپس ڈھوک کاسب آ جاتے۔

میری والدہ نے خاندان کو پالنے کے لیے بھت مشکل وقت گزارا۔ انھون نے تین بڑی بیٹیوں اور دو بیٹوں کی پرورش کی۔ مجھے بڑی اچھی طرح یاد ھے کہ میری والدہ کپڑے دھونے کے لیے کھوہ پر جاتی تھی۔ یہ کھوہ گاؤں کے داخلی راستے پر تھا جو چیلیانوالہ سے آتا ھے۔ جب میری ماں واپس آتی اس کے ھاتھ میں سارے دھلے کپڑے اور پانی کا بھرا ھوا گھڑا ھوتا تھا۔ یہ اس کا روز کا معمول تھا۔

وہ  اپنے فالتو وقت میں وہ کپاس سے دھاگے بناتی۔ اور یہ دھاگے گاؤں کے جولاھوں کو دیے جاتے جو ان سے کھیس اور لوئی بناتے۔ ابھی بھی میرے پاس ڈھوک کاسب کے جولاھا کے ھاتھ سے بنے کھیس موجود ھیں۔  اور میں ان کو بڑی حفاظت سے رکھتا ھوں۔

میری والدہ کی اک گہری دوست تھیں جن کا نام پھوپھی “جوائی “تھا (یاد رھے یہ ھمارے گاؤں کے اک معزز شخصیت چوھدری غلام حیدر گوندل صاحب کی والدہ محترمہ ھیں)۔ یہ ھم بہن بھائیوں کے لیے ماں کا درجہ رکھتیں تھیں۔
یہ شاید 1945 یا 1946 کا دور تھا جب گاؤں کا اک ساھی نوجوان سائیکل لایا۔ یہ شاید فلپس کمپنی کی بنی ھوئی تھی۔ یہ پہلی سائیکل تھی جو ڈھوک کاسب میں آئی تھی۔ گاوں کی عورتیں اس کو “لوھے کا گھوڑا” کہتیں۔
میں اور گاؤن کے دوسرے بچے سائیکل کے پیچھے دورٹے۔ اور اسے چھونے کی خواہش کرتے۔

ایک دفعہ ھندوستان سے واپسی پر، میرے والد لاھور سے ایک گرامو فون لے آئے۔ جو ایچ-ایم-وی کمپنی کا تھا۔ گرامو فون آمد لوگوں کی توجہ کا سبب بن گئی۔

ھمارا گھر چوہدری غلام حیدر  گوندل کے گھر کے پاس تھا۔ میرے والد گلی میں آ کر گرامو فون بجاتے تو محلے کی عورتیں تھوڑا فاصلے پر بیٹھ کر گراموفون سنتیں۔ میں ہمیشہ اس وقت کوئی اچھی جگہ لینے کی کوشش کرتا کہ دوسروں سے ممتاز نظر آؤں۔ گراموفون کی دونوں سائیڈز استعمال کے بعد بیکار ھو جاتیں۔ میرے والد اس کی سوئیوں کو پھینک دیتے۔ میں اس بیکار سوئیوں کو اٹھانے کی کسی کو اجازت نہ دیتا تھا
اس وقت کی کیفیت کو میں کبھی لفظوں میں بیان نھی کر سکتا۔

اسی طرح زندگی گزرتی رھی۔  ایک دفعہ ھندوستان سے واپسی پر  پتہ چلا کہ میرے والد  جگر  کی تکلیف میں مبتلا ھیں۔ ھم لوگ پریشان ھو گئیے اور ھر ممکن علاج کروانے کی کوشش کی تا کہ وہ ٹھیک ھو جائیں۔ ڈھوک کاسب اور گردونواح میں اس وقت علاج کی سہولتیں نہ ھونے کے برابر تھیں۔ آخرکار میرے والد “ھیلاں” کے اک چھوٹے سے ھسپیتال میں انتقال کر گئیے۔ میں اس وقت 4 سال کا تھا۔  میری فیملی اس وقت سخت شاک میں تھی۔اس وقت میری ماں اور ھم نے اپنے رشتہ داروں اور قریبی تعلق داروں کی طرف سے امید رکھی مگر یہ سب کچھ بھت تکلیف دہ تھا۔
سال 2006 میں ، میں اپنی بیوی اور بہن کے ساتھ ڈھوک کاسب آیا (ساتھ میں لاھور سے اک ایڈوکیٹ دوست بھی تھے) ۔ میری یادداشت ابھی تک اتنی تھی کہ میں بغیر کسی سے پوچھے سیدھا اپنے گھر کی لوکیشن پر پہنچ گیا۔
میں چوہدری غلام حیدر گوندل صاحب سے بھی ملا۔ ان کی صحت اچھی تھی اور ابھی تک میرے خاندان والوں کے کئی نام یاد تھے۔ میں اپنے ساتھ اک ڈائری لے گیا تھا جس پر ان لوگوں کے نام تھے جو مجھے یاد تھے یا میری ماں نے بتائے ھوئے تھے۔ میں نے ان کے متعلق بھی پوچھا ، بتایا گیا کہ ان میں زیادہ تر اب زندہ نہی ھیں۔

اب میں “فیس بک”  کے ذریعہ سے   ڈھوک کاسب کے بارے میں کبھی کبھی معلوم کرتا رھتا ھوں۔
میری دعا ھے کہ ڈھوک کاسب ایک مثالی گاؤں بنے جس میں صحت اور تعلیم کی ساری سہولیات موجود ھوں۔

