Author: Editor
منڈی بہاوالدین ڈھوک کاسب ، ڈاکٹر سرجیت سنگھ ودھاوا
ڈاکٹر سرجیت سنگھ ودھاوا
www.facebook.com/surjit.wadhwa?fref=ufi
(ریٹائیرڈ اسسٹنٹ ڈائریکٹر موهالی انڈیا )
سن
2010
اوائل کی بات هے. نیا نیا نیٹ کا استعمال شروع کیا. ڈیٹا کارڈ خرید کر انٹرنیٹ کا شوق پورا کیا جاتا
وکی میپیا سے میپ دیکھنے کا شوق هوا تو دیکھتے دیکھتے ڈھوک کاسب کی لوکیشن پر پهنچا. تو مجھے اپنے پنڈ کے بارے میں ایک تعریفی کمنٹ پڑھ کر خوشگوار حیرت هوئی. کمنٹ دینے والے ایک سردار صاحب تھے ان کا ای میل آئی ڈی لکھا هوا تھا. میں نے ان کو ای میل کرنے کا فیصله کیا. میں نے ان سے ڈھوک کاسب کے متعلق تعلق کا پوچھا. اور حیرت انگیز طور پر ان کا دوسرے دن جواب آ گیا. اس کے بعد میں نے ان کو فیس بک پر تلاش کر کے ایڈ کیا اور ان کا حلقه احباب ڈھوک کاسب میں بڑھتا چلا گیا.
انهوں نے ای میل کی وه ذیل میں پیش کی جا رهی هی. انگلش سے ترجمہ شده هے. ڈاکٹر صاحب پی ایچ ڈی مکینیکل هیں اور انسٹیٹیوٹ آف انجنیرنگ اینڈ ٹیکنالوجی بھاددال انڈیا سے اسسٹنٹ ڈائریکٹر ریٹائیرڈ هو چکے هیں
,,میرے وطن کی یادیں
(ڈاکٹر سرجیت سنگھ ودھاوا)
میری ماں “لسوڑی کلاں” ( ڈھوک کاسب کے ایک”قریبی گاؤں ” ) سے تعلق رکھتی تھی۔ اس کی شادی ڈھوک کاسب کے ایک نوجوان ودھاوا سے 1912 یا 1913 میں ھوئی۔ . گاؤں کے غیر مسلم خاندانوں میں ودھاوا ، مونگا اور چھابرا تھے ۔ مسلم خاندانوں میں ساھی ، گوندل اور گوجر شامل تھے۔ یہ سب آپس میں ھنسی خوشی رھتے تھے اور ڈھوک کاسب کے مرکزی دارا میں اپنے اپنے دکھ سکھ کا مشترکہ اظہار کرتے تھے۔
ان دنوں ‘ڈھوک کاسب ‘ کے نوجوان لڑکوں کو ان کے کیریئر میں بہتر مواقع کے لئے امریکہ، کینیڈا، جرمنی، دبئی، وغیرہ، جانے کا شوق ھے۔ لیکن اس وقت(1947 ء سے پہلے)، لوگ کمانے کے لئے ‘ہندوستان’ جاتے تھے۔ میرے والد بھی کمانے کے لیے ھندوستان جاتے تھے۔ وہ چھ سے سات مہینے وھاں کام کرتے اور برسات کے دنوں میں واپس ڈھوک کاسب آ جاتے۔
میری والدہ نے خاندان کو پالنے کے لیے بھت مشکل وقت گزارا۔ انھون نے تین بڑی بیٹیوں اور دو بیٹوں کی پرورش کی۔ مجھے بڑی اچھی طرح یاد ھے کہ میری والدہ کپڑے دھونے کے لیے کھوہ پر جاتی تھی۔ یہ کھوہ گاؤں کے داخلی راستے پر تھا جو چیلیانوالہ سے آتا ھے۔ جب میری ماں واپس آتی اس کے ھاتھ میں سارے دھلے کپڑے اور پانی کا بھرا ھوا گھڑا ھوتا تھا۔ یہ اس کا روز کا معمول تھا۔
وہ اپنے فالتو وقت میں وہ کپاس سے دھاگے بناتی۔ اور یہ دھاگے گاؤں کے جولاھوں کو دیے جاتے جو ان سے کھیس اور لوئی بناتے۔ ابھی بھی میرے پاس ڈھوک کاسب کے جولاھا کے ھاتھ سے بنے کھیس موجود ھیں۔ اور میں ان کو بڑی حفاظت سے رکھتا ھوں۔
میری والدہ کی اک گہری دوست تھیں جن کا نام پھوپھی “جوائی “تھا (یاد رھے یہ ھمارے گاؤں کے اک معزز شخصیت چوھدری غلام حیدر گوندل صاحب کی والدہ محترمہ ھیں)۔ یہ ھم بہن بھائیوں کے لیے ماں کا درجہ رکھتیں تھیں۔
یہ شاید 1945 یا 1946 کا دور تھا جب گاؤں کا اک ساھی نوجوان سائیکل لایا۔ یہ شاید فلپس کمپنی کی بنی ھوئی تھی۔ یہ پہلی سائیکل تھی جو ڈھوک کاسب میں آئی تھی۔ گاوں کی عورتیں اس کو “لوھے کا گھوڑا” کہتیں۔
میں اور گاؤن کے دوسرے بچے سائیکل کے پیچھے دورٹے۔ اور اسے چھونے کی خواہش کرتے۔
ایک دفعہ ھندوستان سے واپسی پر، میرے والد لاھور سے ایک گرامو فون لے آئے۔ جو ایچ-ایم-وی کمپنی کا تھا۔ گرامو فون آمد لوگوں کی توجہ کا سبب بن گئی۔
ھمارا گھر چوہدری غلام حیدر گوندل کے گھر کے پاس تھا۔ میرے والد گلی میں آ کر گرامو فون بجاتے تو محلے کی عورتیں تھوڑا فاصلے پر بیٹھ کر گراموفون سنتیں۔ میں ہمیشہ اس وقت کوئی اچھی جگہ لینے کی کوشش کرتا کہ دوسروں سے ممتاز نظر آؤں۔ گراموفون کی دونوں سائیڈز استعمال کے بعد بیکار ھو جاتیں۔ میرے والد اس کی سوئیوں کو پھینک دیتے۔ میں اس بیکار سوئیوں کو اٹھانے کی کسی کو اجازت نہ دیتا تھا
اس وقت کی کیفیت کو میں کبھی لفظوں میں بیان نھی کر سکتا۔
اسی طرح زندگی گزرتی رھی۔ ایک دفعہ ھندوستان سے واپسی پر پتہ چلا کہ میرے والد جگر کی تکلیف میں مبتلا ھیں۔ ھم لوگ پریشان ھو گئیے اور ھر ممکن علاج کروانے کی کوشش کی تا کہ وہ ٹھیک ھو جائیں۔ ڈھوک کاسب اور گردونواح میں اس وقت علاج کی سہولتیں نہ ھونے کے برابر تھیں۔ آخرکار میرے والد “ھیلاں” کے اک چھوٹے سے ھسپیتال میں انتقال کر گئیے۔ میں اس وقت 4 سال کا تھا۔ میری فیملی اس وقت سخت شاک میں تھی۔اس وقت میری ماں اور ھم نے اپنے رشتہ داروں اور قریبی تعلق داروں کی طرف سے امید رکھی مگر یہ سب کچھ بھت تکلیف دہ تھا۔
سال 2006 میں ، میں اپنی بیوی اور بہن کے ساتھ ڈھوک کاسب آیا (ساتھ میں لاھور سے اک ایڈوکیٹ دوست بھی تھے) ۔ میری یادداشت ابھی تک اتنی تھی کہ میں بغیر کسی سے پوچھے سیدھا اپنے گھر کی لوکیشن پر پہنچ گیا۔
میں چوہدری غلام حیدر گوندل صاحب سے بھی ملا۔ ان کی صحت اچھی تھی اور ابھی تک میرے خاندان والوں کے کئی نام یاد تھے۔ میں اپنے ساتھ اک ڈائری لے گیا تھا جس پر ان لوگوں کے نام تھے جو مجھے یاد تھے یا میری ماں نے بتائے ھوئے تھے۔ میں نے ان کے متعلق بھی پوچھا ، بتایا گیا کہ ان میں زیادہ تر اب زندہ نہی ھیں۔
اب میں “فیس بک” کے ذریعہ سے ڈھوک کاسب کے بارے میں کبھی کبھی معلوم کرتا رھتا ھوں۔
میری دعا ھے کہ ڈھوک کاسب ایک مثالی گاؤں بنے جس میں صحت اور تعلیم کی ساری سہولیات موجود ھوں۔
آخرکار ڈھوک کاسب میرا وطن ھے۔—————————————<<
اس کے ڈاکٹر صاحب سے مسلسل رابطہ رها. ایک دن ان کی میل آئی که میں اپنا پنڈ دیکھنے آ رها هوں. ان کو گونمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی رسول کی سو ساله تقریبات میں مدعو کیا گیا تھا. 28 دسمبر 2012 بروز جمعه میرے پاس براسته واھگه بارڈر ڈھوک کاسب پهنچے. ان کی پسندیدہ ڈشز تیار تھی. ان کی پهلی ملاقات اور اپنائیت کا احساس آج بھی موجود هے. هلکی بارش میں کھانے کے بعد وه اپنے ڈھوک کاسب کی سیر کو نکلے. ان کی مسز جو ایم ایس سی فزکس هیں همراه تھیں جو گاؤں لسوڑی سے تعلق رکھتی تھیں.
