With the onset of Winter, Saag is made in all Punjabi houses.Saag is more common in the Pakistani and Indian region of Punjab, especially sarson da saag, where it may be eaten with makki ki roti. This roti is made of corn flour and is yellow in colour, though it can also be eaten with other breads. Saag/saj however can be a catch-all term for various green-leaved dishes. Saag aloo (spinach potato) – and saag gosht (spinach and meat) in Pakistan – is a common dish in Punjabi cuisine (both Pakistani and Indian) as served in restaurants and take-aways in the Western world
ساگ پنجاب کی ایک بہت ہی مشہور ڈش ہے ساگ کا نام آتے ہی منہ میں پانی آنا شروع ہو جاتا ہے جیسے ہی سردیاں شروع ہوتی ہیں پنجاب کے گھر گھر سے ساگ پکنے کے خشبو آنا شروع ہو جاتی ہے
یہ شلجم کے سبز پتوں سے بنتا ہے سرسوں کے پتے بھی استعمال کیے جاتے ہیں اگر ساگ دیسی گھی میں بنایا جائے تو لذت سے بھرپور ہوتا ہے سرسوں کا ساگ دیسی گھی اور مکئی کی روٹی سے ہر پنجابی اچھی طرح واقف ہے ساگ ایک لذیذ ڈش ہونے کے ساتھ ایک صحت بخش ڈش بھی ہے اس لیے آج تک اسکی مقبولیت میں کمی نہیں ہوئی
شلجم اور سرسوں کے کھیت شہروں میں نہیں ہوتے اس لے شہری آبادی پوری طرح اس ڈش کے مذے نہیں لے سکتی ان کو ساگ یا تو بازار سے خریدنا پڑتا ہے یا پھر گاوں میں رہنے والے اپنے عزیزوں سے منگواتے ہیں
ساگ کو سب سے زیادہ وہ دوست یاد کرتے ہیں جو پنجاب سے دور یا بیرون ممالک کام کرتے ہیں کیونکہ وہ لوگ ساگ کا ذائقہ نہیں چکھ پاتے
In Punjab Pakistan Chapriyan, Cow dung is collected and made into flat round ‘chapri’ which are dried on walls and roofs and then sold as fuel and used extensively on cooking fires and for heating. It has many other uses, including fertiliser and as a flooring material when mixed with mud and water
The Punjabi calendar is based on the Bikrami calendar which started in 57 B.C. with King Vikramaditya. The calendar uses the solar aspect of the Bikrami calendar and has the first day of Vaisakh as the Punjabi new year which is celebrated as Vaisakhi.
The Punjabi months (solar)
No.
Name
Punjabi Gurmukhi
Punjabi Shahmukhi
Western months
1
Vaisakh
ਵੈਸਾਖ
ویساکھ
Mid April – Mid May
2
Jeth
ਜੇਠ
جیٹھ
Mid May – Mid June
3
Harh
ਹਾੜ
ہاڑھ
Mid June – Mid July
4
Sawan
ਸਾਵਣ
ساون
Mid July – Mid August
5
Bhadon
ਭਾਦੋਂ
بھادوں
Mid August – Mid September
6
Assu
ਅੱਸੂ
اسو
Mid September – Mid October
7
Katak
ਕੱਤਕ
کاتک
Mid October – Mid November
8
Maghar
ਮੱਘਰ
مگھر
Mid November – Mid December
9
Poh
ਪੋਹ
پوہ
Mid December – Mid January
10
Magh
ਮਾਘ
ماگھ
Mid January – Mid February
11
Phagun
ਫੱਗਣ
پھگن
Mid February – Mid March
12
Chet
ਚੇਤ
چیت
Mid March – Mid April
Punjabi lunar calendar:
The lunar aspect of the calendar begins with Chait. The first day of this month however is not the new lunar year as the lunar year begins on the day after the new moon in Chait. The months of the Punjabi lunar calendar start from the day after the full moon and end on the following full moon. Accordingly, the month of Chait is split between two years whereby the two weeks up to the new moon are counted in the preceding year and the two weeks from the day after the new moon fall into the next year. However, the Chait new year is not the official Punjabi new year but as the lunar year starts with Chait, Punjabi folk poetry, Barah Maha, begins the lunar year with this month. The lunar aspect of the Punjabi calendar determines many Punjabi festivals.