آخرکار ڈھوک کاسب میرا وطن ھے۔—————————————<<

اس کے ڈاکٹر صاحب سے مسلسل  رابطہ  رها.  ایک دن ان کی میل آئی که میں  اپنا پنڈ دیکھنے آ رها هوں.  ان کو  گونمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی رسول کی سو ساله تقریبات میں  مدعو کیا گیا تھا.  28 دسمبر 2012 بروز جمعه میرے پاس براسته واھگه بارڈر ڈھوک کاسب پهنچے.  ان کی پسندیدہ  ڈشز تیار تھی.  ان کی پهلی ملاقات  اور اپنائیت کا احساس  آج بھی موجود هے.  هلکی بارش میں  کھانے کے بعد  وه  اپنے ڈھوک کاسب کی سیر کو نکلے.  ان کی مسز جو ایم ایس سی فزکس هیں همراه تھیں جو گاؤں لسوڑی سے تعلق  رکھتی تھیں.
مجھے  ڈاکٹر صاحب نے اپنے پیچھے  کر دیا.  اور گاؤں کے تاریخی  واقعات بتاتے جاتے
  هلکے آنسوؤں کے ساتھ اپنی جاۓ پیدائش  پهنچے.  جو تھوڑی تبدیلی  کے ساتھ  موجود  تھی.  اسکے بعد ان کے جانوروں  کی حویلی  تھی. اب وھاں رهائش بن چکی تھی.  گھومتے گھومتے  مسجد اور وهاں سے هوتے هوئے.  بابا غلام حیدر کو ملے. جو ڈاکٹر صاحب  کو بچپن میں  سکول داخل  کروا  چکے تھے.  ٹائم کم هونے کی وجه سے ڈاکٹر صاحب 4 بجے کے قریب محبتیں بانٹتے اور محبتیں سمیٹتے  جانے کی تیاری  میں  تھے اس دوران  کافی  دوست بھی وھاں  اکٹھے هو چکے تھے.
ڈاکٹر صاحب کے ساتھ  تحائف کا تبادلہ  هوا. اور وه اداس نظروں کے ساتھ  وهاں سے رسول کالج کے لیے روانہ  هو گئے.

MUHAMMAD NADEEM AKHTAR
DHOK KASIB
nadvad@gmail.com

لوہار


لوہار ایک پیشہ ہے لوہے کا کام کرنے والے کو لوہار کہا جاتا ہے پنجاب اور منڈی بہاوالدین میں کھیتی باڑی بہت زیادہ ہوتی ہے کھیتی باڑی میں جو عام طور پر استعمال ہونے والے لوہے کے آلات ہیں وہ لوہار ہی بناتا ہے جن کو کسان کاشت کاری کے دوران استعمال کرتے ہیں لوہار نے ایک بھٹی لگائی ہوتی ہے جس میں وہ لوہے کو گرم کر کے پھر اس سے مطلوبہ آلات بناتا ہے

پنجاب میں ہر گاوں میں لوہار کی بھٹی ہوتی ہے لوہار منہ اندھیرے اٹھ کر بھٹی میں آگ جلاتا ہے پھر دیکھتے ہی دیکھتے کسانوں کا بھٹی پر ہجوم لگ جاتا ہے کوئی درانتی تیز کروا رہا ہوتا ہے کوئی کہئی یا کھرپہ ٹھیک کروا رہا ہوتا ہے کوئی ہل لے کر آیا ہوتا ہے لوہار کام کے ساتھ ساتھ بھٹی پر آنے والے لوگوں کو مختلف قصے سنا کر لطف اندوز کرتا ہے لوگ ایک دوسرے کو اچھی فصل اگانے کے مشورے دیتے نظر آتے ہیں صبح سویرے لوہار کے ہتھوڑے کی دور دور تک آواز سنائی دے رہی ہوتی ہے

کسان لوہار سے کھیتی باڑی کے آلات تیار کروا کر اپنے کھیتوں میں کام کرنے کے لیے نکل پڑتے ہیں فصلوں کی کٹائی کے دوران لوہارکی بھٹی سارا دن ٹھنڈی نہیں ہوتی سارا دن ہی ہجوم رہتا ہے جیسے جیسے مشین عام ہو رہی ہےلوہار کی یہ بھٹیاں بھی کم ہوتی نظر آ رہی ہیں لوہار اپنی مزدوری میں پیسے کی بجائے اناج لیتا ہے جب فصل کی کٹائی ہوتی  ہے گندم اور چاول کسانوں کے گھر آتے تو ان میں سے لوہار کا حصہ الگ کرکے لوہار کو دیا جاتا آج انسان کی ضروریات اس حد تک بڑھ گئی ہیں کہ اتنے میں گھر نہیں چلتا اس لیے لوہار بھی آگے بڑھ کر مختلف کاروبار میں شریک ہوئے آج اگر دیکھیں تو گاوں میں لوہار کی کم بھٹی نظر آتی ہے لوہار اپنے پیشے کو چھوڑ کر دوسرے منافع بخش پیشے اور کاروبار اپنا رہے ہیں

یا پھر بیرون ممالک میں جا کر کام کر رہے ہیں

 

(عامر عرفان جوئیہ)