مجھے ڈاکٹر صاحب نے اپنے پیچھے کر دیا. اور گاؤں کے تاریخی واقعات بتاتے جاتے
هلکے آنسوؤں کے ساتھ اپنی جاۓ پیدائش پهنچے. جو تھوڑی تبدیلی کے ساتھ موجود تھی. اسکے بعد ان کے جانوروں کی حویلی تھی. اب وھاں رهائش بن چکی تھی. گھومتے گھومتے مسجد اور وهاں سے هوتے هوئے. بابا غلام حیدر کو ملے. جو ڈاکٹر صاحب کو بچپن میں سکول داخل کروا چکے تھے. ٹائم کم هونے کی وجه سے ڈاکٹر صاحب 4 بجے کے قریب محبتیں بانٹتے اور محبتیں سمیٹتے جانے کی تیاری میں تھے اس دوران کافی دوست بھی وھاں اکٹھے هو چکے تھے.
ڈاکٹر صاحب کے ساتھ تحائف کا تبادلہ هوا. اور وه اداس نظروں کے ساتھ وهاں سے رسول کالج کے لیے روانہ هو گئے.

MUHAMMAD NADEEM AKHTAR
DHOK KASIB
nadvad@gmail.com
village Khairewal Ranjha phalia mandi bahauddin
Khairewal Ranjha خیرے وال رانجھا
Khairewal Ranjha خیرے وال رانجھا
By: Imran Nazeer
Location: جگہ
Village Khairewal Ranjha خیرے وال رانجھا is situated in tehsil Phalia district Mandi Bahauddin which is 18 km away from Phalia city and almost 30 km away from city MBDIN.
History: تاریخ
It is said that this is the name of person who was called khaira. Khaira and Mian were two brothers. These two persons lived in this area. After the death of this person it (khairewall) was known by person name. people of the village are very generous, friendly, and caring.
Area of Village: گائوں کا رقبہ
Area of my village is almost 1 sq only.
Population: آبادی
The population of this village is around 2,000 people.

Neighboring Villages: قریب کے دیہات
- Mianwal Ranjha
- Annay Sharif
- Takht Mahal
- Burj Agra
Famous Personalities: مشہور شخصیات
- Muhammad Hayat (Numbardar)
- Muhammad Hayat Ranjha
- Haji Muhammad Akram Ranjha
- Master Jahan Khan
- Molana Manzoor Ahmad (sb)
- Master Javeed Ahmad
- Tauqeer Ranjha (ASI)
- Arslan Ranjha (ASI)
- Ch. Shan Muhammad Gondal
- Master Nawaz Ahmad
- Muhammad Imran
- Zahid Farooq Ch.
Main Casts: مشہور ذاتیں
- Ranjha
- Gondal
- Tarar
- Barber
- Cobbler
etc.
Source of Income: آمدن کے ذرائع
Mostly people are related to agriculture. Some are working abroad like
- France
- Italy
- Kuwait
- Oman
- Dubai
- South Africa
- KSA
etc.
Hospital: ہسپتال
There is no hospital in my village. Only a private clinic working in my village.
Main Crops: اہم فصلیں
- Wheat
- Rice
- Conn
- Barley
- Sugar cane
etc.
Flora and Fauna:
- Buffaloes
- Cows
- Sheeps
- Goats
- Horses
etc
May Allah Bless This Village (AAMEEN)
The information was provided by Mr. Imran Nazeer

Dhoul Ranjha دھول رانجھا
Dhoul Ranjha دھول رانجھا
Information by: Saqlain Ranjha
Information:
Dhoul Ranjha is a village and Union council of Phalia Tehsil, Mandi Bahauddin District, Punjab, Pakistan. It is located at N 32°18’50 & E 73°23’20 with an altitude of 201 meters above sea level and lies about 18 km southeast of Mandi Bahauddin District on the Gujrat–Mandi Bahauddin Road. The nearest police station is Phalia Police Station, which is about 5 km to the east. The population of village is around 7,000. Most of the population are farmers
Location:
Dhoul Bala is a famous village of District Mandi-Bahauddin. In its east is Ladher Kalan, in West is Madhrey Rattowal, in North is Mangat and its south side is one small canal and Kailu , Phalia.
Population:
Population of our village is round about 7,000 persons.
Famous Personalities
- Late Ch. Muhammad Sharif Ranjha
- Late Ch. Manak Ali Ranjha
- Ghulam Qadar Ranjha
- Ch Ghulam Murtza Ranjha
- Haji Muhammad Nazir Ranjha
- Haji Skindar Hayat Ranjha
- Syed Zafar Hussain Shah
- Khizar Hayat Ranjha
Judges
Shahid Munir Ranjha (Saheed) belong from Dhaul Ranjha.
Prominent Personalities
- Barrister Asad Ali Ranjha
- Shafqat Muneer Ranjha (Ex-Nazim)
- Muhammad Afzal Ranjha (Deputy Administrator Zakat (HQ)
- Ch. Ibrar Hassan Ranjha
- Muhammed Tariq Ranjha (SDO)
- Javed Imran Ranjha (Advocate High Courts)
- Ghulam Mohiud Din Ranjha (ADPP)
- Sarmad Hasan Gondal (ADPWD)
- Safdar Iqbal Shaheen (Lecturer)
- Gultasab Hayat Ranjha(Advocate)
- Sohaib Hassan Ranjha
- Ahmad Hassan Ranjha (DDOR),
- Afzaal Ahmad Ranjha(SI)
- Waqas Ranjha (wto)
- Zaheer Ahmad Dhothar (ZillaDar)
Community
Majority population of the village belong to Ranjha community. People of other communities like syed , Gondal, Kassar, Tarar etc. are also residing there.
Religious Personalities
- Hafiz Zahoor Ahmad
- Molvi Ghulam Ahmad
- Hafiz Zain Ul Abiddin
- Haji Asmat Ullah
- Molana Abdul Hafeez
- Syed Zafer Hussain Bukhari (President Fiqa Jaffria)
Sports Activities
People of the village take interest in Volley Ball, Cricket, and Tent Paging. There is a Ground for Horse Riding.
Source of Income
Majority of the peoples earn their livelihood through agriculture. Few peoples are in Government services. Near about one thousand people of the village are residing in different countries of the World. Majority of people are residing in Europe.
Way Of Living:
Peoples of the village live a simple life. They have very friendly behavior. Peoples are very much hostile, peaceful and sincere. People of the village go to their lands to care their cattles and crops and come back in the evening so they have a very busy life.Young boys play Cricket, Volly Ball or play cards in their extra time. Peoples of the village remains careful about fight and misbehavior because if any body do a little mistake other party persons quickly report to the police at Thana Phalia.
Transportation:
Village is located almost 7.0 KM towards east from Phalia City.Peoples use Tanga’s & Rikshas to reach the bus stop. Motor Cycles and Cycles are very common in the village which are used to go towards their lands or near by areas.
Bazaars And Markets:
No Bazars or Markets are present in the village only few General stores (Karyana shops) are present which provide commodities of daily use. Peoples have to go Phalia or Mandibha ud din City for major shopping.
Crops Of The Village:
- Wheat (gandam
- Rice (chawal)
- Corn (mukai)
- Potato (aalo)
- Barley (jao)
- Sugar Cane (kamad)
- Sweet Pea (mator)
- Chicken Pea (chana
- Jawar
- Bajra
- All Vegetables
etc.
Hospitals, Medical Stores & Shops:
There is a BHU in the village. A MBBS Dr. and other staff is providing health facilities to the peoples of village and others. In private sector few Clinics are providing facilities to the peoples. There is one Medical Store and some General Shops and one B.H.U
Media Facilities:
In the village Television, Radio, Tape Recorder, PTCL Phones and Mobile Phones with services of all the Telecom companies are present in almost every house. Few homes in the village also possess COMPUTERS in them very rare people use internet.
Registered Voters:
The number of registered voters in the village is 3800 among them almost half of them are of female voters. Although village is small but at the time of election village splits into three parts. Each group tries to cast votes against each other. At the time of BD elections both males and females cast vote but at National and Provincial Assembly elections only males cast their votes.
Nature Of The Peoples:
People of our village are very respective, moderate ,well educated and good host. Way of living is mixture of agricultural and city life. Some people are working in govt sector and many are abroad .
Education Sector:
There are government-run primary and middle schools for both boys and girls. There are also private schools as well. The literacy rate is increasing sharply.
- Government High School for Boys
- Government Secondary School for Girls
- Government Primary School for Boys
- Government Primary School for Girls
There are 2 Govt. Schools (one for boys and one for girls) and 02 Private Schools. There are also 02 Mosques in the village. One private school is Ghazali Model high School.
Communication & Entertainment System:
Every facility of modern era is available like Telephone, Internet, Transport , Mobiles, TV, TV-Cable etc.
Rest House: (Dara)
There is 04 Rest House For Peoples
Sports Of The Village:
- Volleyball
- Kabbaddi
- Cricket
- Bantay
- Akhroat
- Gulli
- Danda
Free Time & Hobby:
There is one Park for Peoples nearby our Village and also there is Canal. Kabaddi is the Popular Sport in the Village.
Flora & Fauna:
As the area is very productive both animals and plants love to stay here.