شمسی سال توں پہلے برصغیر وِچّ بِکرم تقویم ( بکرم سمّت) رائج سی، ایہہ فلکی سال (Sidereal Year) تے قمری مہینے دا سمّت ہے، قمری مہینے ہون پاروں بِکرم سمّت دے مہینیاں دا حساب اگے پچھے ہوندا رہندا ہے کیوں جے قمری سال دے ٣٥٤ دن ہن، جد کے ایس دے مہینے موسم دے حساب نال معٰنی رکھدےہَن (جُولینی تقویم یعنی تقویمِ قیصری، جیہڑا کہ جولیئس سیزر نے 46 سال قبل مسیح متعارف کرایا سی تے نظرثانی دے بعد گریگورین کیلنڈر کہلایا وِچ 365 دن 5 گھنٹے 48 منٹ تے 46 سیکنڈ ہَن۔)۔
بِکرمی تقویم ٥٧ قبل مسیح توں شروع ہوندا ہے۔ بِکرم سمّت نوں ہندو کلینڈر وی کہیا جاندا ہے تے ایہہ اج وی شمالی، مشرقی تے گجرات بھارت وِچّ اپنی پرانی شکل وِچّ رائج ہے۔ کِتے ایہہ قمری سال ہے تے چیت مہینے توں شروع ہوندا ہے تے شمسی سال بیساکھ مہینے توں تے کِتے کاتک توں۔ ایہہ بکرمی تقویم برصغیر وِچّ ورتیا جاندا سی، بعد وِچّ اسلامی تے گریگورین وی ورتے جان لگے۔
بِکرمی سمًت ١٩٦١ توں بعد اس دے مہینیاں دے حساب دے اگے پچھے ہون کارن چندرا شمشیر نے جوتشیاں دے مشورے نال تبدیلی کیتی، ہن بکرم سال وِچّ گریگورین تقویم وانگر ٣٦٥ دن ہن ( ایس مشکل نوں دیکھدے ہوئے ، گرونانک دی پیدائش 14 مارچ 1469 عیسوی توں پنجابی کیلنڈر وی شروع کیتا گیا ہے، تے ایس دے مہینے دے ناں گروگرنتھ صاحب وِچّوں لئے گئے ہن جیہڑے کے کافی حد تک بِکرم تقویم نال ملدے جُلدے ہَن۔ )۔
پاکستان دے دیہات وِچّ وی بِکرمی تقویم ورتیا جاندا ہے۔ بِکرمی تقویم چیت دے مہینے وِچّ نویں چَن نکلن تے شروع ہوندا ہے، تے سورج نکلن توں اگلے سورج نکلن تک اِک دن گِنیا جاندا ہے۔ دِن وِچّ اَٹھ پہر ( یعنی ٢٤ گھنٹے) ہوندے ہن۔ ہر پہر تِن گھنٹے دا ہوندا ہے۔
جے تُسی عیسوی (گریگورین) کلینڈر توں بِکرمی تقویم ( یا ایس توں اُلٹ) دی تاریخ جاننا چاہندے ہو تے تھلے دِتے طریقے نال معلوم کر سکدے ہو، ہو سکدا ہے کہ اِک ادھے دن (اگے یا پچھے) دا فرق ہووے، تسی تھلے دِتے طریقہ نال دیسی تاریخ وِچّوں نفی یا عیسوی تاریخ وِچّ جمع کر لؤ ( یاد رہووے دیسی سال چیت دے مہینے توں شروع ہوندا ہے۔)
Punjabi festivals:
Festival
Month
Solar or Lunar month
Date
Maghi/Makar Sankranti
Magh
Solar
1 Magh
Holika Dahan
Phagan
Lunar
Phagan full moon
Holi
Chait
Lunar
First day of Chait after Phagan full moon
Raksha Bandhan
Sawan
Lunar
Sawan full moon
Vaisakhi
Visakh
Solar
1 Visakh
Lohri
Poh
Solar
Last day of Poh
Teej/Teeyan
Sawan
Lunar
Sawan month/3rd day from and including new moon (dark night)