Domestic animals of the village are
- Buffalos (bhainsein)
- Cows and Bulls (gaey aur bael)
- Sheeps (bhairain)
- Goats (bakrian)
- Horses (ghoray)
- Donkeys (gadhay)
- Dogs (kutay)
- Cats (Bilian)
- Hens (murgean)
- Rabbits (khargosh)
- Pigeons (kabutar
Tree’s & Flower’s:
Village land is very much fertile, availability of water is enough although soil not suitable for GYMNOSPERMS and FERNS but ANGIOSPERMS are very much common in the village which include both ornamental and wild. Important plant of the village are as under:
- Acacia species (kikar)
- Dalbergia sisso (tahli)
- Rosa indica (gulab)
- Orange species (maltay aur methhay)
- Guava (amrood)
- Mangoes (aam)
- Gomi (dhraik)
Main Problems Of The Village:
- Sui Gas Problem
- There is no Community Center
- There is no High School for Boys & Girls
- Roads condition is very bad
- Health Problem
- Street Problems
May Allah Bless This Village
Information Provided By
Saqlain Ranjha
Dolowal ڈلووال
Dolowal ڈلووال
Information provided by: Muhammad zulafqar
Muhammadzulafqar8@gmail.com
03466476057

History:
The name of village is Dolowal. In 1753’a lady name Bhikhi bought this area all including current area of Bhikhi Sharif, Kakowal and Anowal, Dolowal etc. The lady named Bhikhi had daughters naming Dallo, Kakowal and Anno, current area of Dolowal was given to Dollo ,the daughter of Bhikhi. Dollo and her family and some other people stated living at this area.Therefore name of this area was considered Dolowal .
Location:
It is situated at the west of Bhikhi Sharif. surrounding villages are chak no.13, chak no.39 etc.It is 16 km far from M B Din City.
گاؤں کی مشہور اور ی تعليم يافتہ شخصيات: Famous Personalities:
- Haji Nadir(late)
- Haji Bahadir(late)
- Haji Khizar
- Atta Muhammad
- Zafar Gondal
- Mazhar Gondal(Thakedar and paint company owner in Bahrin)
Educated persons:
The fact is that,unfortunately,this village has a least interest in education. Wealth is all respected. Now slowly and slowly steps are moving to positive. The has currently created one M Phil Islamic Studies person,
Zulfiqar Ahmad,one M A Islamiat, Qumar Abbas, Govt. teachers and three advocates, shahid Imran, Aamir Shahzad and Muhammad Amir and one F.sc ,Shoab Ahmad, one S.D.O.in Sui Gas Field already working name Muhammad Aslam.
Castes:
- Gondal
- Warraech
Crops:
- Rice
- Wheat
گاؤں کے قريبی ديھات:
- Bhikhi Sharif
- Chak no.12
- Chak no.13
- Chak no.39
- Jayya
گاوں کے مسائل اور ضروریات :
Built of road and school is necessary on its Dera Dilloanas because population of this Dera is 320 and neighbouring Dera,s population is 500.
گجر قوم

گوجر (گُجر، گجَُر) ایک قوم کا نام ہے، جو برصغیر میں دور دور تک آباد ہے۔۔ جو چھٹی صدی عیسوی میں برصغیر میں داخل ہوئے تھے۔ ان کی جسمانی خصوصیات ظاہر کرتی ہیں کہ یہ خالص ہند آریائی نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔
گوجروں کا تعلق ہنوں سے تھا یہ ان کے بعد برصغیر میں آئے تھے اور انہوں نے راجپوتانہ کا بڑا حصہ فتح کرلیا اور کئی صدیوں تک برصغیر کی تاریخ میں اہم کردار ادا کرتے رہے۔ ڈی آر بھنڈارکر نے ثابت کیا ہے کہ گوجارے شمالی ہند میں 550 عیسوی کے قریب سفید ہنوں کے ساتھ یا ان کے بعد داخل ہوئے تھے۔ ان کا ذکر سب سے پہلے پانا کی کتاب ’ہرش چرت‘ میں آیا ہے، جو انہیں ہنوں کی طرح ہرش کے باپ کا دشمن قرار دیا ہے۔
محمد عبدالمک نے ’شاہان گوجر‘ میں لکھا ہے کہ دوسرے ممالک میں اس قوم کو خزر، جزر، جندر اور گنور بھی کہا گیا ہے۔ برصغیر میں یہ پہلے گرجر کی صورت پھر گوجر ہوگیا۔ یہ لوگ گرجساتان سے آئے تھے۔ بحیرہ خزر کا نام شاید خزر پڑھ گیا کہ اس کے ارد گرد خزر یعنی گوجر آباد تھے۔ جو کہ سھتین قبایل کی نسل سے ہیں۔ شاہان گوجر میں اگنی کل کی چاروں قوموں چوہان، چالوکیہ، پڑھیار اور پنوار کا ذکر گوجروں کے ضمن میں کیا ہے۔
حسن علی چوہان نے ’تاریخ گوجر‘ میں لکھا ہے کہ رامائین میں گوجر کے معنی غازی کے آئے ہیں اور یہ کشتری ہیں جو بعد میں گوجر کہلانے لگے۔ اس میں سورج بنسی، چندر بنسی، چوہان، چالوکیہ، پڑھیار، پنوار اور راٹھوروں کو بھی گوجر کہا گیا ہے۔ مگر ان اقوام نے کبھی گوجر ہونے کا دعویٰ نہیں کیا اور نہ ہی گوجروں نے کبھی ان اقوام سے اپنا نسلی تعلق ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ جب کہ جہانگیر کا کہنا ہے کہ گوجر قوم کے لوگ نوکری نہیں کرتے ہیں، ان کی گزر اوقات دودھ دہی پر ہے۔ جلال الدین اکبر نے ایک قلعہ بنا کر اس میں گوجروں کو آباد کیا تھا جس کا نام گجرات ہوگیا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ گوجر اور گجر کی اصل ایک ہی ہے۔
گوجروں کی آبادی کا دور دور تک منتشر ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ ان کی فرمانروائی کا دائرہ کس قدر وسیع تھا۔ گوجر بیشتر گلہ بانوں کی ایک قوم تھی جو جنگ و پیکار کی دلدادہ تھی اور آج کل بھی گوجروں میں یہ رجحانات پائے جاتے ہیں۔ یہ مستقل مزاج زراعت کاروں کی حثیت سے شہرت کے مالک ہیں۔ تاہم انہوں نے عمومی حثیت سے اقامت کی زندگی اختیار کرلی ہے۔ ہند کے انتہاہی شمالی مغربی حصہ خاص کر کانگرہ اور سنجھال کے پہاڑوں کے بیرونی کناروں تا حال گوجر خانہ بدوش چرواہوں اور گلہ بانوں کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔ ان کے نام پر شمالی مغربی برصغیر میں بہت سی بستیاں، قبضے اور شہر آباد ہوئے جو اب تک موجود ہیں۔
گوجروں نے اپنی ریاست کوہ آبو کے قریب بھٹمل میں قائم کی تھی۔ اس خاندان کی ایک اور شاخ بروچ نے ایک اور ریاست قائم کی تھی جو ان کے نام سے بروچ کہلائی۔ ایک اور شاخ اونٹی کے نام سے موسوم ہوئی ہے۔ اس خاندان نے عربوں کو جو گوجروں کے علاقہ تاراج کررہے تھے روکا۔ ان دونوں خاندانوں میں بالادستی کے لئے جنگ ہوئی۔ جس میں اونٹنی خاندان کو کامیابی ہوئی اور ان کو اپنے اپنے طاقتور پڑوسییوں راشٹر کوٹوں اور پالوں سے جنگیں کرنی پڑیں۔ اونٹی راجہ ناگاہ بھٹ دوم (800ء تا 825ء) نے مونگیر کے مقام پر دھرم پال کو شکست دی۔ اس نے کاٹھیاوار، مالوہ اور راجپوتانہ میں کامیاب لڑائیاں لڑیں۔ اس کا بیٹا بھوج ایک کامیاب اور قابل راجہ تھا۔ شروع میں اس نے پالوں اور راشٹر کوٹوں سے شکست کھائی۔ مگر بالاآخر اس نے اپنے دشمنوں کو ہرا کر اپنے دشمنوں کو ہرا کر کھوئے ہوئے علاقے دوبارہ حاصل کرلیے۔