لوہار ایک پیشہ ہے لوہے کا کام کرنے والے کو لوہار کہا جاتا ہے پنجاب اور منڈی بہاوالدین میں کھیتی باڑی بہت زیادہ ہوتی ہے کھیتی باڑی میں جو عام طور پر استعمال ہونے والے لوہے کے آلات ہیں وہ لوہار ہی بناتا ہے جن کو کسان کاشت کاری کے دوران استعمال کرتے ہیں لوہار نے ایک بھٹی لگائی ہوتی ہے جس میں وہ لوہے کو گرم کر کے پھر اس سے مطلوبہ آلات بناتا ہے
پنجاب میں ہر گاوں میں لوہار کی بھٹی ہوتی ہے لوہار منہ اندھیرے اٹھ کر بھٹی میں آگ جلاتا ہے پھر دیکھتے ہی دیکھتے کسانوں کا بھٹی پر ہجوم لگ جاتا ہے کوئی درانتی تیز کروا رہا ہوتا ہے کوئی کہئی یا کھرپہ ٹھیک کروا رہا ہوتا ہے کوئی ہل لے کر آیا ہوتا ہے لوہار کام کے ساتھ ساتھ بھٹی پر آنے والے لوگوں کو مختلف قصے سنا کر لطف اندوز کرتا ہے لوگ ایک دوسرے کو اچھی فصل اگانے کے مشورے دیتے نظر آتے ہیں صبح سویرے لوہار کے ہتھوڑے کی دور دور تک آواز سنائی دے رہی ہوتی ہے
کسان لوہار سے کھیتی باڑی کے آلات تیار کروا کر اپنے کھیتوں میں کام کرنے کے لیے نکل پڑتے ہیں فصلوں کی کٹائی کے دوران لوہارکی بھٹی سارا دن ٹھنڈی نہیں ہوتی سارا دن ہی ہجوم رہتا ہے جیسے جیسے مشین عام ہو رہی ہےلوہار کی یہ بھٹیاں بھی کم ہوتی نظر آ رہی ہیں لوہار اپنی مزدوری میں پیسے کی بجائے اناج لیتا ہے جب فصل کی کٹائی ہوتی ہے گندم اور چاول کسانوں کے گھر آتے تو ان میں سے لوہار کا حصہ الگ کرکے لوہار کو دیا جاتا آج انسان کی ضروریات اس حد تک بڑھ گئی ہیں کہ اتنے میں گھر نہیں چلتا اس لیے لوہار بھی آگے بڑھ کر مختلف کاروبار میں شریک ہوئے آج اگر دیکھیں تو گاوں میں لوہار کی کم بھٹی نظر آتی ہے لوہار اپنے پیشے کو چھوڑ کر دوسرے منافع بخش پیشے اور کاروبار اپنا رہے ہیں
اس نے مجھے جولاہا، کمہار، چمار اور پھر نائی کہااور وہ یہ سب کچھ غصہ سے آگ بگولا ہوکر کہتا چلا گیا میں سنتا اور سوچتا رہا یہ تو پیشے ہیں بالآخران پیشوں کو گالیاں کس نے بنادیا؟ نائی،چمار،لوہار،بھنگی،کمہار،درزی،دھوبی،جولاہا اورسناریہ تمام پیشے ہیںیاد رہے کہ ہمارا صوبائی دارالحکومت اور تاریخی شہرپشاور پیخور خوپیخور دے کنہ پیشہ آور سے بنا ہے اور اس کی وجہ تسمیہ اور شہرت بھی گوناگوںپیشے ہی تھ جاگیر دارانہ نظام میں سماج طبقات میں بٹا ہوا تھا چنانچہ اگر جاگیردار طبقہ تھا تو درمیانہ طبقہ اور کسب گر افراد پر مشتمل طبقہ بھی تھا جاگیر دار کو اس کی جائیدادنے سب کچھ بخشا ہواتھا لیکن جن خاندانوںکے پاس اپنی گزر اوقات اور دو وقت پیٹ بھرنے کے لئے زمین اورجائیداد نہیں تھی انہوں نے ان میں سے کوئی سا ایک پیشہ اختیار کر لیا رفتہ رفتہ باپ کا پیشہ بیٹے نے اپنا لیا اور یوں