بروچ کے دارلحکومت قنوج پر گوجروں کی شاخ پرتی ہاروں کا قبضہ ہوگیا تھا۔ مگر راجہ یشودومن سے قبل کی تاریخ کا علم نہیں ہے۔ یشودرمن کشمیر کے راجہ للیتا کے ہاتھوں شکست کھا کر مارا گیا۔ نویں صدی کے شروع میں بنگال کے راجہ دھرم پال نے قنوج کے راجہ کو تخت پر سے اتار کر اپنی پسند کے آدمی کو تخت پر بٹھا دیا۔ اس کو تقریباً 816ء میں ناگابھٹ دوم نے نکال باہر کیا۔ اس کے بیٹے بھوج نے قنوج کو اپنا پایا تخت بنایا۔ اس ایک طویل عرصہ (840ء تا 890ء) تک ایک وسیع علاقے پر حکومت کی۔ اس کا بیٹا مہندر پال (890ء تا 908ء) اپنے باپ کی وسیع مملکت کو برقرار رکھنے میں کامیاب ہوگیا۔ مگر اس کے بعد اس ریاست کو ذوال آگیا اور اس کا بیٹا مہی پال اندر سوم کے ہاتھوں جو دکن کے راشترکوٹیہ خاندان سے تعلق رکھتا تھا شکست کھا گیا اور درلحکومت پر بھی اندر سوم کا قبضہ ہوگیا۔ مہی پال نے اگرچہ قنوج پر دوبارہ قبضہ کرلیا لیکن وہ ریاست کے شیرازے کو بکھرنے سے نہیں بچا سکا۔ پڑھیاروں کی ایک ریاست رجپوتانہ میں مندوری یا مندر کے مقام پر تھی، جس کو راٹھوروں نے چھین لی تھی۔ عبدالمک نے گوجروں کا خزر قوم کی باقیات ہونے کا دعویٰ محض اس وجہ سے کیا ہے کہ پاکستان کے شمالی حصہ یعنی شمالی پنجاب سرحد اور کشمیر کے گوجروں کا کہنا ہے کہ وہ ترکی النسل ہیں۔
خزر جو ایک ترکی قوم تھی، جس نے نوشیروان عادل سے کچھ عرصہ پہلے عروج حاصل کر لیا تھا اور غالباََ یہی ترک تھے، جن کے خلاف دربند کی سدیں تعمیر ہوئیں۔ خزر نے ترکی خانہ بدوش سلطنت کی روایات کو قائم رکھا۔ قباد کی پہلی تخت بشینی کے وقت خزر قبیلے نے ایران پر یورشیں شروع کردیں۔ قباد نے خزر حملہ آورں کا مقابلہ کیا اور انہیں شکست دے کر ملک سے باہر نکالا۔
بحیرہ خزر کے مشرقی علاقوں میں ساسانیوں نے اپنے ترک ہمسایوں کے خلاف مدافعتی قلعے تعمیر کئے۔ صوبہ جرجان کی حفاظت کے لئے آجری سد بنائی گئی۔ لیکن یہ ترکوں کے فاتحانہ حملوں کی روک تھام نہ کرسکیں۔ جرجان اور طبرستان کے درمیانی سرحد پر ایک اور اس لئے دیوار تعمیر کی گئی تھی کہ صوبہ جرجان ہاتھ سے نکل گیا تھا۔ نوشیروان نے533ء میں قیصر روم سے ایک معاہدہ کرلیا۔ اس معاہدہ کے تحت رومی حکومت نے ایک بڑی رقم دینے کا وعدہ کیا، جس کے بدلے نوشیرواں نے دربند اور کوہ کاف کے دوسرے قلعوں کی حفاظت کی ذمہ داری لی۔ نوشیروان عادل (531 تا 579) ساسانی حکمران نے مغربی ترکوں سے جن کا حکمران ایل خان تھا دوستانہ تعلقات قائم کئے اور ان کی مدد سے افغانستان میں ہنوں کو شکست دی اور اس کے بعد خزر قبائل پر فوج کشی کی اور ان کی طاقت کو پارہ پارہ کردیا۔ خزر قوم تاریخ کے صفحات سے غائب ہوگئی۔ اس سے بھی ترکوں کی طاقت میں خاطر اضافہ ہوا اور افغانستان میں ہنوں کے خالی کردہ علاقوں پر ترک براجمان ہوگئے۔ یہی وجہ ہے تھی جس کے سبب ترکوں اور نوشیروان میں اختلاف پیدا ہوگیا۔
بہر حال گوجروں کے ترکی النسل ہونے میں تو ہمیں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ لیکن اس پر اختلاف ہے کہ گوجر خزر النسل ہیں۔ کیوں کہ ترکوں کی مغربی سلطنت جس کی علمبرداری افغانستان کے علاقوں پر بھی تھی وہ خزروں کی دشمن تھی اس لئے خزر قوم کا برصغیر کی طرف آنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ہے۔ جو ترک قبائل ساسانی سرحدوں کے قریبی ہمسائے تھے۔ ان میں ایک قبیلہ غز تھا اور اسی نسبت سے ترک قبائل کو غز بھی کہا جاتا تھا۔ یہ قبیلہ غز کے علاوہ غزر بھی پکارا جاتا تھا اور یہ کلمہ ترکوں کے ناموں میں بھی آیا ہے۔ مثلاً غزر الدین مشہورخلجی التتمش کے دور میں گزرا ہے۔ غرز جو ترک تھے ہنوں کی شکست کے بعدبرصغیر میں داخل ہوئے۔ یہ نہ صرف بہترین لڑاکے، خانہ بدوش اور گلہ بان تھے۔ غالب امکان یہی ہے کہ غرز ہند آریائی لہجہ میں گجر ہوگیا۔ کیوں کہ ہند آریا میں ’غ‘ ’گ‘ سے اور ’ز‘ ’ج‘ سے بدل جاتا ہے اور گجر کا معرب گوجر ہے۔
پاکستان میں گجر شخصیات
- چوہدری رحمت علی
- فضل الہی چوہدری
- میجر طفیل محمد شہید
- شعیب اختر
- حافظ محمد سعید
- قمر زمان کائرہ
- میجر جنرل بلال اکبر
- علامہ لیاقت حسین
- نوید عالم
- مفتی منیب الرحمان
- سجاد گجر کبڈی پلیئر
- بابر وسیم گجر کبڈی پلیئر
مآخذ
- گوجر۔ معارف اسلامیہ
- ڈاکٹر معین الدین، عہد قدیم اور سلطنت دہلی
- حسن علی چوہان، تاریخ گوجر
- نورالدین جہانگیر، تزک جہانگیری
- جیمزٹاڈ۔ تاریخ راجستان جلد اول
- ڈاکٹر معین الدین، اقدیم مشرق جلد دؤم
اولیا اللہ اور سر زمین منڈی بہاوالدین ، تحریر، پروفیسر محمد صغیر
اولیائے کرام اور صوفیائے عظام دین اسلام کی تعلیمات کے حقیقی مبلغ اور ذات قدرت کے منتخب نمائندے ہیںجن کی تمام تر توانائیاں خدا ورسول ۖکی رضاجوئی کے لیے وقف ہیں۔ یہ مقدس ہستیاں ہر دور میں تیرگئی دوراں میں اجالوں کے چراغ روشن فرماتی رہی ہیں۔ ہندالولی ہوںیا لال شہباز قلندر، علی ہجویری گنج بخش ہوں یا الٰہی شاہ گنج البحر، جملے شاہ ہوں یا بلھے شاہ، بری امام ہوں یا شاہ نظام، ہر نمائندہء الٰہی عصری تقاضوں کے مطابق قلوبِ انسانی کی آبیاری کرتا آیا ہے۔ان کے نورانی چہرے اللہ کی یاد دلاتے ہیں۔ان کی زندگیاں جیتا جاگتا قرآن ہیںاور ان کی سیرتیںسرکار دوعالم ۖکے اتباع میںڈ ھلی ہیں۔
ہرکہ خواہی ہمنشینی باخدا او نشینددر حضور اولیاء
ان نفوس قدسیہ کی خانقاہیں اور درگاہیں طاقت وقوت کا سرچشمہ ہیں۔ تاریخ میںان آستانوں کا اہم کردار رہا ہے۔انہوں نے معاشرے کو سنوارا،دلوں کو نکھارا، سلطنتوں کو بنایا اور زمانے کا رخ پلٹاہے۔دلوںپر حکومت کی ہے۔اللہ رب العزت نے ان کے نقوش قدم کو صراط مستقیم قرار دیا ہے۔ان کے آثار کو وسیلہء ظفر بناکر ان کے پیغام کو ذریعہء نجات بنایاہے۔یہ اشرف المخلوقات انسان ہیں۔ ہر دور پرفتن میں اللہ کی روشن نشانیاں ہیں۔صدیاں بیت جانے کے بعد بھی ان کی یاد لوگوں کے دلوں میں راسخ ہے۔ان کے قلوب، جمال الٰہی اور اسرار کائنات سے لبریز ہوتے ہیں اور ان کے طائر فکر کی پرواز تابہ عرش رہتی ہے۔ان پر کائنات کے سربستہ رازمنکشف ہوتے رہتے ہیں اوران ہی کی وساطت سے یہ رموز،بشریت کو عطا ہوتے ہیں۔
Channi Mast Qalandar, Phaliya
Channi Mast Qalandar, Phaliya
یہ اولیاء اللہ جہاں بھی گئے اسلام کی روشنی لے کر گئے۔اسوئہء محمدی کی خوشبو پھیلائی۔جہاں گئے ماحول کو جگمگا دیا،فضا کو مہکا دیا۔اپنے عمل صالح اور دل میں اتر جانے والی تعلیمات کی بنا پر دین اسلام کودنیا کے طول وعرض میں پھیلا دیا۔صدیوں کی محنت شاقہ اور اور عمل صالح کی ذاتی مثالوں سے ان مردان حق آگاہ نے وہ تعلیمات عام کیں جنہوں نے لوگوں پر تجلیات کے ہزارہا عالم منکشف کر دیے اور انہیں نگاہ آشنا سے روشناس کرایا۔انہی کی خدمات کے باعث آج اسلام ایک عظیم عالمگیر مذہب کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے اور انہی کے تربیت یافتہ خلفائے طریقت شب وروز گلشن دین کی آبیاری میں منہمک نظر آتے ہیں۔
ان اہل اللہ اور مشائخ نے دیگر ممالک کے ساتھ ساتھ برصغیر میںبھی فروغ اسلام کے لیے انتھک جدوجہد کی اور اپنے کرداروعمل سے دلوں کو اسلام کی طرف مائل کر کے صحت مند انقلاب برپا کیا۔ان کی روح پرور شخصیات نے خواص وعوام کے دلوں کو تسخیرکیا اور ان میںزندگی اور معرفت ِحیات وکائنات کی نئی امنگیں پیدا کیں۔ان کے گلہائے فکر ونظر کی مہک نے ہر انسان کے دل ودماغ کو معطر کیااور یہ مہک آج بھی اپنی تمام تر شگفتگی وتازگی کے ساتھ فضائے بسیط میں مہمیز ہے۔یہ ہستیاں پوری انسانیت کے لیے رہنما ہیں جنہوں نے ہر دور میں علم وعرفان کی قندیلیں روشن کر کے مخلوق خدا کو صحیح اور سچے راستے پر گامزن کرنے کی مسلسل جدوجہد کی۔
Darbar Pir Qadir Ali Shah r.a
Darbar Pir Qadir Ali Shah r.a
عوام الناس میں اخلاقی اقدار کا شعور پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ انوار وتجلیات سے ان کے قلوب واذہان کو منور کر دیا۔
یہ سفیران ایزدی،درس مساوات دیتے رہے۔اخوت ویگانگت کی تعلیم دیتے رہے۔ان کی تعلیمات متاثر کن اور دلنشیں تھیں۔یہ بندوں کو سرائے فانی کی حقیقت سے آگاہ کرتے تھے۔ اس گلشن عارضی کی مصنوعی رنگت اور طلسم رنگ وبو کا پردہ چاک کرتے اپنی دور رس نگاہوں سے نئے افق دریافت کیے اور عوام الناس کو آگاہی بخشی۔اولیاء اللہ نے درویشانہ زندگی بسر کی اور دوسروں کو بھی سادگی کی تلقین کی۔تمام تر عظمتوں کے حامل ہونے کے باوجود انکساری کا پیکر رہے۔بلندیوں پہ بیٹھ کر عاجزی اپنائی۔
ان خدا والوں نے لوگوں کے سامنے علم وعمل کے ذاتی نمونے پیش کیے۔یہ ظاہری وباطنی رموز کے مرد میدان تھے۔علم،عقل،وفا،عشق وزہد کے پیکر تھے۔استغنا وتوکل ایسا کہ شاہی آسائشیں اور دنیاوی نازونعم چھوڑ کر ریگستانوں اور ویرانوں میں چراغ روشن کر دیے لیکن پائے ثبات ایسا کہ جابر وقاہر سلاطین بھی انہیں ہراساں نہ کر سکے۔تزکیہ ء نفس اور مجاہدہء باطن کے ان غازیوں نے اپنے اندر کی دنیا پر فتح پا کر باہر کی دنیا بھی مسخر کر لی۔شاہان عالم ان سے خوف کھاتے لیکن یہ صرف خدا تعالیٰ سے خوف کھاتے تھے ا ور یہی ان کی عظمت،بزرگی اور بلندی کا راز تھا۔
ہندوستان اور دیگر ممالک میں اسلام کی ترویج واشاعت اولیاء وصوفیاء کی مرہون منت ہے جنہوں نے اس بلند مقصد کی خاطر اپنی زندگیاں وقف کر دیں اور علم وعمل کی ایسی روشن مثالیں قائم کیں کہ شاہوں کی تعمیر کردہ سربفلک اور سنگین عمارتیں آج ناپید ہوچکی ہیں مگر ان اولیاء اللہ اور صوفیاء کی یادوں کے چراغ آج بھی روشن ہیں اور زندہء جاوید حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔مردم خیز ضلع منڈی بہاء الدین متبحر علمائ،اولیاء،صوفیاء اور مشائخ اسلام کی سرزمین ہے۔اہلیان ِمنڈی بہاء الدین ہمیشہ سے ان نفوس قدسیہ کے احسان مند اور ان کی تعلیمات پر عمل پیرا رہے ہیں۔
پروفیسر محمد صغیراور کتاب اولیاء منڈی بہاء الدین محمد صغیر صاحب کے آباء واجداد، مَدِیْنَةُالْاَولِیَاء،ملتان شریف کے رہنے والے تھے۔اولیائے کرام اور صوفیائے عظام سے محبت وعقیدت انہیں ورثے میں ملی۔ آپ کے والد حاجی سراج دین مرحوم،منشی محلہ،ضلع منڈی بہاء الدین میں سکونت پذیر ہوئے۔آپ حضرت سیدشاہ شرف الدین عابدی المعروف بوعلی شاہ قلندر پانی پتی کے سلسلہ ء فقرسے وابستہ تھے اور ان کی درگاہ سے فیضان ِطریقت حاصل کیا۔
Gajjan Shareef, Phaliya
Gajjan Shareef, Phaliya
آپ بیری والے بابا معروف ہیں۔ محمد صغیر کی صغرسنی حسن ابدال اورواہ میں بسر ہوئی۔کوہ ِابدال پہ حضرت سید حسن ابدال کاظمی ولی قندہاری کی چلہ گاہ گھر کے سامنے تھی۔صبح وشام زیارت کا شرف نصیب ہوتا۔ قلب ونظر کو کیف وسرور ملتا۔اسی جذب ومستی کے ساتھ علمی مدارج طے ہوتے گئے اور ساتھ ہی ساتھ روحانی منازل کا بھی آغاز ہوا۔جستجوئے علم اور آرزوئے روحانیت نے سرزمین سندھ کا انتخاب کیا۔1963ء میں صوفیاء کی دھرتی پہ قدم رکھے۔
حیدر آباد کے تعلیمی اداروں سے بی اے،بی ایڈ،بی کام،ایم کام اور ایم ایڈ کی اسناد حاصل کیں۔فیصل آباد زرعی یونیورسٹی سے اکتساب علم کیا۔علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد سے ایک درجن سے زائد کورسز کیے۔کراچی،لاہوراور شیخو پورہ سے پوسٹ گریجوایٹ تعلیمی کورسز میں شرکت کی۔ قیام سندھ کے دوران لال شاہباز قلندر،سیدعبداللطیف شاہ کاظمی بھٹائی اورمخدوم نوح ہالہ کی درگاہیں روحانی تسکین کا ذریعہ تھیں۔
بارہا حاضری کا شرف نصیب ہوا۔درگاہ قلندر کے مجاوراور دنیا کے طویل القامت شخص،عالم چنا مرحوم سے راہ ورسم کا آغاز ہوا جو بعد ازاں گہرے مراسم میں بدل گیا۔ اکتساب علم کے بعد ملازمت کا دور شروع ہوا۔ملک کی نامور کمپنیوں میں مدرس ومنتظم کے فرائض سرانجام دیے۔اوراد ووظائف واشغال کے باعث عقد کا موقع نہ مل سکا۔ تمام عمر سیکھنے سکھانے میں گزر گئی۔ کثیر الجہت علم حاصل کیا۔سول ڈیفنس سے وابستہ رہے۔
Pir of Mandi Bahauddin
Pir of Mandi Bahauddin
وسطی پنجاب میںواقع منڈی بہاء الدین کو 1992ء میں ضلع کا درجہ دیا گیا۔یہ علاقہ تاریخی اہمیت کا حامل ہے۔سکندر ِاعظم اور راجہ پورس کی لڑائی ہو یا 1849ء میں سکھوں انگریزوں کے مابین چیلیانوالہ کے مقام پہ لڑی جانے والی خونریزجنگ،یہ زرخیز ومردم خیز علاقہ ہردور کی تاریخ کے صفحات میںاہمیت رکھتا ہے۔جہاںمادی برتری نے اپنا آپ منوایا ہے وہیں روحانیات،الہٰیات اورمابعد الطبیعات میں بھی اہلیان منڈی بہاء الدین اپنے فہم وخرد میں یگانہ نظر آتے ہیں۔اللہ والوں سے عقیدت اور اولیاء وصوفیا ء کا اتباع اس علاقہ کے باسیوں کی گھٹی میں ہے۔دو دریائوں (چناب وجہلم)کے پروں پہ سوار ضلع منڈی بہاء الدین،شریعت وطریقت کے دریائوں سے بھی ہر دور میں فیضیاب ہوتا آیا ہے۔ جگہ جگہ ایمان افروزی کرتے مزارات اور اہل علاقہ میں ان کاحد درجہ احترام اس امر کی تصدیق کرتا ہے۔