وہ پیشہ یا ہنراس کنبے کا ذریعہ روزگاربن گیا جبکہ بعدازاں وہ اسی پیشے سے پہچانا جانے لگا اس طرح پیشہ ذات میں بدل گیا یہ تمام پیشے پیداواری پیشے ہیں نائی بال بنواتا اور سنوارتا ہے چمار جوتے سازی میں مصروف رہتا ہے لوہار لوہے کو پگھلاکراس سے طرح طرح کی اشیاء بناتا ہے بھنگی صبح سویرے جھاڑو دیکر محلہ اور شہر کو صاف کرتا ہے اور کمہار برتن بناتا ہے ان تمام پیشوں کی اپنی اہمیت اور افادیت ہے اور کوئی بھی سماج ان کو نظرانداز کر کے تہذیب و تمدن اور ترقی کی راہ پر گامزن نہیں ہوسکتا نائی نہ ہوتا تو ہمارے بال ٹخنوں اورپیروں کی نوک تک پہنچ جاتے اسی جولاہا نہ ہوتا کپڑا کو ن بنتا اور درزی نہ ہوتا تو بھلا ہمارے کپڑے کون سیتا کیا
پردہ پوشی کے ساتھ حیا اور شرم کے تصورات اسی طبقہ نے اپنے مفادات کے تحت باندھ لئے تھے غرضیکہ ان تمام پیشوں کی اپنی افادیت ہے کیاآپ ان کے بغیر ایک معاشرے کا تصور کرسکتے ہو؟ اگر آپ کے محلے کی دو دن صفائی نہ ہو تو اخبارات میں متعلقہ ادارے کی کارکردگی اور صفائی کی صورت حال پر انتظامیہ کے کپڑے اتار دیتے ہو پرانے معاشروں میں صرف ان ہی پیشوں کے لوگ نہ تھے بلکہ بعض اپنی زبان، علم اور معلومات کے ذریعہ بھی پیسہ کماتے تھے چنانچہ کوئی کسی درخت کے سائے میںبیٹھا تعویز بنا رہا ہے تو کوئی فٹ پاتھ پر بیٹھا ہاتھ کی لکیریں بغور دیکھ کر راہ گیروں کو ان کی قسمت کا حال بتا رہا ہے جبکہ مذہبی پیشوا رعیت کو مذہب اوراخلاقیات کی تعلیمات سے نواز کر اپنے اوربچوں کے لئے رزق پیدا کر رہا ہے یہ ایک روزمرہ صداقت ہے کہ ترازو کا ایک پلڑا بھاری کیا جائے تو دوسرا خود بخود ہلکا ہو جاتا ہے جاگردار طبقہ نے اپنی جائیداد کو خدا کی طرف سے ودیعت کر دہ اور خود کو سماج کا اہم انسان ثابت کرنے کے لئے ان تمام طبقوںکی قدر وقیمت کم کرنا تھی اور اس نے ایسا ہی کیا البتہ اس نے بعض طبقات یا پیشوں کو تو نہایت پست اور ذلیل قراردیا اور بعض کی افادیت کم ظاہر کی گو کہ ایک آدھ کو معاف کر دیا لیکن پوری طرح اسے بھی نہیں بخشا یہ سب کچھ کیسے ہوا یہ تو آپ جانتے ہیں بیٹا باپ ،بیٹی ماں اور ملازم اپنے مالک کی نقالی کرتے ہوئے خودکو اس کے سانچے میں ڈھال لیتا ہے جاگیردار طبقات نے چونکہ ان پیشوں سے وابستہ افراد کو سماج میں کم تر دکھانا تھا لہٰذا جب وہ کسی لوہارکو بلاتا تو اسے لوہار کا بچہ اور درزی کو درزی کا بچہ کہہ کر اس کی سماج میں وقعت کو کم کرتا گیا حتیٰ کہ اس نے ان کو اتنا نیچا گرا دیا کہ یہ پیشے نہیں رہے بلکہ گالی بن گئے چونکہ نوکر اپنے آپ کو مالک کے رنگ ڈھنگ میں ڈھال لیتا ہے اور اس کی کرسی پر بیٹھ کر