ضلع منڈی بہاء الدین کی حدود میں جلوہ فرماان اولیاء اللہ،صوفیاء،پیران طریقت،آستانوں،درگاہوں،درباروںاور روحانی مراکز کے متعلق علمی کاوش کے فقدان کے پیش نظر 2006ء میںمحمدصغیر صاحب نے ایک کتاب مرتب کرنے کا فیصلہ کیا۔تاریخ ِضلع منڈی بہاء الدین اس موضوع پر تشنہ ہے۔اس عنوان پہ آج تک کوئی کتاب نہیں لکھی گئی۔ یہ پہلی کاوش ہے۔ 2006ء سے لے کر تادم تحریر مستعار شدہ سائیکل پر اور اکثر پیدل، ضلع بھر کے کونے کونے میں قائم درباروں، درگاہوں اور آستانوںپہ حاضری دی اور اولیائے کرام کی سیرت وتعلیمات سے متعلق مواد حاصل کرنا شروع کیا۔ گدی نشینوں،متولیوںاور مزارنشینوں کا عدم تعاون،لاعلمی،نارواسلوک اکثر حوصلہ شکنی کا باعث بنا۔فکر اقبال، بیشتر مقامات پہ مجسم نظر آئی۔
قم باذن اللہ کہہ سکتے تھے جو رخصت ہوئے خانقاہوں میں مجاور رہ گئے یا گورکن
ورثے میں ملی ہے انہیں مسند ِارشاد زاغوں کے تصرف میں عقابوں کے نشیمن
ایک جامع کوائف نامہ تیار کرکے ضلع بھر کے مقدس مقامات کے مقتدر ین تک پہنچا دیا گیا۔کہیں وعدے ہوئے،کہیں ٹال دیا گیا۔حوصلہ شکنی ہوئی تو کہیں عذرو مجبوری ظاہر کی گئی۔وعدے وفا ہوئے نہ کوائف نامے لوٹائے گئے۔اس کتاب کے مندرجات انتہائی عرق ریزی سے تیار کیے گئے ہیں۔مزارات پہ نقش تحریروں،متولیوں اور جاروب کشوں کی حکایات اور قرب وجوار کے علاقوں میں پھیلی داستانوں کی مدد سے کچھ نورانی تذکرے مرتب ہو سکے۔
Piran e Channi Mast Qalandar
Piran e Channi Mast Qalandar
جن کے متعلق کچھ دستیاب نہ ہوا ان کے اسمائے گرامی اور حاضری کی تاریخ درج کردینا فرض سمجھا۔ہر مزار پہ حاضری اور صاحب ِمزار کے متعلقین سے ملاقات کی ایک جامع رپورٹ تیار کی۔بہر کیف یہ مسودہ ترتیب دے کر نذرِ قارئین کرنے میں کس حد تک کامیابی ہوئی یہ فیصلہ اس کتاب کی بنیاد پہ آنے والے نئے ایڈیشنز کو کرنا ہے
پنجابی لوگ
پنجابی لوگ
|
|||||||||||||||||||||
| کل آبادی | |||||||||||||||||||||
|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|
| 120 ملین (تخمینہ) | |||||||||||||||||||||
| خاطر خواہ آبادی والے علاقے | |||||||||||||||||||||
| 81,379,615[1] | |||||||||||||||||||||
| 33,102,477[2] | |||||||||||||||||||||
| 2,300,000[3] | |||||||||||||||||||||
| 800,000[4] | |||||||||||||||||||||
| 720,000 | |||||||||||||||||||||
| 640,000 | |||||||||||||||||||||
| 620,000 | |||||||||||||||||||||
| 560,000 | |||||||||||||||||||||
| زبانیں | |||||||||||||||||||||
| • پنجابی • | |||||||||||||||||||||
| مذہب | |||||||||||||||||||||
دیگر |
|||||||||||||||||||||
| متعلقہ نسلی گروہ | |||||||||||||||||||||
| سرائیکی • کشمیری • ہندکو • گجراتی • راجستھانی | |||||||||||||||||||||
پنجابی لوگ (پنجابی:پنجابی لوک) خطۂ پنجاب جو کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان موجود ہے، سے ایک نسلی گروہ ہے۔ پاکستان میں صوبہ پنجاب میں آباد ہیں جبکہ بھارت میں بھی بھارتی ریاست پنجاب میں آباد ہیں۔ ان کی مادری زبان پنجابی ہے جبکہ اس کے علاوہ انگریزی،اردو،سرائیکی،پشتو اور پوٹھوہاری وغیرہ کو بطور دوسری زبان استعمال کرتے ہیں۔اب اور بھی گروہ بن گئے ہیں (جیسے سرائیکی،وغیرہ) وہ بھی پنجابی نسلی گروہ کی ہی ایک قسم ہے جن کا زمین فاصلے کے ساتھ ساتھ لہجہ بدل گیا ہے۔
محل وقوع
پنجابی لوگ اصل میں خطہ پنجاب میں آباد ہیں۔ پنجاب کا مطلب پانچ دریاؤں کا خطہ۔ مقامی پنجابی آبادی اس وقت بطور مقدر ابھری جب اٹھارویں صدی میں رنجیت سنگھ نے پہلی مرتبہ پنجاب اعظم کا بنیاد رکھا جس میں موجودہ پاکستانی پنجاب،بھارتی پنجاب،پورا آزاد کشمیر اور موجودہ خیبر پختونخوا شامل ہیں یہ سارے علاقے پنجاب میں شمار ہوتے تھے۔
پنجابی لوگ مشرق میں میں بھارتی ریاست ہماچل پردیش،ہریانہ اور راجستھان سے لے کر مغرب میں پاکستانی صوبے خیبر پختونخوا تک جبکہ شمال میں جموں و کشمیر سے لے کر جنوب میں سندھ تک آباد ہیں۔
پاکستانی پنجابی]
پاکستان میں تقریبا 40 سے 45 فیصد لوگ ہیں جو پنجابی زبان بولتے ہیں۔پاکستان میں پنجابی آبادی دو اہم گروہ میں منقسم سمجھی جاتی ہے ، زمیندار اور قوم۔ زمیندار اصل میں ان پنجابیوں کو کہا جاتا ہے جو زراعت اور کاشتکاری سے منسلک ہوتے ہیں۔زمیندار گروہ مزید راجپوت، جٹ،شیخ،گوجر،گاکخر،ڈوگر اور رحمانی میں منقسم کیا گیا ہے۔پاکستان میں پنجابی اکثریتی آبادی مسلمان ہیں۔
| درجہ | صوبہ | پنجابی متکلمین | فیصد |
|---|---|---|---|
| — | پاکستان | 76,335,300 | 44.15 |
| 1 | پنجاب | 70,671,704 | 75.23 |
| 2 | سندھ | 3,592,261 | 6.99 |
| 3 | وفاقی دارالحکومت،اسلام آباد | 1,343,625 | 71.62 |
| 5 | بلوچستان | 318,745 | 2.52 |
بھارتی پنجابی
![]()
بھارت میں پنجابی مذہبی اعتبار سے دو اہم گروہوں میں تقسیم ہیں، ایک سکھآبادی اور دوسری ہندو آبادی۔ بھارت میں پنجابی آبادی تقریبا 4 فیصد ہے جو تقریبا 3 کروڑ سے زیادہ افراد بنتے ہیں۔
مذہب
پنجابی لوگوں میں سب سے زیادہ دو مذاہب ہیں ،پاکستان میں مقیم پنجابی اکثریتی طور پر مسلمان جبکہ بھارت میں مقیم پنجابی سکھ مذہب کے پیروکار ہیں۔ پنجابی اکثر مسلمان ہیں جو سنی اسلام کے فقہ حنفی پیروکار ہیں
ثقافت
زبان
پنجابی لوگوں کی مادری زبان پنجابی ہے جو ایک ہند یورپی زبان ہے جو کہ باشندگان پنجاب میں مروج ہے۔ پنجابی بولنے والوں میں ہندومت، سکھ مت، اسلام، اور مسیحیت کے پیروکار شامل ہیں۔ اول الذکر مذہب کے علاوہ باقی تینوں مذاہب میں اس زبان کو خاص حیثیت حاصل رہی ہے۔ پاکستان اور بھارت میں کیے گیے مردم شماریوں کے مطابق دنیا میں پنجابی بولنے والوں کی تعدا 14-15کروڑ سے زائد ہے ۔اس کے علاوہ اردو،ہندی اور انگریزی بطور دوسری زبان استعمال کرتے ہیں۔
پنجابی ثقافتی کھانا
پنجاب میں تندوری کھانے زیادہ عام ہیں۔ پنجابی ثقافتی کھانوں میں مرغ تکہ،آلو گوبی،پراٹھا،دیسی لسی ، تندوری چکن،زیرہ چاول،پنجیری، تڑکہ دال،سیویاں،گاجر حلوہ ،اچار گوشت اور پنیر شامل ہیں
رقص
پنجاب میں بہت سے ثقافتی رقص معموم ہیں جن میں سب سے معروف رقص بھنگڑا ہے جو مختلف تقریبات اور تہوار میں کیا جاتا ہے۔ دیگر درج ذیل ہیں:
- بھنگڑا
- سمی
- گِددھا
- ککلی
- جھومر
- ڈنڈاس
- جگنی
پنجابی بلحاظ ملک
| درجہ | ملک | آبادی |
|---|---|---|
| 1 | 81,379,615 | |
| 2 | 33,109,672 | |
| 3 | 2,300,000 | |
| 4 | 800,000 | |
| 5 | 720,000 | |
| 6 | 640,000 | |
| 7 | 620,000 | |
| 8 | 620,000 | |
| 9 | 260,000 | |
| 10 | 185,000 | |
| 11 | 140,000 | |
| 12 | 120,000 | |
| 13 | 90,000 | |
| 14 | 80,000 | |
| 15 | 75,000 | |
| 16 | 75,000 | |
| 17 | 70,000 | |
| 18 | 70,000 | |
| 19 | 68,000 | |
| 20 | 65,000 | |
| 21 | 60,000 | |
| 22 | 55,000 | |
| 23 | 45,000 | |
| 24 | 40,000 | |
| 25 | 25,000 | |
| 26 | 15,000 |
اعوان برادری کے بارے میں تفصیل جانیں
اعوان اکثر انصار کے ساتھ استعمال ہوتا ہے۔ اعوان ایک قوم کا نام جو جنوبی ایشیا میں، پاکستان کے پنجاب کے مغربی حصوں میں ایک قبیلہ ہے. اعوان قوم عربی النسل ہونے کا دعویٰ کرتی ہے کہ وہ چوتھے خلیفہ علی کرم اللہ کی اولاد ہیں. اعوان قوم کا سلسلہ نسب علی بن ابی طالب کرم اللہ وجہہ سے جا ملتا ہے. اعوان قوم کوہ نمک کے علاقے وادی سون سکیسر وغیرہ میں ساتویں صدی عیسوی میں عرب حملہ آوروں کے دور میں یہاں آ ئی تھی. اعوانوں کو کم از کم پاکستان میں سب سے بڑا قبیلہ مانا جاتا ہے جو خیبر سے کراچی و بلوچستان و پنجاب تک میں آباد ہے۔ سندھی‘ بلوچی‘ ہندکو اور پشتو بولنے والے اعوان بھی جگہ جگہ مل جاتے ہیں۔
عون قطب شاہ
اعوان قوم کے جد امجد عون قطب شاہ ایک نہایت درویش، صوفی، دلیر مجاہد انسان تھے۔ آپ کی تاریخ پیدائش کے متعلق وثوق سے کچھ کہنا مشکل ہے، البتہ آپ 525ھ میں تبلیغ اسلام بسلسلہ قادریہ کے لئے بحکم جناب شیخ عبدالقادر جیلانی ہندوستان وارد ہوئے۔
عون قطب شاہ کی ہندوستان آمد کے ساتھ ہی پہلا معرکہ دھن کوٹ کمیلا بھنگ خیل نزد کالا باغ سے ہوا۔ عون قطب شاہ کامیاب ہوئے مخالف نے اسلام قبول کیا بعد میں سکیسر راجگان کو زیر کیا اور گجرات تک چلے گئے۔ واپسی پر تلہ گنگ کے مقام پراعوان محل تیار کیا اس کا تذکرہ آئینہ اکبری میں موجود ہے۔ علاقہ پکھڑ دھن پنڈی وغیرہ سے کافی راجگان بھگوڑے ہو کر سکیسر آئے عون قطب شاہ ان کی سر کوبی کے لئے وارد ہوئے علاقہ کو مطیع کیا جنوب میں خانقاہ ڈوگراں تک چلے گئے، اس کے بعد خاندان کے ہمراہ بغداد عازم سفر ہوئے ۔عون قطب شاہ نے 556ھ میں وفات پائی آپ کا مزار کاظمین شریف کے قبرستان میں غوث پاک کے پاؤں کی جانب ہے۔
گوہر شاہ عرف گورڑا
قطب شاہ جو سلطان محمود غزنوی کے ہمراہ جہاد پر تھے۔ جب سلطان نے واپسی اختیار کی تو سلطان سے اجازت لے کر کفرستان ہند میں تبلیغ اسلام کے ارادے سے کالا باغ میں مقیم ہو گئے۔ مگر گرد و نواح کے راجاؤں نے ان پر حملہ کر دیا۔ مگر فتح قطب شاہ کو ہوئی اور اسلام نے پھیلنا شروع کر دیا۔ کالا باغ میں جو اعوان فیملی ہے اور جس کے مشہور و معروف ممبر ملک امیر محمد خان نواب کالا باغ تھے۔
اعوان خاندان کے پہلے بزرگ وادی سون سکیسر میں داخل ہوئے۔ ان کا نام گرامی گوہر شاہ عرف گورڑا تھا‘ خوشاب سے آنے والی سڑک جب نورے والے کے مقام سے سون کے پہاڑ پر تین میل اوپر چڑھتی ہوئی پہاڑ کے اوپر وادی سون سکیسر کے منہ پر پہنچتی ہے وہاں ایک مقام ہے جسے دادا گورڑا کہتے ہیں کیونکہ وہاں پر دادا گورڑا (گوہر شاہ) نے قیام کیا تھا۔ اور جو بھی شخص اس راستے وادی سے تھل کے علاقے میں اترتا ۔ یا تھل سے اوپر وادی میں داخل ہوتا تھا رسماََ ایک پتھر وہاں پر پھینک دیتا تھا حتی کہ وہاں پتھروں کا ایک ٹیلہ بن گیا تھا۔ بالآخر جب وہاں بسوں کے لئے سڑک کی تعمیر ہوئی تو سڑک بنانے والوں نے اس ٹیلے کا ایک بڑا حصہ ہٹا دیا۔ رفتہ رفتہ اعوان ساری وادی پر قابض ہو گئے اور آج تک وادی سون سکیسر کو اعوانوں کے گڑھ کی حیثیت حاصل ہے
ضلع چکوال میں زیاده اعوان رہتے ہیں ان کا ایک اہم قبیله چکوال کے گاوں کرولی میں رہتا ہے ملک گلزار اعوان اسی گاوں کے قبیلے کے سردار ہیں۔
اعوان پابندیٔ شریعت اور حفظ قرآن حکیم کے لئے مشہور رہے ہیں‘ اعوان قبیلہ نے بے شمار اور بہترین حافظ قرآن پیدا کئے‘ بعض لوگ تصور کرتے ہیں کہ اعوانوں کے علاقہ کو اعوان کاری اسی لئے کہتے ہیں کہ وہاں کے قاری اچھے ہیں. ٹھیک ہے اعوان کاری کے قاری اچھے ہیں لیکن اعوان کاری کے معنی ہیں اعوانوں کی آبادی کا علاقہ۔ (کاری کے معنی بھرپور اور گہرائی کے ہیں جبکہ قاری کے معنی پڑھنے والا ہوتا ہے) بعینہ اسی طرح جس طرح کہ پٹھانوں کے علاقے کو پٹھان ولی کہتے ہیں اور اگرچہ پٹھانوں میں ولی بہت ہوتے ہیں اور بڑے مرتبہ کے ولی ہوتے ہیں لیکن پٹھانوں کے علاقے کو پٹھان ولی کہنے کا مطلب ہے کہ پٹھانوں کی آبادی کا علاقہ ہے ولی اعوانوں میں بھی بے شمار ہوئے ہیں۔ صرف وادی سون سکیسر کے چھوٹے سے علاقے میں چار سلطان العارفین کے مزارات ہیں۔
سلطان انب شریف،
سلطان سخی محمد خوشحال،
سلطان حاجی احمد اوچھالہ اور
سلطان مہدی بھانکہ گاؤں میں،
ان کے علاوہ سلطان العارفین سلطان باہو بھی اعوان قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں ان کے والد ماجد بازید شاہجہان کے زمانے میں موضع انگہ وادی سون سکیسر سے ہجرت کر گئے۔ انگہ مولانا غلام مرشد صاحب اور جناب احمد ندیم قاسمی کا گاؤں ہے۔ اور جہاں پر پیر مہر علی شاہ گولڑوی نے قرآن حکیم کی تعلیم حاصل کی تھی۔ خوشی کی بات یہ ہے کہ اعوان قبیلہ کے لوگ علاقہ سون سکیسر سے ہر طرف پھیل گئے اور وہاں تبلیغ اسلام کا فریضہ انجام دیا حتی کہ خطہ کشمیر بھی اس سعادت سے محروم نہیں ہے۔
بابا گوہر علی شاہ کی اولاد میں بہت ولی اللہ پیدا ہوئے ہیں۔ ان میں بابا جھام آج سے بہت پہلے ایک اعوان گھرانہ موضع کھبیکی علاقہ سون سکیسر میں پیدا ہوئے ۔ آپ ابھی چند مہینوں کے تھے کہ ایک دن آپ کی والدہ ماجدہ کہیں باہر جاتے ہوئے اپنی دو کم سن بیٹیوں کو کہہ گئی کہ گائے کے لئے باجرے کی دو پوری پڑوپیاں اور ایک منی پڑوپی ہنڈیا پر ڈال کر چولہے پر چڑھا دینا۔ بچیاں کھیل میں لگ گئیں اور انہیں یاد نہ رہا کہ والدہ نے کتنے دانے چولھے پر چڑھانے کے لئے کہے تھے ۔ وہ آپس میں ایک دوسرے کو پوچھنے لگیں ۔ ننھا جھام جو پنگھوڑے میں پڑا تھا کہہ اٹھا دو بھریاں ایک منیڑری، یعنی دو پوری پڑوپیاں ایک منی پڑوپی دانے ناپنے کا ایک پیمانہ ہے جو پہلے لکڑی سے بنتا تھا پھر لوہے کا بننے لگا اور دانے ناپنے کے لئے وادی سون سکیسر میں استعمال ہوتا ہے۔ والدہ جب واپس لوٹی تو بچیوں نے کہا اماں یہ ہمارا بھائی تو کوئی بلا ہے اور ماں کو تمام تفصیل سے آگاہ کر دیا ۔ بچے کو کپڑوں میں لپیٹ کر جنگل میں ایک اونچے ٹیلے کے دامن میں ڈال دیا گیا۔ چند روز میں جب اس بات کا چرچا ہوا گاؤں میں عام ہوا تو لوگ بچے کی تلاش میں نکلے دیکھا تو بچہ صحیح سالم پڑا اپنا انگوٹھا منہ میں ڈالے چوس رہا ہے اور انگوٹھے سے دودھ آ رہا ہے اتنے دنوں نہ تو اسے کسی جنگلی جانور نے جو ان دنوں بے شمار پھرتے تھے کچھ کہا نہ اسے بھوک کی کچھ تکلیف ہوئی۔ لوگوں نے جب بچے کو اٹھایا تو بچے نے برجستہ کہا۔ اپنیاں کڑمتیں جھام ڈھبے اتے سٹیں۔ یعنی اپنی کرامات نے جھام کو ٹیلے پر پھینکوایا۔ یہ ٹیلہ اب بھی موضع کھبکی کے شمال میں کھڑا ہے اور اب بھی اس کو جھامے والا ڈھبہ کہتے ہیں۔ بابا جھام کی قبر بھی اسی ٹیلے پر واقع ہے۔[4]