خود کو مالک تصور کرتاہے لہٰذا ان پیشوں سے وابستہ افراد نے بھی ایک دوسرے کو جاگیردار کی نظروں سے دیکھنا شروع کردیا اس طرح اپنے کو کمینہ، ذلیل اور سماج کا کمتر فرد یا خاندان اور اپنے پیشہ اور طبقہ کو بھی نیچ اورکم ترظاہر کرنے میں انجانے طور پر اس کا ساتھ دیا چنانچہ لوہار اپنا تائونائی پر اتارتا تو اسے ماں اور بہن کی گالی کے ساتھ نائی پن کا طعنہ بھی دیتا اور وہ بھی جواباً غصہ میں اسے لوہار یا لوہار کا بچہ یا نچلی ذات کا ایک فرد ثابت کرنے پراپنا زورصرف کر دیتا جاگیردار طبقہ کا ان پیشوں کو گالی کی حد تک پہنچانے کا ایک اہم سبب یہ بھی تھا کہ لوگ ایسا پیشہ یا پیشے نہ اپنائیںجن سے وہ اس کی غلامی سے نکل کر خود انحصاری کی راہ پر چل پڑیں جبکہ یہ پیشے ان کسب گروںکو جاگیردار طبقہ کی غلامی سے نسبتاً آزاد کردیتے تھے ان کو اختیار کرنے سے ان میں خود انحصاری کے ساتھ ساتھ خود اعتمادی پیدا ہوتی تھی لہٰذا اس نے ان پیشوں کو ہی نہایت پست،گندا اور نیچے گرا دیا البتہ کاشتکار، باڈی گارڈ،چوکیدار،فوجی اور مذہبی پیشوا چونکہ اس کی اور اس کے کنبے کی پیداوار بڑھاتے ،جان اور جائیداد کی حفاظت کرتے تھے اس لئے ان پیشوں کو اولالذکر کی مانند پست تو نہیں کیا مگر کلی طور پر ان کو بھی معاف نہیں کیا ہماری جاگیردارانہ اخلاقی اقدار،کہانیاں اور ادب ان ہی حقائق کی عکاسی کرتے ہیںجاگیردار کو جن اقدار سے فائدہ پہنچتا تھا اسے پیاری اور عزیز تھیں انہیں تو تقدس کا لبادہ اوڑھا کر آسمان تک پہنچا دیا جن سے نقصان پہنچنے کا احتمال تھا انہیں پاتال میں پھینک دیا سرمایہ دارانہ نظام جس سماج میں جوں جوں سرایت کرتا جاتا ہے وہ جاگیردار اور محنت کش کا رشتہ پاٹ رہا ہے وہاں نئے پیداواری رشتے جنم لے رہے ہیں تو نئی اخلاقی قدریں بھی پھوٹ رہی ہیں حتیٰ کہ نئے ادبی رحجانات بھی سانس لیتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں ہم اپنے سماج میں دبے دبے قدموں سے بڑھتے ہوئے نئے رحجانات اور مٹتی ہوئی پرانی سماجی اور اخلاقی قدروں پر بعض طبقوں کے ماتم سے اس حقیقت کا اندازہ لگاسکتے ہیں کا رل مارکس اور فریڈرک اینگلس نے مغرب اور یورپی ریاستوں میں آنے والی ان تبدیلیوں کو بہت پہلے دیکھ لیا تھا اور اسی سے یہ نتیجہ نکالا کہ جاگیردارانہ کی مانند سرمایہ دارانہ نظام بھی محنت کشوں کے استحصال پر استوار ہے اور پھر ان دونوں نے ملکرداس کیپٹال اور کمیونسٹ پارٹی کا مینی فسٹو لکھ کر مزدور طبقہ کو دنیا کی کایا پلٹنے کی دعوت دیتے ہوئے کہا: ”دنیا بھر کے مزدورو! متحد ہوجائو تمہیں اس جنگ میں اپنی زنجیروں کے سوا کھونا ہی کیا ہے” جب