بابا نڈھا بابا جھام کے والد محترم تھے۔ ان کی ایک بیٹی کالا باغی اعوانوں کے خاندان میں بیاہی ہوئی تھی۔ جھیل کھبکی بابا نڈھا کی ملکیت تھی۔ اس جھیل میں اس وقت پانی نہ تھا۔ اور اس رقبے میں کاشت کاری ہوتی تھی۔ ایسی قابل کاشت زمین پاکستان بھر میں نہیں اور اس کو کہار کہا جاتا ہے۔ اور اس کی مکئی کا ہر طرف چرچا تھا۔ بابا نڈھا کی مذکورہ بیٹی نے چاہا کہ بابا نڈھا کچھ زمین اس کہار میں سے اس کے نام کردیں تاکہ اس میں مکئی کی فصل اگائی جا سکے۔ بابا نڈھا کا جواب تھا بیٹی مکئی کی ہر فصل پر میں یہاں سے مکئی سے لدا ہوا جانوروں کا قافلہ کالا باغ تک چلاؤں گا مگر کہار کی زمین دینے سے معذور ہوں ۔ میراثی نے جو جس (شعر) بابا نڈھا کی شان میں پڑھا تھا اسکا ایک بند تاریخ میں اؔ گیا ہے۔ اور وہ یوں ہے :۔
نڈھے مونہیاں ماریاں کھڑڈنڈے اٹی
سیر نہ دیندا مانگویں کہاروں مٹی
یعنی نڈھے نے شمشیر زنی کے بڑے بڑے معرکے مارے لیکن کہار کی زمین سے مانگنے والے کو ایک سیر مٹی بھی نہیں دیتا۔
بابا گوہر علی شاہ کی اولاد سے موضع کھبکی میں ایک سردار خان بلاقی اعوان تھا۔ خان بلاقی کا ایک بھائی دریا خان تھا۔ ایک روز خان بلاقی کو کوئی ضروری کام کٹھہ گاؤں میں پڑ گیا۔ اوروہ گھوڑے پرسوار ہو کر چل پڑا اور اپنے بھائی دریا خان کو ساتھ لے لیا۔ کھبکی سے کٹھہ کا سفر پندرہ میل نہایت ہی دشوار گذار اور نوکیلے پتھروں والا ہے ملک دریاخان گھوڑے کے آگے آگے چل رہا تھا اور ملک دریا خان کے پاؤں میں جوتے نہ تھے وہ نوکیلے پتھروں میں ننگے پاؤں گھوڑے کے آگے آگے بھاگ رہاتھا۔ کٹھہ گاؤں پہنچ کر خان بلاقی نے وہاں کے سردار سے جو کچھ کہنا سننا تھا وہ کہاسنااور فوری واپسی اختیار کر لی۔ ملک دریا خان حسب معمول گھوڑے کے آگے اّگے بھاگتا رہا گھر پہنچ کر تھکے ماندے خان بلاقی نے کچھ دیر کے لئے اّۤنکھ موند لی اور یوں سستا کراٹھااور مسجد میں پہنچا ۔اس کامعمول تھا کہ رات کے پچھلے پہر مسجد کے گوشے میں بیٹھ کر یاد الہی کرتا تھا۔ اس رات جب وہ مسجد کے اندر داخل ہوا تو وہ کسی ذی روح کی سانس کی آواز سن کر ٹھٹھکا سانس کی آواز مسجد کے اسی گوشے سے اّرہی تھی جس میں وہ بیٹھ کر یاد الہی کرتا تھا۔ کچھ دیر کے لئے وہ خاموش کھڑا رہا ۔ پھر پوچھا کون ہے؟ جواب میں ایک مضحمل سی اّۤواز اۤئی ۔ جی میں دریا ہوں۔ خان بلاقی نے یہ سن کر کہاکہ اۤپ نے سرداری لے لی ہے مگر پانے زور سے۔ اور پھر واپس مڑا اور چلا گیا۔ بات دراصل یہ تھی کہ ملک دریا خان کے پاؤں لہو لہان ہو گئے تھے وہ تھکاوٹ سے چور چور ہوچکا تھا۔ اور اس سے بھی بڑھ کر اس کو یہ صدمہ تھا کہ راستہ بھر تک خان بلاقی نے یہ نہ کہاکہ اب میں کچھ دور تک پیدل چلوں گا اور تم گھوڑے پر سوار کر لوں ۔ اس بات کا صدمہ اسے اتنا شدید ہوا کہ تھکن کے باوجود گھر نہیں گیا بلکہ سیدھا مسجد میں گیا اور اسی کونے میں بیٹھ گیا جس میں خان بلاقی بیٹھا کرتا تھا۔ خان بلاقی فوراً بات کی تہہ تک پہنچ گیا۔ اور اپنی لاپرواہی کے پیش نظر اس کے ضمیر نے اس کو جھنجھوڑ ڈالا اور وہ اپنی لغزش کو دیکھ کر کانپ گیا اور اس نے سمجھ لیا کہ سرداری اب اس سے چھن جائے گی۔ اور ملک دریا خان کی نسل میں منتقل ہو جائے گی۔ اس کی یہ فراست حرف بہ حرف صحیح ثابت ہوئی۔ جب بھی وہ صبح کی نماز کے بعد مسجد سے گھر آتا اور دیکھتا کہ اس کے بیٹے سو رہے ہیں اور نوکر ان کو دھوپ سے بچانے کے لئے چادریں تان رہے ہیں تووہ کہتا ۔ بیٹو سو لو۔ بس تمہارے تھوڑے دن باقی ہیں یعنی سرداری کی عزت تم سے جلدی چھن جائے گی اور پھر ایسا ہی ہوا۔

Chak Alam چک عالم
Chak Alam چک عالم
عظمت الله گوندل، احسان اللہ گوندل
Azmatullahaji@gmail.com ، ihsangondal4@gmail.com
00923441118090 , 03447546900
Introduction:
Chak Alam چک عالم is a small village in tehsil Phalia, district Mandi Bahauddin Mandi Bahauddin. Chak Alam has about 1,000 registered votes. In 2016, its total population was 1,400. The main occupation of the people is agriculture.
Main casts: اہم ذاتیں
The village of Chak Alam has only gondals.
Crops of village: گائوں کی اہم فصلیں
By the way, there are many crops in the village but
- Wheat
- Paddy
- Sugarcane
- Sesame
- Cotton
are widely cultivated here.
Nearby villages: گائوں کے قریبی دیہات
- Jund Bosal
- Rerka Bala
چک عالم اک چهوٹا سا گاؤں هے۔ چک عالم کے تیقریبا 1000 رجسٹر ووٹ ہیں۔ سال 2016 میں اس کی کل ابادی 1400 هے۔ لوگوں کا اہم پیشہ زراعت ہے۔
گاؤں کی مشہور اور تعليم يافتہ شخصيات
حاجی باطی خاں گوندل
حاجی عارف مشتاق گوندل
اکبر نزیر گوندل
ڈاکٹر سعی محمد گوندل
چوہدری عمر حیات نمبردار
چوہدری محمد انار گوندل
ڈاکر سعی محمد گوندل
فتح محمد گوندل کرمانہ
عارف مشتاق گوندل
حاجی باطی خاں
محمد اکبر گوندل
محمد زبیر ہرل
محمد اصغر بخت کا
محمد اشرف سماہل کا
فیض گوندل غلام کا
دوست محمد نریانہ
حاجی اصغر علی گوندل کرمانہ
حافظ محمد رفیق صاحب ہرل
احسان اللہ گوندل (ایم اے بی ایڈ)
جنید حسن گوندل
محمد عباس گوندل کرمانہ
سلیم اختر گوندل
حافظ عون علی گوندل
ظفر اقبال قادری صاحب
امان اللہ گوندل
عظمت اللہ گوندل
محمد نواز گوندل (بخت کا)
محمد اعجاز گوندل (بخت کا)
محمد اکرام گوندل (بخت کا)
حاجی باطی گوندل ( دائم کا)
حاجی منشاء گوندل
خرم شہزاد گوندل کرمانہ
محمد اعجاز گوندل کرمانہ
حسن عباس گوندل نریانہ
محمد نصر اقبال گوندل کرمانہ
گاوں کی اہم ذاتیں،گاوں کی اہم فصلیں یا کوئی اور اہم چیز
گاؤں چک عالم میں صرف گوندل ﺫات هے.
ویسے تو گاؤں میں بهت ساری فصلیں هیں لیکن یہاں گندم,دھان,کماد,تل,کپاس,وسیع پیمانے پر کاشت کی جاتی ہے۔
گاؤں کے قريبی ديھات
جنڈ بوسال
حصوآنه
May Allah Bless This Village (AAMEEN)
عظمت الله گوندل، احسان اللہ گوندل
Azmatullahaji@gmail.com ، ihsangondal4@gmail.com
00923441118090 , 03447546900
