کہ ان سے بھی شاید پہلے رو سو نے اپنی تصنیف ”معاہدہ’ عمرانی” کی ابتداء ہی ان الفاظ سے کی: ” انسان تو آزاد پیدا ہوتا ہے لیکن ہر جگہ زنجیروں میں جکڑا نظر آتا ہے” مختصر یہ کہ نئے دور خصوصاً مار کسی فلسفہ نے یہ نیا تصور دیا کہ دنیا سر کے بل کھڑی ہے اور اس کو صرف مزدور طبقہ ہی پائوں کے بل پر کھڑا کرسکتا ہے اس فلسفہ نے ان ”نیچ” محنت کشوں کو معاشرے میں اپنی اہمیت کا احساس دلایا اور جن ممالک کے مزدور طبقہ نے اس حقیقت کو پالیا اس نے اپنے ملکوں میں انقلاب بپا کرکے وہاں کے بالادست طبقات سے عنانِ حکومت لے لی ہم قبائلی’ جاگیردارانہ اور نیم سرمایہ دارانہ دور میں سانس لے رہے ہیں لہٰذا ہمارے منہ اور زبان سے بھی اکثر و بیشتر غصہ کے عالم میںایسے الفاظ نکل جاتے ہیں جو یہ بتاتے ہیں کہ ہم نے تاحال ذہنی طور پر بالادست طبقات کی ان فرسودہ قدروں کو گلے سے لگایا ہوا ہے یا پھر ہمارے لاشعور میں ماضی کی باقیات ہیں بعض معاشروں میںآج بھی کسب گر اپنے ناموںکے ساتھ اپنا پیشہ لکھتے اوربولتے ہیں آپ نے کراچی کے اخبارات میں نام کے ساتھ کپڑا بیچنے والا اوربرتن بنانے والا بھی دیکھا اور پڑھا ہوگا متحدہ ہندوستان میں مسلمانوں کو ہندوئوں سے دور رکھنے کے لئے ہندوئوں کے ساتھ ہندو بنیا کہنا بھی شروع کیا گیاجس کا انجام یہ ہوا کہ ہندو کے ساتھ ساتھ مسلمان تجارت سے بھی فاصلہ کرتا گیا اور انگریزوں کی ملازمت میں جانے پر فخر کرنے لگا یہ رحجانات پاکستان میں اس کے باسیوں میں آج بھی دیکھے جاسکتے ہیں بہر کیف،یہ پیشے والی گالیاںصرف ہمارے معاشرے میں ہی نہیں بلکہ ترقی یافتہ ممالک میں بھی رنگ’ نسل’ مذہب اور علاقہ کی تمیز و امتیاز کے ساتھ موجود ہیں سوویت روس وہ پہلی ریاست تھی جس نے اپنے قومی پرچم پر ہتھوڑا اور درانتی بناکر محنت کش طبقہ کو عزت اور قدر کا مقام دیا اور دنیا کو بھی بتادیا کہ اس مقام کا کون حق دار ہے
The Baya Weaver (Ploceus philippinus) is a weaverbird found across South and Southeast Asia also in Pakistan punjab. Flocks of these birds are found in grasslands, cultivated areas, scrub and secondary growth and they are best known for their hanging retort shaped nests woven from leaves. These nest colonies are usually found on thorny trees or palm fronds and the nests are often built near water or hanging over water where predators cannot reach easily. They are widespread and common within their range but are prone to local, seasonal movements mainly in response to rain and food availability.